قومی زبان

کبھی پڑھو تو مجھے حرف معتبر کی طرح

کبھی پڑھو تو مجھے حرف معتبر کی طرح یہ کیا کہ پڑھتے ہو فرسودہ سی خبر کی طرح قلم تو کرتے ہو سر کو مرے مگر سن لو میں ریگ زار وفا میں ہوں ایک شجر کی طرح اداسی کھول کے بال اپنا سو رہی ہے یہاں کہ جیسے شہر میں ہر گھر ہے میرے گھر کی طرح ہمارے ذوق پرستش کو تم دعائیں دو چمک رہے ہیں یہ پتھر ...

مزید پڑھیے

جنون شوق محبت کی آگہی دینا

جنون شوق محبت کی آگہی دینا خودی بھی جس پہ ہو قرباں وہ بے خودی دینا نہ شور چاہئے دریا کی تند موجوں کا مرے لہو کو سمندر کی خامشی دینا تو دے نہ دے مرے لب کو شگفتگی گل کی جو دے سکے تو شگوفے کی بیکلی دینا شناخت جس سے زمانے میں آدمی کی ہے یہ التجا ہے کہ تو مجھ کو وہ خودی دینا جھکا سکے ...

مزید پڑھیے

دل کے در پر قفل پڑا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ

دل کے در پر قفل پڑا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ خاموشی اب شرط وفا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ بے صوتی اب صوت و صدا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ لفظوں کا دم ٹوٹ گیا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ کل تک تو جھنکار سلاسل کی تھی جینے کا پیغام آج یہ کیسا وقت پڑا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ گلشن گلشن صحرا ...

مزید پڑھیے

گمراہ ہو گیا رہ ہموار دیکھ کر

گمراہ ہو گیا رہ ہموار دیکھ کر چلنا تھا دل کو جادۂ دشوار دیکھ کر جو سر جھکا تھا سنگ در یار دیکھ کر اونچا ہوا ہے پھر رسن و دار دیکھ کر شوریدگئ سر کو نہ تھا کوئی مشغلہ دل خوش ہوا ہے راہ میں دیوار دیکھ کر کیا میں کہوں کہ ہاتھ سے کیوں جام گر پڑا سرشار ہو گیا تجھے سرشار دیکھ کر گرچہ ...

مزید پڑھیے

دشت در دشت پھرا کرتا ہوں پیاسا ہوں میں

دشت در دشت پھرا کرتا ہوں پیاسا ہوں میں اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ دریا ہوں میں تنگ صحرا نظر آیا ہے جو پھیلا ہوں میں ہو گئی ہے مری تصویر جو سمٹا ہوں میں جستجو جس کی سفینوں کو رہی ہے صدیوں دوستو میرے وہ بے نام جزیرہ ہوں میں کس لیے مجھ پہ ہے یہ سست روی کا الزام زندگی دیکھ لے خود تیرا ...

مزید پڑھیے

یہ کیا کہ چہرہ نقاب اندر نقاب رکھو

یہ کیا کہ چہرہ نقاب اندر نقاب رکھو یہی ہے کافی بچا کے آنکھوں کی آب رکھو کہا یہ کس نے کہ روز و شب کا حساب رکھو بہ نام جاں کرب مستقل کا عذاب رکھو سروں کے اوپر سے جو تمہارے گزر گئی ہے ہمارے حصے میں دوستو وہ کتاب رکھو رہ تمنا میں جن سے رقصاں ہوں ماہ و انجم تم اپنی آنکھوں میں روشنی کے ...

مزید پڑھیے

ان سے ملیے

کہنے کو تو بے بی ہیں یہ سچ پوچھو تو نانی ہیں یہ آفت کی پرکالہ کہیے شیطاں کی بھی خالہ کہیے شاہینہ کی چوٹی کھینچی فرزانہ کی کاپی لے لی اس کو مارا اس کو جھپٹا کام یہی ہے سارے دن کا آشا ہے اک روز گگن پر چمکیں گی یہ تارا بن کر تتلی اک فردوس کی ہیں یہ ننھی منی گول سی ہیں یہ آشاؤں کا درپن ...

مزید پڑھیے

پھول چاند گیت

ہیں شگوفے ننھے ننھے پھول لیکن ہم بنیں گے ایک دن پھول بن کر مسکرانا ہم سکھائیں گے جہاں کو دوستو ہیں ستارے ننھے ننھے چاند لیکن ہم بنیں گے ایک دن چاند بن کر جگمگانا ہم سکھائیں گے زمیں کو دوستو بول ہیں ہم ننھے ننھے گیت لیکن ہم بنیں گے ایک دن گیت بن کر دل پہ چھانا ہم سکھائیں گے جہاں کو ...

مزید پڑھیے

ننھی چیزیں

تھا اندھیرا ہر طرف راہ بھی ملتی نہ تھی ایک ننھا سا دیا روشن ہوا اور اندھیرا چھٹ گیا اک مسافر رات کو کھا رہا تھا ٹھوکریں چاند کی ننھی کرن چھٹکی ذرا اور رستہ مل گیا تھا پریشاں دیر سے ایک دہقاں دھوپ میں ایک ٹکڑا ابر کا آیا وہاں اور سایہ ہو گیا باغ میں اڑتی تھی دھول سارے پتے زرد ...

مزید پڑھیے

کھلندڑا

امتحاں کی رات اور میں جھڑکیاں سنتا رہوں ہر عنایت ہر کرم کو مسکرا کر میں سہوں ہوک سی دل میں اٹھے اور کچھ نہ میں پھر بھی کہوں اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں بن کے رٹو پاس کر جاؤں مری فطرت نہیں امتحاں میں دوستوں سے لوں مدد عادت نہیں مہرباں ہوں ماسٹر ایسی مری قسمت نہیں اے غم دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5302 سے 6203