دعوت نظر
میں ہی میں ہوں کوئی ہشیار کہے جاتا ہے وہ ہی وہ ہیں کوئی سرشار کہے جاتا ہے ہمہ اوست اس کی خودی کے لئے مرکز اے دوست اس کا نادان انا بھی ہے متاع ہمہ اوست ہوش افزا ہے مجھے غلغلۂ ہشیاری کاش سمجھے اسے تو بھی جرس بیداری انحصار من و تو ٹھیک نہیں سب سمجھیں وقت ہے خود کو سمجھنے کا یہی اب ...