حسین تر
کل ایک تو ہوگی اور اک میں کوئی رقیب رفیق صورت کوئی رفیق رقیب ساماں مرے ترے درمیاں نہ ہوگا ہماری عمر رواں کی شبنم تری سیہ کاکلوں کی راتوں میں تار چاندی کے گوندھ دے گی ترے حسیں عارضوں کے رنگیں گلاب بیلے کے پھول ہوں گے شفق کا ہر رنگ غرق ہوگا لطیف و پر کیف چاندنی میں تری کتاب رخ جواں ...