قومی زبان

شام کا منظر الجھا رستہ ایک کہانی تو اور میں

شام کا منظر الجھا رستہ ایک کہانی تو اور میں ڈھلتا سورج بڑھتا سایہ کشتی رانی تو اور میں بند اک کمرہ چپ کا منظر بھولی بسری دیپک یاد تنہائی دکھ خوف کی لذت دلبر جانی تو اور میں تتلی خوشبو رنگ کی باتیں شبنم سے شرمیلے خواب آس کا پنچھی گم سم خواہش رات کی رانی تو اور میں پلکیں چلمن ...

مزید پڑھیے

وہ عرض غم پہ مشورۂ اختصار دے

وہ عرض غم پہ مشورۂ اختصار دے کوزے میں کیسے کوئی سمندر اتار دے دنیا ہو آخرت ہو وہ سب کو سنوار دے توفیق عشق جس کو بھی پروردگار دے پھر دعوت کرم نگہ شعلہ بار دے اللہ مستقل مجھے صبر و قرار دے جس پھول کا بھی دیکھیے دامن ہے تار تار کتنا بڑا سبق ہمیں فصل بہار دے درد جگر شکستہ دلی بے ...

مزید پڑھیے

ترے چاند جیسے رخ پر یہ نشان درد کیوں ہیں

ترے چاند جیسے رخ پر یہ نشان درد کیوں ہیں ترے سرخ عارضوں کے یہ گلاب زرد کیوں ہیں تجھے کیا ہوا ہے آخر مجھے کم سے کم بتا تو تری سانس تیز کیوں ہے ترے ہاتھ سرد کیوں ہیں تجھے ناپسند جو تھے وہی بے وقار رہتے جو عزیز تھے تجھے وہ ترے در کی گرد کیوں ہیں وہ کتاب لاؤ جس میں ہے بیان شان ...

مزید پڑھیے

میں نقش ہائے خون وفا چھوڑ جاؤں گا

میں نقش ہائے خون وفا چھوڑ جاؤں گا یعنی کہ راز رنگ حنا چھوڑ جاؤں گا تو آنے والے کل کے لئے کیوں ہے فکر مند تیرے لئے میں اپنی دعا چھوڑ جاؤں گا تیرے خلاف کوئی نہ کھولے کبھی زباں تیری نگاہ میں وہ نشہ چھوڑ جاؤں گا آ جائیے گا شوق سے بے بے چین جب ہو دل دروازہ اپنے گھر کا کھلا چھوڑ جاؤں ...

مزید پڑھیے

وقت آخر جو بالیں پر آجائیو

وقت آخر جو بالیں پر آجائیو یاد رکھیو بہت نیکیاں پائیو میرے لائق جو ہو مجھ کو بتلائیو جان حاضر ہے کچھ اور فرمائیو ایک ڈر مجھ کو عرض تمنا میں ہے تم پسینے پسینے نہ ہو جائیو ہم دعا امن کی مانگتے ہیں مگر آپ بھی اپنی پائل کو سمجھائیو ہم کو بھی کچھ لکیروں کی پہچان ہے آپ اپنی ہتھیلی ...

مزید پڑھیے

دیتی ہیں تھپکیاں تری پرچھائیاں مجھے

دیتی ہیں تھپکیاں تری پرچھائیاں مجھے رشک بہشت ہیں مری تنہائیاں مجھے میرے نصیب میں سہی آہ و فغاں مگر اب تو سنائی دیتی ہیں شہنائیاں مجھے کتنے عروج پر ہے مرے عشق کا وقار حاصل ہیں کوئے یار کی رسوائیاں مجھے مائل ہے چشم مست ادھر لگ رہا ہے اب آواز دیں گی جھیل کی گہرائیاں مجھے قائم ...

مزید پڑھیے

گردش مئے کا اس پر نہ ہوگا اثر مست آنکھوں کا جادو جسے یاد ہے

گردش مئے کا اس پر نہ ہوگا اثر مست آنکھوں کا جادو جسے یاد ہے وہ نسیم گلستاں سے بہلے گا کیا تیرے آنچل کی خوشبو جسے یاد ہے تشنگی کی وہ شدت کو بھولے گا کیا دھوپ کی وہ تمازت کو بھولے گا کیا تیری بے فیض آنکھیں جسے یاد ہیں تیرا بے سایہ گیسو جسے یاد ہے کوئی ممتاز ہے اور نہ شاہ جہاں سوز ...

مزید پڑھیے

خزاں کی زرد سی رنگت بدل بھی سکتی ہے

خزاں کی زرد سی رنگت بدل بھی سکتی ہے بہار آنے کی صورت نکل بھی سکتی ہے جلا کے شمع اب اٹھ اٹھ کے دیکھنا چھوڑو وہ ذمہ داری سے از خود پگھل بھی سکتی ہے ہے شرط صبح کے رستے سے ہو کے شام آئے تو رات اس کو سحر میں بدل بھی سکتی ہے ذرا سنبھل کے جلانا عقیدتوں کے چراغ بھڑک نہ جائیں کہ مسند یہ جل ...

مزید پڑھیے

زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے

زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپا لی میں نے جب زمیں ریت کی مانند سرکتی پائی آسماں تھام لیا جان بچا لی میں نے اپنے سورج کی تمازت کا بھرم رکھنے کو نرم چھاؤں میں کڑی دھوپ ملا لی میں نے مرحلہ کوئی جدائی کا جو درپیش ہوا تو تبسم کی ردا غم کو اوڑھا لی میں ...

مزید پڑھیے

میں ان کو کبھی حد سے گزرنے نہیں دوں گا

میں ان کو کبھی حد سے گزرنے نہیں دوں گا اس ترک تعلق کو میں چلنے نہیں دوں گا تم لاکھ اچھالا کرو الفاظ کے شعلے فردوس محبت کو میں جلنے نہیں دوں گا کرنا ہی پڑے چاہے صبا سے مجھے سازش میں آپ کے گیسو کو سنورنے نہیں دوں گا مایوس نگاہوں سے تم آئینہ نہ دیکھو میں اپنی نگاہوں کو بدلنے نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5343 سے 6203