قومی زبان

راہ الفت میں ملے ایسے بھی دیوانے مجھے

راہ الفت میں ملے ایسے بھی دیوانے مجھے جو مآل دوستی آئے تھے سمجھانے مجھے عشق کی ہلکی سی پہلی آنچ ہی میں جل بجھے کیا بھلا درس وفا دیں گے یہ پروانے مجھے یہ تو کہئے بے خودی سے مل گئی کچھ آگہی ورنہ دھوکا دے دیا تھا چشم بینا نے مجھے نامرادی لوٹ ہی لیتی متاع آرزو اک سہارا دے دیا احساس ...

مزید پڑھیے

مستی گام بھی تھی غفلت انجام کے ساتھ

مستی گام بھی تھی غفلت انجام کے ساتھ دو گھڑی کھیل لیے گردش ایام کے ساتھ تشنہ لب رہنے پہ بھی ساکھ تو تھی شان تو تھی وضع رندانہ گئی اک طلب جام کے ساتھ جب سے ہنگام سفر اشکوں کے تارے چمکے تلخیاں ہو گئیں وابستہ ہر اک شام کے ساتھ اب نہ وہ شورش رفتار نہ وہ جوش جنوں ہم کہاں پھنس گئے ...

مزید پڑھیے

کم ظرف احتیاط کی منزل سے آئے ہیں

کم ظرف احتیاط کی منزل سے آئے ہیں ہم زندگی کے جادۂ مشکل سے آئے ہیں گرداب محو رقص ہے طوفان محو جوش کچھ لوگ شوق موج میں ساحل سے آئے ہیں یہ وضع ضبط شوق کہ دل جل بجھا مگر شکوے زباں پہ آج بھی مشکل سے آئے ہیں آنکھوں کا سوز دل کی کسک تو نئیں ملی مانا کہ آپ بھی اسی محفل سے آئے ہیں یہ قشقۂ ...

مزید پڑھیے

غیر پوچھیں بھی تو ہم کیا اپنا افسانہ کہیں

غیر پوچھیں بھی تو ہم کیا اپنا افسانہ کہیں اب تو ہم وہ ہیں جسے اپنے بھی بیگانہ کہیں وہ بھی وقت آیا کہ دل میں یہ خیال آنے لگا آج ان سے ہم غم دوراں کا افسانہ کہیں کیا پکارے جائیں گے ہم ایسے دیوانے وہاں ہوش مندوں کو بھی جس محفل میں دیوانہ کہیں شب کے آخر ہوتے ہوتے دونوں ہی جب جل ...

مزید پڑھیے

دین و دل پہلی ہی منزل میں یہاں کام آئے

دین و دل پہلی ہی منزل میں یہاں کام آئے اور ہم راہ وفا میں کوئی دو گام آئے تم کہو اہل خرد عشق میں کیا کیا بیتی ہم تو اس راہ میں ناواقف انجام آئے لذت درد ملی عشرت احساس ملی کون کہتا ہے ہم اس بزم سے ناکام آئے وہ بھی کیا دن تھے کہ اک قطرۂ مے بھی نہ ملا آج آئے تو کئی بار کئی جام آئے اک ...

مزید پڑھیے

اف وہ اک حرف تمنا جو ہمارے دل میں تھا

اف وہ اک حرف تمنا جو ہمارے دل میں تھا ایک طوفاں تھا کہ برسوں حسرت ساحل میں تھا رفتہ رفتہ ہر تماشا آنسوؤں میں ڈھل گیا جانے کیا آنکھوں نے دیکھا اور کیا منزل میں تھا داستان غم سے لاکھوں داستانیں بن گئی پھر بھی وہ اک راز سر بستہ رہا جو دل میں تھا چشم ساقی کے علاوہ جام خالی کے ...

مزید پڑھیے

جوانی حریف ستم ہے تو کیا غم

جوانی حریف ستم ہے تو کیا غم تغیر ہی اگلا قدم ہے تو کیا غم ہر اک شے ہے فانی تو یہ غم بھی فانی مری آنکھ گر آج نم ہے تو کیا غم مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم خوشی کچھ ترے ہی لیے تو نہیں ہے اگر حق مرا آج کم ہے تو کیا غم مرے خوں پسینے سے گلشن بنیں ...

مزید پڑھیے

اہل ظاہر کو فن جلوہ گری نے مارا

اہل ظاہر کو فن جلوہ گری نے مارا اہل باطن کو توانا نظری نے مارا تلخ تھی موت مگر زیست سے شیریں تر تھی اس سے پوچھو جسے بے بال و پری نے مارا مندمل ہوتے ہوئے زخم ہرے ہونے لگے سائے سائے میں تری ہم سفری نے مارا دشت غربت کے شب و روز کی لذت نہ ملی سر وطن میں بھی بہت در بہ دری نے مارا عشق ...

مزید پڑھیے

خلائے فکر کا احساس ارض فن سے ملا

خلائے فکر کا احساس ارض فن سے ملا برہنگی میں نیا لطف پیرہن سے ملا قدم قدم پہ اگے زخم آرزو بھی ہزار ہزار رنگ تماشا بھی اس چمن سے ملا بڑھا کے ہاتھ کہیں الجھنیں ہی چھین نہ لیں وہ جام بھی جو مجھے شام انجمن سے ملا سحر کو بے کھلی کلیوں میں ڈھونڈھتی ہے کرن جو لطف جلوہ لجائی ہوئی دلہن سے ...

مزید پڑھیے

عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے

عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے زندگی اک حسین سنگم ہے جام میں ہے جو مشعل گل رنگ تیری آنکھوں کا عکس مبہم ہے اے غم دہر کے گرفتارو عیش بھی سرنوشت آدم ہے نوک مژگاں پہ یاد کا آنسو موسم گل کی سرد شبنم ہے درد دل میں کمی ہوئی ہے کہیں تم نے پوچھا تو کہہ دیا کم ہے مٹتی جاتی ہے بنتی جاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5336 سے 6203