پروین شاکر
بہار حسن جواں مرگ صورت گل تر مثال خار مگر عمر درد عشق دراز وہ ودیاپتی کی شاعری کی معصوم و حسین و شوخ رادھا وہ اپنے خیال کا کنہیا ان شہروں میں ڈھونڈنے گئی تھی دستور تھا جن کا سنگ باری وہ فیضؔ و فراقؔ زیادہ تقدیس بدن کی نغمہ خواں تھی تہذیب بدن کی رازداں تھی گلنار بدن کی تہنیت ...