قومی زبان

حسین تر

کل ایک تو ہوگی اور اک میں کوئی رقیب رفیق صورت کوئی رفیق رقیب ساماں مرے ترے درمیاں نہ ہوگا ہماری عمر رواں کی شبنم تری سیہ کاکلوں کی راتوں میں تار چاندی کے گوندھ دے گی ترے حسیں عارضوں کے رنگیں گلاب بیلے کے پھول ہوں گے شفق کا ہر رنگ غرق ہوگا لطیف و پر کیف چاندنی میں تری کتاب رخ جواں ...

مزید پڑھیے

پیراہن شرر

کھڑا ہے کون یہ پیراہن شرر پہنے بدن ہے چور تو ماتھے سے خون جاری ہے زمانہ گزرا کہ فرہاد و قیس ختم ہوئے یہ کس پہ اہل جہاں حکم سنگ باری ہے یہاں تو کوئی بھی شیریں ادا نگار نہیں یہاں تو کوئی بھی لیلیٰ بدن بہار نہیں یہ کس کے نام پہ زخموں کی لالہ کاری ہے کوئی دوانہ ہے لیتا ہے سچ کا نام اب ...

مزید پڑھیے

سر طور

دل کو بے تاب رکھتی ہے اک آرزو کم ہے یہ وسعت عالم رنگ و بو لے چلی ہے کدھر پھر نئی جستجو تا بہ حد نظر اڑ کے جاتے ہیں ہم وہ جو حائل تھے راہوں میں شمس و قمر ہم سفر ان کو اپنا بناتے ہیں ہم ہے زمیں پردۂ لالہ و نسترن آسماں پردۂ کہکشاں ہے ابھی راز فطرت ہوا لاکھ ہم پر عیاں راز فطرت نہاں کا ...

مزید پڑھیے

وفور شوق کی رنگیں حکایتیں مت پوچھ

وفور شوق کی رنگیں حکایتیں مت پوچھ لبوں کا پیار نگہ کی شکایتیں مت پوچھ کسی نگاہ کی نس نس میں تیرتے نشتر وہ ابتدائے محبت کی راحتیں مت پوچھ وہ نیم شب وہ جواں حسن وہ وفور نیاز نگاہ و دل نے جو کی ہیں عبادتیں مت پوچھ ہجوم غم میں بھی جینا سکھا دیا ہم کو غم جہاں کی ہیں کیا کیا عنایتیں ...

مزید پڑھیے

ہم جو محفل میں تری سینہ فگار آتے ہیں

ہم جو محفل میں تری سینہ فگار آتے ہیں رنگ‌ بر دوش گلستاں بہ کنار آتے ہیں چاک دل چاک جگر چاک گریباں والے مثل گل آتے ہیں مانند بہار آتے ہیں کوئی معشوق سزا وار غزل ہے شاید ہم غزل لے کے سوئے شہر نگار آتے ہیں کیا وہاں کوئی دل و جاں کا طلب گار نہیں جا کے ہم کوچۂ قاتل میں پکار آتے ...

مزید پڑھیے

سرد ہیں دل آتش روئے نگاراں چاہئے

سرد ہیں دل آتش روئے نگاراں چاہئے شعلۂ رنگ بہار گل عذاراں چاہئے منزل عشق و جنوں کے فاصلے ہیں سر بکف ان کٹھن راہوں میں لطف دست یاراں چاہئے کٹ رہی ہے اور کٹ چکتی نہیں فصل خزاں تیز تر اک اور تیغ نو بہاراں چاہئے آج مے خانہ میں سحر چشم ساقی کے لیے التفات‌ چشم مست میگساراں چاہئے اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5322 سے 6203