قومی زبان

ذرۂ ناتپیدہ کی خواہش آفتاب کیا

ذرۂ ناتپیدہ کی خواہش آفتاب کیا نغمۂ ناشنیدہ کا حوصلۂ رباب کیا عمر کا دل ہے مضمحل زیست ہے درد مستقل ایسے نظام دہر میں وسوسۂ عذاب کیا نغمہ بہ لب ہیں کیاریاں رقص میں ذرہ تپاں سن لیا کشت خشک نے زمزمۂ سحاب کیا چہرۂ شب دمک اٹھا سرخ شفق جھلک اٹھی وقت طلوع کہہ گیا جانے آفتاب ...

مزید پڑھیے

اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے

اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے اب ہم بھی داخل صف اغیار ہو گئے جس درد کو سمجھتے تھے ہم ان کا فیض خاص اس درد کے بھی لاکھ خریدار ہو گئے جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے ہر وعدہ جیسے حرف غلط تھا سراب تھا ہم تو نثار جرأت انکار ہو گئے سرسبز پتیوں کا ...

مزید پڑھیے

ہم سفر گم راستے ناپید گھبراتا ہوں میں

ہم سفر گم راستے ناپید گھبراتا ہوں میں اک بیاباں در بیاباں ہے جدھر جاتا ہوں میں بزم فکر و ہوش ہو یا محفل عیش و نشاط ہر جگہ سے چند نشتر چند غم لاتا ہوں میں آ گئی اے نامرادی وہ بھی منزل آ گئی مجھ کو کیا سمجھائیں گے وہ ان کو سمجھاتا ہوں میں ان کے لب پر ہے جو ہلکے سے تبسم کی جھلک اس ...

مزید پڑھیے

اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے

اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے اب ہم بھی داخل صف اغیار ہو گئے جس درد کو سمجھتے تھے ہم ان کا فیض خاص اس درد کے بھی لاکھ خریدار ہو گئے جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے ساقی کے اک اشارے نے کیا سحر کر دیا ہم بھی شکار اندک و بسیار ہو گئے اب ان لبوں میں ...

مزید پڑھیے

نیند آ گئی تھی منزل عرفاں سے گزر کے

نیند آ گئی تھی منزل عرفاں سے گزر کے چونکے ہیں ہم اب سرحد عصیاں سے گزر کے آنکھوں میں لیے جلوۂ نیرنگ تماشا آئی ہے خزاں جشن بہاراں سے گزر کے یادوں کے جواں قافلے آتے ہی رہیں گے سرما کے اسی برگ پرافشاں سے گزر کے کانٹوں کو بھی اب باد صبا چھیڑ رہی ہے پھولوں کے حسیں چاک گریباں سے گزر ...

مزید پڑھیے

گلوں کی چاہ میں توہین برگ و بار نہ کر

گلوں کی چاہ میں توہین برگ و بار نہ کر بھرے چمن میں یہ سامان انتشار نہ کر خزاں ریاض چمن ہے خزاں گداز چمن خزاں کا ڈر ہو تو پھر خواہش بہار نہ کر بس ایک دل ہے یہاں واقف نشیب و فراز وفا کی راہ میں رہبر کا انتظار نہ کر ہجوم غم میں تبسم کا کھیل دیکھ لیا میں کہہ رہا تھا مرے غم کا اعتبار ...

مزید پڑھیے

منزل دل ملی کہاں ختم سفر کے بعد بھی

منزل دل ملی کہاں ختم سفر کے بعد بھی رہ گزر ایک اور تھی راہ گزر کے بعد بھی آج ترے سوال پر پھر مرے لب خموش ہیں ایسی ہی کشمکش تھی کچھ پہلی نظر کے بعد بھی دل میں تھے لاکھ وسوسے جلوۂ آفتاب تک رہ گئی تھی جو تیرگی نور سحر کے بعد بھی ناصح مصلحت نواز تجھ کو بتاؤں کیا یہ راز حوصلۂ نگاہ ہے ...

مزید پڑھیے

تیرے ہلکے سے تبسم کا اشارا بھی تو ہو

تیرے ہلکے سے تبسم کا اشارا بھی تو ہو تا سر دار پہنچنے کا سہارا بھی تو ہو شکوہ و طنز سے بھی کام نکل جاتے ہیں غیرت عشق کو لیکن یہ گوارا بھی تو ہو مے کشوں میں نہ سہی تشنہ لبوں میں ہی سہی کوئی گوشہ تری محفل میں ہمارا بھی تو ہو کس طرف موڑ دیں ٹوٹی ہوئی کشتی اپنی ایسے طوفاں میں کہیں ...

مزید پڑھیے

دل مضطر مجھے اک بات بتا سکتا ہے

دل مضطر مجھے اک بات بتا سکتا ہے تو کسی طور مجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے یہ تری بھول ہے میں تیرے سبب زندہ ہوں مجھ سا ضدی تو بدن توڑ کے جا سکتا ہے جس نے اس خاک کے انسان کو عزت دی ہے وہی اس خاک کو مٹی میں ملا سکتا ہے تو مرے ساتھ تو ہے پھر بھی مرے ساتھ نہیں اس سے بڑھ کر بھی مجھے کوئی ستا ...

مزید پڑھیے

جو نفرتوں کا جمال ٹھہرا

جو نفرتوں کا جمال ٹھہرا محبتوں کا زوال ٹھہرا نہ آنکھ روئی نہ دل پسیجا تمہارا جانا کمال ٹھہرا تمہاری یادیں جہاں بھی ٹھہریں وہیں پہ دل میں ملال ٹھہرا جواب کیونکر دلیل کس کو ہمارے لب پہ سوال ٹھہرا جو ہم نے سوچا تھا عشق ہوگا فقط ہمارا خیال ٹھہرا وہ سن کے چپ ہیں کہانی اپنی یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5337 سے 6203