قومی زبان

دعوت نظر

میں ہی میں ہوں کوئی ہشیار کہے جاتا ہے وہ ہی وہ ہیں کوئی سرشار کہے جاتا ہے ہمہ اوست اس کی خودی کے لئے مرکز اے دوست اس کا نادان انا بھی ہے متاع ہمہ اوست ہوش افزا ہے مجھے غلغلۂ ہشیاری کاش سمجھے اسے تو بھی جرس بیداری انحصار من و تو ٹھیک نہیں سب سمجھیں وقت ہے خود کو سمجھنے کا یہی اب ...

مزید پڑھیے

محبت

محبت خدا کی حقیقت کا نور محبت کسی کا پیام ظہور محبت کے پیغامبر انبیا محبت کے زیر اثر اولیا محبت نقوش بیاض وجود تر و تازہ اس سے ریاض شہود محبت نہیں تو نہیں زندگی محبت سے ہے دل نشیں زندگی محبت سے ہر ذرہ پیوستہ ہے طرب زا محبت کا گلدستہ ہے نشاط محبت رفیق حیات کئے اس نے حل زندگی کے ...

مزید پڑھیے

کچھ نہیں کے دو پہلو

جنہیں عشق سے واسطہ کچھ نہیں انہیں حسن سے کیا ملا کچھ نہیں جہاں زہد خشک آ گیا اس جگہ محبت مروت وفا کچھ نہیں خدا جانے کس دل سے کہتے ہیں لوگ حسیں اور ان کی ادا کچھ نہیں نہیں ہیں جو تنویر دل ماہ وش شب ماہ میں بھی مزہ کچھ نہیں شرر ہیں یہ ہنس مکھ ستارے اگر تو ہر خندۂ خوش نما کچھ نہیں نظر ...

مزید پڑھیے

جاسوس دوست

آ ادھر اے دوست آ تو مجھ سے چھپ سکتا نہیں سعیٔ خود پوشی ہے کیوں جب میں تجھے تکتا نہیں گرچہ پہلے صوفیانہ سوانگ نے دھوکا دیا لیکن آنکھوں کی چمک نے تجھ کو پہچنوا دیا تیری آنکھوں سے عیاں اب تک وہ برقی لہر ہے قہر ہے تیری نگاہ تیز ہاں ہاں قہر ہے الاماں یہ تیری آشفتہ نگاہی الاماں عمر و ...

مزید پڑھیے

مہمانداری

پھیلی ہے فضاؤں میں خوشی میری نظر کی ہنستی نظر آتی ہیں فضائیں مرے گھر کی دل شاد مرے اہل و عیال آج بہت ہیں مصروف ہیں وہ بھی نہیں مصروف فقط میں رکھی ہے سلیقے سے ہر اک کام کی چیز آج مہمان مرے گھر میں ہیں کچھ میرے عزیز آج شادی کا مکاں گھر مرا معلوم نہ ہو کیوں مجمع ہو جب اتنا تو بھلا دھوم ...

مزید پڑھیے

چاند اور سورج

ابر سیہ کی فرسودہ وہ چادر تاریک رکھتی کب تک یہ منظر طلعت پہ ظلمت کیا غالب آتی کھلتے نہ کب تک فطرت کے جوہر دامن گھٹا کا خود چاک کرکے دیکھو وہ نکلا ماہ منور یہ خاص مظہر مہر مبیں کا کتنا حسیں ہے اللہ اکبر جو روپ اس کا وہ روپ اس کا اتنا مشابہ چہرہ ہے کس کا مظہر جلالی مظہر جمالی دونوں ...

مزید پڑھیے

کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا

کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا باعث رشک ہے تنہا رویٔ رہ رو شوق ہم سفر کوئی نہیں دورئ منزل کے سوا ہم نے دنیا کی ہر اک شے سے اٹھایا دل کو لیکن ایک شوخ کے ہنگامۂ محفل کے سوا تیغ منصف ہو جہاں دار و رسن ہوں شاہد بے گنہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے ...

مزید پڑھیے

اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے

اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے اک رات ہے جو کٹی نہیں ہے مقتولوں کا قحط پڑ نہ جائے قاتل کی کہیں کمی نہیں ہے ویرانوں سے آ رہی ہے آواز تخلیق جنوں رکی نہیں ہے ہے اور ہی کاروبار مستی جی لینا تو زندگی نہیں ہے ساقی سے جو جام لے نہ بڑھ کر وہ تشنگی تشنگی نہیں ہے عاشق کشی و فریب کاری یہ شیوۂ ...

مزید پڑھیے

عقیدے بجھ رہے ہیں شمع جاں غل ہوتی جاتی ہے (ردیف .. ی)

عقیدے بجھ رہے ہیں شمع جاں غل ہوتی جاتی ہے مگر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم کس کس کے لہو کی لالہ کاری ہے زمین کوئے جاناں آج پہچانی نہیں جاتی اگر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقیں محکم ہے لیکن ضد کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہو گیا ...

مزید پڑھیے

میں جہاں تم کو بلاتا ہوں وہاں تک آؤ

میں جہاں تم کو بلاتا ہوں وہاں تک آؤ میری نظروں سے گزر کر دل و جاں تک آؤ پھر یہ دیکھو کہ زمانے کی ہوا ہے کیسی ساتھ میرے مرے فردوس جواں تک آؤ حوصلہ ہو تو اڑو میرے تصور کی طرح میری تخئیل کے گلزار جناں تک آؤ تیغ کی طرح چلو چھوڑ کے آغوش نیام تیر کی طرح سے آغوش کماں تک آؤ پھول کے گرد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5328 سے 6203