ایک خواب اور
خواب اب حسن تصور کے افق سے ہیں پرے دل کے اک جذبۂ معصوم نے دیکھے تھے جو خواب اور تعبیروں کے تپتے ہوئے صحراؤں میں تشنگی آبلہ پا شعلہ بکف موج سراب یہ تو ممکن نہیں بچپن کا کوئی دن مل جائے یا پلٹ آئے کوئی ساعت نایاب شباب پھوٹ نکلے کسی افسردہ تبسم سے کرن یا دمک اٹھے کسی دست بریدہ میں ...