یک بیک کیوں چمک اٹھی ہیں نگاہیں تیری
یک بیک کیوں چمک اٹھی ہیں نگاہیں تیری اک کرنؔ پھوٹ رہی ہے تری پیشانی سے اور بھی تیز ہوئی جاتی ہے رخسار کی آگ جذبۂ شوق و محبت کی فراوانی سے
یک بیک کیوں چمک اٹھی ہیں نگاہیں تیری اک کرنؔ پھوٹ رہی ہے تری پیشانی سے اور بھی تیز ہوئی جاتی ہے رخسار کی آگ جذبۂ شوق و محبت کی فراوانی سے
ان کو ملتا ہی نہیں ہے در مقصود کہیں جو صدف ہے وہی خالی نظر آتا ہے انہیں حلقۂ زلف ہو یا سرمۂ چشم خوباں حلقۂ دام خیالی نظر آتا ہے انہیں
ابھی پوشیدہ ہیں نظروں سے خزانے کتنے گوش انساں سے ہیں محروم ترانے کتنے ختم ہو سکتا نہیں سلسلۂ عمر دراز بطن تخلیق میں پنہاں ہیں زمانے کتنے
مری رگوں میں چہکتے ہوئے لہو کو سنو ہزاروں لاکھوں ستاروں نے ساز چھیڑا ہے ہر ایک بوند میں آفاق گنگناتے ہیں یہ شرق و غرب شمال و جنوب پست و بلند لہو میں غرق ہیں اور شش جہات کا آہنگ زمیں کی پینگ طلوع نجوم و شمس و قمر غروب شام زوال شب و نمود سحر تمام عالم رعنائی بزم برنائی کنول کی طرح ...
اٹھو ہند کے باغبانو اٹھو اٹھو انقلابی جوانو اٹھو کسانوں اٹھو کامگارو اٹھو نئی زندگی کے شرارو اٹھو اٹھو کھیلتے اپنی زنجیر سے اٹھو خاک بنگال و کشمیر سے اٹھو وادی و دشت و کہسار سے اٹھو سندھ و پنجاب و ملبار سے اٹھو مالوے اور میوات سے مہاراشٹر اور گجرات سے اودھ کے چمن سے چہکتے ...
شفق کے رنگ میں ہے قتل آفتاب کا رنگ افق کے دل میں ہے خنجر لہو لہان ہے شام سفید شیشۂ نور اور سیاہ بارش سنگ زمیں سے تا بہ فلک ہے بلند رات کا نام یقیں کا ذکر ہی کیا ہے کہ اب گماں بھی نہیں مقام درد نہیں منزل فغاں بھی نہیں وہ بے حسی ہے کہ جو قابل بیاں بھی نہیں کوئی ترنگ ہی باقی رہی نہ ...
اس پہ بھولے ہو کہ ہر دل کو کچل ڈالا ہے اس پہ بھولے ہو کہ ہر گل کو مسل ڈالا ہے اور ہر گوشۂ گلزار میں سناٹا ہے کسی سینے میں مگر ایک فغاں تو ہوگی آج وہ کچھ نہ سہی کل کو جواں تو ہوگی وہ جواں ہو کے اگر شعلۂ جوالہ بنی وہ جواں ہو کے اگر آتش صد سالہ بنی خود ہی سوچو کہ ستم گاروں پہ کیا گزرے ...
میں کہ ہوں پیاس کے دریا کی تڑپتی ہوئی موج پی چکا ہوں میں سمندر کا سمندر پھر بھی ایک اک قطرۂ شبنم کو ترس جاتا ہوں قطرۂ شبنم اشک قطرۂ شبنم دل خون جگر قطرۂ نیم نظر یا ملاقات کے لمحوں کے سنہری قطرے جو نگاہوں کی حرارت سے ٹپک پڑتے ہیں اور پھر لمس کے نور اور پھر بات کی خوشبو میں بدل جاتے ...
تو مجھے اتنے پیار سے مت دیکھ تیری پلکوں کے نرم سائے میں دھوپ بھی چاندنی سی لگتی ہے اور مجھے کتنی دور جانا ہے ریت ہے گرم پاؤں کے چھالے یوں دہکتے ہیں جیسے انگارے پیار کی یہ نظر رہے نہ رہے کون دشت وفا میں جلتا ہے تیرے دل کو خبر رہے نہ رہے تو مجھے اتنے پیار سے مت دیکھ
ابھی ابھی مری بے خوابیوں نے دیکھی ہے فضائے شب میں ستاروں کی آخری پرواز خبر نہیں کہ اندھیرے کے دل کی دھڑکن ہے کہ آ رہی ہے اجالوں کے پاؤں کی آواز بتاؤں کیا تجھے نغموں کے کرب کا عالم لہو لہان ہوا جا رہا ہے سینۂ ساز