قومی زبان

عشق کا نغمہ جنوں کے ساز پر گاتے ہیں ہم

عشق کا نغمہ جنوں کے ساز پر گاتے ہیں ہم اپنے غم کی آنچ سے پتھر کو پگھلاتے ہیں ہم جاگ اٹھتے ہیں تو سولی پر بھی نیند آتی نہیں وقت پڑ جائے تو انگاروں پہ سو جاتے ہیں ہم زندگی کو ہم سے بڑھ کر کون کر سکتا ہے پیار اور اگر مرنے پہ آ جائیں تو مر جاتے ہیں ہم دفن ہو کر خاک میں بھی دفن رہ سکتے ...

مزید پڑھیے

آئے ہم غالبؔ‌ و اقبالؔ کے نغمات کے بعد

آئے ہم غالبؔ‌ و اقبالؔ کے نغمات کے بعد مصحفؔ عشق و جنوں حسن کی آیات کے بعد اے وطن خاک وطن وہ بھی تجھے دے دیں گے بچ گیا ہے جو لہو اب کے فسادات کے بعد نار نمرود یہی اور یہی گلزار خلیل کوئی آتش نہیں آتش کدۂ ذات کے بعد رام و گوتم کی زمیں حرمت انساں کی امیں بانجھ ہو جائے گی کیا خون کی ...

مزید پڑھیے

یہ بے کس و بے قرار چہرے

یہ بے کس و بے قرار چہرے صدیوں کے یہ سوگوار چہرے مٹی میں پڑے دمک رہے ہیں ہیروں کی طرح ہزار چہرے لے جا کے انہیں کہاں سجائیں یہ بھوک کے شکار چہرے افریقہ و ایشیا کی زینت یہ نادر روزگار چہرے کھوئی ہوئی عظمتوں کے وارث کل رات کے یادگار چہرے غازے سے سفید مے سے رنگیں اس دور کے داغ دار ...

مزید پڑھیے

تمہارے اعجاز حسن کی میرے دل پہ لاکھوں عنایتیں ہیں

تمہارے اعجاز حسن کی میرے دل پہ لاکھوں عنایتیں ہیں تمہاری ہی دین میرے ذوق نظر کی ساری لطافتیں ہیں جواں ہے سورج جبیں پہ جس کے تمہارے ماتھے کی روشنی ہے سحر حسیں ہے کہ اس کے رخ پر تمہارے رخ کی صباحتیں ہیں میں جن بہاروں کی پرورش کر رہا ہوں زندان غم میں ہمدم کسی کے گیسو و چشم و رخسار و ...

مزید پڑھیے

کھلے ہیں مشرق و مغرب کی گود میں گلزار

کھلے ہیں مشرق و مغرب کی گود میں گلزار مگر خزاں کو میسر نہیں یقین بہار خبر نہیں ہے بموں کے بنانے والوں کو تمیز ہو تو مہ و مہر و کہکشاں ہیں شکار اسی سے تیغ نگہ آب دار ہوتی ہے تجھے بتاؤں بڑی شے ہے جرأت انکار کیے ہیں شوق نے پیدا ہزار ویرانے اک آرزو نے بسائے ہیں لاکھ شہر دیار نشاط ...

مزید پڑھیے

لغزش گام لیے لغزش مستانہ لیے

لغزش گام لیے لغزش مستانہ لیے آئے ہم بزم میں پھر جرأت رندانہ لیے عشق پہلو میں ہے پھر جلوۂ جانانہ لیے زلف اک ہاتھ میں اک ہاتھ میں پیمانہ لیے یاد کرتا تھا ہمیں ساقی و مینا کا ہجوم اٹھ گئے تھے جو کبھی رونق مے خانہ لیے وصل کی صبح شب ہجر کے بعد آئی ہے آفتاب رخ محبوب کا نذرانہ ...

مزید پڑھیے

نغمۂ زنجیر ہے اور شہر یاراں ان دنوں

نغمۂ زنجیر ہے اور شہر یاراں ان دنوں ہے بہت اہل جنوں شور بہاراں ان دنوں اس وفا دشمن سے پیمان وفا ہے استوار زیر سنگ سخت ہے پھر دست یاراں ان دنوں محتسب بھی حلقۂ رنداں کا ہے امیدوار کم نہ ہو جائے وقار میگساراں ان دنوں تیزیٔ تیغ ادا کی شہرتیں ہیں دور دور ہے بہت آباد کوئے دل فگاراں ...

مزید پڑھیے

لو کے موسم میں بہاروں کی ہوا مانگتے ہیں

لو کے موسم میں بہاروں کی ہوا مانگتے ہیں ہم کف دست خزاں پر بھی حنا مانگتے ہیں ہم نشیں سادہ دلی ہائے تمنا مت پوچھ بے وفاؤں سے وفاؤں کا صلہ مانگتے ہیں کاش کر لیتے کبھی کعبۂ دل کا بھی طواف وہ جو پتھر کے مکانوں سے خدا مانگتے ہیں جس میں ہو سطوت شاہین کی پرواز کا رنگ لب شاعر سے وہ بلبل ...

مزید پڑھیے

شاخ گل ہے کہ یہ تلوار کھنچی ہے یارو

شاخ گل ہے کہ یہ تلوار کھنچی ہے یارو باغ میں کیسی ہوا آج چلی ہے یارو کون ہے خوف زدہ جشن سحر سے پوچھو رات کی نبض تو اب چھوٹ چلی ہے یارو تاک کے دل سے دل شیشہ و پیمانہ تک ایک اک بوند میں سو شمع جلی ہے یارو چوم لینا لب لعلیں کا ہے رندوں کو روا رسم یہ بادۂ گلگوں سے چلی ہے یارو صرف اک ...

مزید پڑھیے

بیٹھے ہیں جہاں ساقی پیمانۂ زر لے کر

بیٹھے ہیں جہاں ساقی پیمانۂ زر لے کر اس بزم سے اٹھ آئے ہم دیدۂ تر لے کر یادوں سے تری روشن محراب شب ہجراں ڈھونڈھیں گے تجھے کب تک قندیل قمر لے کر کیا حسن ہے دنیا میں کیا لطف ہے جینے میں دیکھے تو کوئی میرا انداز نظر لے کر ہوتی ہے زمانے میں کس طرح پذیرائی نکلو تو ذرا گھر سے اک ذوق سفر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5326 سے 6203