تاشقند کی شام
مناؤ جشن محبت کہ خوں کی بو نہ رہی برس کے کھل گئے بارود کے سیہ بادل بجھی بجھی سی ہے جنگوں کی آخری بجلی مہک رہی ہے گلابوں سے تاشقند کی شام جگاؤ گیسوئے جاناں کی عنبریں راتیں جلاؤ ساعد سیمیں کی شمع کافوری طویل بوسوں کے گل رنگ جام چھلکاؤ یہ سرخ جام ہے خوبان تاشقند کے نام یہ سبز جام ہے ...