قومی زبان

عقیدے بجھ رہے ہیں شمع جاں گل ہوتی جاتی ہے (ردیف .. ی)

عقیدے بجھ رہے ہیں شمع جاں گل ہوتی جاتی ہے مگر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم کس کس کے لہو کی لالہ کاری ہے زمین کوئے جاناں آج پہچانی نہیں جاتی اگر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقیں محکم ہے لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہو گیا ...

مزید پڑھیے

ظلم کی کچھ میعاد نہیں ہے

ظلم کی کچھ میعاد نہیں ہے داد نہیں فریاد نہیں ہے قتل ہوئے ہیں اب تک کتنے کوئے ستم کو یاد نہیں ہے آخر روئیں کس کو کس کو کون ہے جو برباد نہیں ہے قید چمن بھی بن جاتا ہے مرغ چمن آزاد نہیں ہے لطف ہی کیا گر اپنے مقابل سطوت برق‌ و باد نہیں ہے سب ہوں شاداں سب ہوں خنداں تنہا کوئی شاد ...

مزید پڑھیے

وہی ہے وحشت وہی ہے نفرت آخر اس کا کیا ہے سبب

وہی ہے وحشت وہی ہے نفرت آخر اس کا کیا ہے سبب انساں انساں بہت رٹا ہے انساں انساں بنے گا کب وید اپنیشد پرزے پرزے گیتا قرآں ورق ورق رام و کرشن و گوتم و یزداں زخم رسیدہ سب کے سب اب تک ایسا ملا نہ کوئی دل کی پیاس بجھاتا جو یوں میخانہ چشم بہت ہیں بہت ہیں یوں تو ساقی لب جس کی تیغ ہے دنیا ...

مزید پڑھیے

شمع کا مے کا شفق زار کا گلزار کا رنگ

شمع کا مے کا شفق زار کا گلزار کا رنگ سب ہیں اور سب سے جدا ہے لب دیدار کا رنگ عکس ساقی سے چمک اٹھی ہے ساغر کی جبیں اور کچھ تیز ہوا بادۂ گلنار کا رنگ شیخ میں ہمت رندان قدح خوار کہاں ایک ہی جام میں آشفتہ ہے دستار کا رنگ ان کے آنے کو چھپاؤں تو چھپاؤں کیوں کر بدلا بدلا سا ہے میرے در و ...

مزید پڑھیے

اب آ گیا ہے جہاں میں تو مسکراتا جا

اب آ گیا ہے جہاں میں تو مسکراتا جا چمن کے پھول دلوں کے کنول کھلاتا جا عدم حیات سے پہلے عدم حیات کے بعد یہ ایک پل ہے اسے جاوداں بناتا جا بھٹک رہی ہے اندھیرے میں زندگی کی برات کوئی چراغ سر رہ گزر جلاتا جا گزر چمن سے مثال نسیم صبح بہار گلوں کو چھیڑ کے کانٹوں کو گدگداتا جا رہ دراز ...

مزید پڑھیے

فصل گل فصل خزاں جو بھی ہو خوش دل رہیے

فصل گل فصل خزاں جو بھی ہو خوش دل رہیے کوئی موسم ہو ہر اک رنگ میں کامل رہیے موج و گرداب و تلاطم کا تقاضا ہے کچھ اور رہیے محتاط تو بس تا لب ساحل رہیے دیکھتے رہیے کہ ہو جائے نہ کم شان جنوں آئنہ بن کے خود اپنے ہی مقابل رہیے ان کی نظروں کے سوا سب کی نگاہیں اٹھیں محفل یار میں بھی زینت ...

مزید پڑھیے

کتنی آشاؤں کی لاشیں سوکھیں دل کے آنگن میں

کتنی آشاؤں کی لاشیں سوکھیں دل کے آنگن میں کتنے سورج ڈوب گئے ہیں چہروں کے پیلے پن میں بچوں کے میٹھے ہونٹوں پر پیاس کی سوکھی ریت جمی دودھ کی دھاریں گائے کے تھن سے گر گئیں ناگوں کے پھن میں ریگستانوں میں جلتے ہیں پڑے ہوئے سو نقش قدم پر آج خراماں کوئی نہیں ہے امیدوں کے گلشن ...

مزید پڑھیے

درس محبت

دوست ملا تھا تجھ کو کیسا حیف اتنا بھی یاد نہیں جان فدا کرتا تھا جس پر دل میں اس کی یاد نہیں گردش دوراں نے جب اس کو آہ شکستہ حال کیا دیکھ کر اس کے حال زبوں کو تو نے کچھ نہ ملال کیا کون شکستہ حال کہاں ہے یہ بھی دھیان آیا نہ تجھے آہ تصور نے ایسے محسن کے تڑپایا نہ تجھے پاس تھا اپنے قول کا ...

مزید پڑھیے

صبح چمن

یہ وقت صبح یہ سماں یہ دیدہ زیب گلستاں یہ دل فریب کیاریاں طیور کے یہ چہچہے یہ دل لگی یہ قہقہے یہ مالنیں یہ باغباں بہار جنت نظر طرب فزا ہے کس قدر درخت ہیں ادھر ادھر عجب فضائے نور ہے سرور ہی سرور ہے نہیں ہے کون شادماں زمیں سے تا بہ آسماں جمال دوست ضو فشاں ملے جو چشم عارفاں چلے مری ...

مزید پڑھیے

وقت کی چیز

سب جسے انتہا کہیں تو اسے ابتدا سمجھ ہو نہ اسی سمجھ پہ خوش یوں ہی بڑھائے جا سمجھ ذوق سفر گھٹا نہ دے لوگ کہیں جو نا سمجھ حاصل مدعا کو بھی پرتو مدعا سمجھ اور بلندیوں پہ جا راز عروج کا سمجھ دل میں ہے درد قوم اگر قوم کی جلد لے خبر قوم سے ہیں جو بے خبر قوم کی ان کو دے خبر سوچ کہ اپنی قوم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5327 سے 6203