قومی زبان

عطر فردوس جواں میں یہ بسائے ہوئے ہونٹ

عطر فردوس جواں میں یہ بسائے ہوئے ہونٹ خون‌ گلرنگ بہاراں میں نہائے ہوئے ہونٹ خود بخود آہ لرزتے ہوئے بوسوں کی طرح میرے ہونٹوں کی لطافت کو جگائے ہوئے ہونٹ دست فطرت کے تراشے ہوئے دو برگ گلاب دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو بنائے ہوئے ہونٹ ظلم اور جبر کے احکام سے خاموش مگر مہر پیمان ...

مزید پڑھیے

یاد آئے ہیں عہد جنوں کے کھوئے ہوئے دل دار بہت

یاد آئے ہیں عہد جنوں کے کھوئے ہوئے دل دار بہت ان سے دور بسائی بستی جن سے ہمیں تھا پیار بہت ایک اک کر کے کھلی تھیں کلیاں ایک اک کر کے پھول گئے ایک اک کر کے ہم سے بچھڑے باغ جہاں میں یار بہت حسن کے جلوے عام ہیں لیکن ذوق نظارہ عام نہیں عشق بہت مشکل ہے لیکن عشق کے دعویدار بہت زخم کہو ...

مزید پڑھیے

نیند

رات خوبصورت ہے نیند کیوں نہیں آتی دن کی خشمگیں نظریں کھو گئیں سیاہی میں آہنی کڑوں کا شور بیڑیوں کی جھنکاریں قیدیوں کی سانسوں کی تند و تیز آوازیں جیلروں کی بدکاری گالیوں کی بوچھاریں بے بسی کی خاموشی خامشی کی فریادیں تہہ نشیں اندھیرے میں شب کی شوخ دوشیزہ خار دار تاروں کو آہنی ...

مزید پڑھیے

چاند کو رخصت کر دو

میرے دروازے سے اب چاند کو رخصت کر دو ساتھ آیا ہے تمہارے جو تمہارے گھر سے اپنے ماتھے سے ہٹا دو یہ چمکتا ہوا تاج پھینک دو جسم سے کرنوں کا سنہرا زیور تم ہی تنہا مرے غم خانے میں آ سکتی ہو ایک مدت سے تمہارے ہی لیے رکھا ہے میرے جلتے ہوئے سینے کا دہکتا ہوا چاند دل خوں گشتہ کا ہنستا ہوا خوش ...

مزید پڑھیے

فریب

(1) ناگہاں شور ہوا لو شب تار غلامی کی سحر آ پہنچی انگلیاں جاگ اٹھیں بربط و طاؤس نے انگڑائی لی اور مطرب کی ہتھیلی سے شعاعیں پھوٹیں کھل گئے ساز میں نغموں کے مہکتے ہوئے پھول لوگ چلائے کہ فریاد کے دن بیت گئے راہزن ہار گئے راہرو جیت گئے قافلے دور تھے منزل سے بہت دور مگر خود فریبی کی ...

مزید پڑھیے

پیاس بھی ایک سمندر ہے

پیاس بھی ایک سمندر ہے سمندر کی طرح جس میں ہر درد کی دھار جس میں ہر غم کی ندی ملتی ہے اور ہر موج لپکتی ہے کسی چاند سے چہرے کی طرف

مزید پڑھیے

تین شرابی

ذکر نہیں یہ فرزانوں کا قصہ ہے اک دیوانوں کا ماسکو، پیرس اور لندن میں دیکھے میں نے تین شرابی سرخ تھیں آنکھیں روح گلابی نشۂ مے کا تاج جبیں پر فکر فلک پر پاؤں زمیں پر بے خبر اپنی لغزش پا سے با خبر اپنے عہد وفا سے دختر رز کے در کے بھکاری اپنے قلب و نظر کے شکاری پی لینے کے بعد بھی ...

مزید پڑھیے

گفتگو (ہند پاک دوستی کے نام)

گفتگو بند نہ ہو بات سے بات چلے صبح تک شام ملاقات چلے ہم پہ ہنستی ہوئی یہ تاروں بھری رات چلے ہوں جو الفاظ کے ہاتھوں میں ہیں سنگ دشنام طنز چھلکائے تو چھلکایا کرے زہر کے جام تیکھی نظریں ہوں ترش ابروئے خم دار رہیں بن پڑے جیسے بھی دل سینوں میں بیدار رہیں بے بسی حرف کو زنجیر بہ پا کر نہ ...

مزید پڑھیے

ماڈرن کھلونا

کھیل کھلونے پہلے کیا تھے نام سنو تم بچو کچھ کے چھلم چھو اور آنکھ مچولی گلی ڈنڈا کنچا گولی اندھا بھینسا چڑیا کانٹا پیچھے دیکھا کوڑا کھایا لٹو چکئی اور تار پہیا گیڑی کوڑی دھول دھماکا کشتی کبڈی گیند اور بلا چار طرف تھا یہ بلو بلا گڑیا ربڑ کی پہنے ساڑی چابی سے وہ چلتی گاڑی ناچتا ...

مزید پڑھیے

تم نہیں آئے تھے جب

تم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو موجود تھے تم آنکھ میں نور کی اور دل میں لہو کی صورت درد کی لو کی طرح پیار کی خوشبو کی طرح بے وفا وعدوں کی دل داری کا انداز لیے تم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو تم آئے تھے رات کے سینے میں مہتاب کے خنجر کی طرح صبح کے ہاتھ میں خورشید کے ساغر کی طرح شاخ خوں رنگ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5323 سے 6203