ذرۂ ناتپیدہ کی خواہش آفتاب کیا
ذرۂ ناتپیدہ کی خواہش آفتاب کیا نغمۂ ناشنیدہ کا حوصلۂ رباب کیا عمر کا دل ہے مضمحل زیست ہے درد مستقل ایسے نظام دہر میں وسوسۂ عذاب کیا نغمہ بہ لب ہیں کیاریاں رقص میں ذرہ تپاں سن لیا کشت خشک نے زمزمۂ سحاب کیا چہرۂ شب دمک اٹھا سرخ شفق جھلک اٹھی وقت طلوع کہہ گیا جانے آفتاب ...