قومی زبان

تاشقند کی شام

مناؤ جشن محبت کہ خوں کی بو نہ رہی برس کے کھل گئے بارود کے سیہ بادل بجھی بجھی سی ہے جنگوں کی آخری بجلی مہک رہی ہے گلابوں سے تاشقند کی شام جگاؤ گیسوئے جاناں کی عنبریں راتیں جلاؤ ساعد سیمیں کی شمع کافوری طویل بوسوں کے گل رنگ جام چھلکاؤ یہ سرخ جام ہے خوبان تاشقند کے نام یہ سبز جام ہے ...

مزید پڑھیے

مرے عزیزو، مرے رفیقو

مرے عزیزو، مرے رفیقو مری کمیونزم سے ہو خائف مری تمنا سے ڈر رہے ہو مگر مجھے کچھ گلا نہیں ہے تمہاری روحوں کی سادگی سے تمہارے دل کی صنم گری سے مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے بیگانہ ہوا بھی تک تم اپنے انداز دلبری سے کہ جیسے واقف نہیں ابھی تک ستم گروں کی ستم گری سے فریب نے جن کے آدمی ...

مزید پڑھیے

الجھے کانٹوں سے کہ کھیلے گل تر سے پہلے

الجھے کانٹوں سے کہ کھیلے گل تر سے پہلے فکر یہ ہے کہ صبا آئے کدھر سے پہلے جام و پیمانہ و ساقی کا گماں تھا لیکن دیدۂ تر ہی تھا یاں دیدۂ تر سے پہلے ابر نیساں کی نہ برکت ہے نہ فیضان بہار قطرے گم ہو گئے تعمیر گہر سے پہلے جم گیا دل میں لہو سوکھ گئے آنکھوں میں اشک تھم گیا درد جگر رنگ سحر ...

مزید پڑھیے

دل کی آگ جوانی کے رخساروں کو دہکائے ہے

دل کی آگ جوانی کے رخساروں کو دہکائے ہے بہے پسینہ مکھڑے پر یا سورج پگھلا جائے ہے من اک ننھا سا بالک ہے ہمک ہمک رہ جائے ہے دور سے مکھ کا چاند دکھا کر کون اسے للچائے ہے مے ہے تیری آنکھوں میں اور مجھ پہ نشہ سا طاری ہے نیند ہے تیری پلکوں میں اور خواب مجھے دکھلائے ہے تیرے قامت کی لرزش ...

مزید پڑھیے

تخلیق پہ فطرت کی گزرتا ہے گماں اور

تخلیق پہ فطرت کی گزرتا ہے گماں اور اس آدم خاکی نے بنایا ہے جہاں اور یہ صبح ہے سورج کی سیاہی سے اندھیری آئے گی ابھی ایک سحر مہر چکاں اور بڑھنی ہے ابھی اور بھی مظلوم کی طاقت گھٹنی ہے ابھی ظلم کی کچھ تاب و تواں اور تر ہوگی زمیں اور ابھی خون بشر سے روئے گا ابھی دیدۂ خونابہ فشاں ...

مزید پڑھیے

فروغ دیدہ و دل لالۂ سحر کی طرح

فروغ دیدہ و دل لالۂ سحر کی طرح اجالا بن کے رہو شمع رہ گزر کی طرح پیمبروں کی طرح سے جیو زمانے میں پیام شوق بنو دولت ہنر کی طرح یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے ہم نفسو ستارہ بن کے جلے بجھ گئے شرر کی طرح ڈرا سکی نہ مجھے تیرگی زمانے کی اندھیری رات سے گزرا ہوں میں قمر کی طرح سمندروں کے ...

مزید پڑھیے

خوگر روئے خوش جمال ہیں ہم

خوگر روئے خوش جمال ہیں ہم ناز پروردۂ وصال ہیں ہم ہم کو یوں رائیگاں نہ کر دینا حاصل فصل ماہ و سال ہیں ہم رنگ ہی رنگ خوشبو ہی خوشبو گردش ساغر خیال ہیں ہم رونق کاروبار ہستی ہیں ہم نے مانا شکستہ حال ہیں ہم مال و زر، مال و زر کی قیمت کیا صاحب دولت کمال ہیں ہم کس کی رعنائی خیال ہے ...

مزید پڑھیے

وہی حسن یار میں ہے وہی لالہ زار میں ہے

وہی حسن یار میں ہے وہی لالہ زار میں ہے وہ جو کیفیت نشے کی مے خوش گوار میں ہے یہ چمن کی آرزو ہے کوئی لوٹ لے چمن کو یہ تمام رنگ و نکہت ترے اختیار میں ہے ترے ہاتھ کی بلندی میں فروغ کہکشاں ہے یہ ہجوم ماہ و انجم ترے انتظار میں ہے بس اسی کو توڑنا ہے یہ جنون نفع خوری یہی ایک سرد خنجر دل ...

مزید پڑھیے

صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہے

صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہے جل رہی ہے کیا دھرتی عرش پہ دھواں کیوں ہے خنجروں کی سازش پر کب تلک یہ خاموشی روح کیوں ہے یخ بستہ نغمہ بے زباں کیوں ہے راستہ نہیں چلتے صرف خاک اڑاتے ہیں کارواں سے بھی آگے گرد کارواں کیوں ہے کچھ کمی نہیں لیکن کوئی کچھ تو بتلاؤ عشق اس ستم گر کا ...

مزید پڑھیے

کبھی خنداں کبھی گریاں کبھی رقصا چلیے

کبھی خنداں کبھی گریاں کبھی رقصا چلیے دور تک ساتھ ترے عمر گریزاں چلیے رسم دیرینۂ عالم کو بدلنے کے لیے رسم دیرینۂ عالم سے گریزاں چلیے آسمانوں سے برستا ہے اندھیرا کیسا اپنی پلکوں پہ لیے جشن چراغاں چلیے شعلۂ جاں کو ہوا دیتی ہے خود باد سموم شعلۂ جاں کی طرح چاک گریباں چلیے عقل کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5325 سے 6203