قومی زبان

کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا

کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا مری طرف ہی رخ انتقام کر کے گیا جہاں میں آیا تھا انساں محبتیں کرنے جو کام کرنا نہیں تھا وہ کام کر کے گیا اسیر ہوتے گئے بادل نا خواستہ لوگ غلام کرنا تھا اس نے غلام کر کے گیا جو درد سوئے ہوئے تھے وہ ہو گئے بیدار یہ معجزہ بھی مرا خوش خرام کر کے گیا ہے ...

مزید پڑھیے

عہد صد مصلحت‌‌ اندیش نبھانا پڑے گا

عہد صد مصلحت‌‌ اندیش نبھانا پڑے گا مسکرانے کے لئے غم کو بھلانا پڑے گا جانتے ہیں کہ اجڑ جائیں گے ہم اندر سے مانتے ہیں کہ تمہیں شہر سے جانا پڑے گا آمد فصل بہاراں پہ کوئی جشن تو ہو دوستو دل پہ کوئی زخم کھلانا پڑے گا چشم بد دور یہی اک مرا سرمایہ ہے تیری یادوں کو زمانے سے چھپانا ...

مزید پڑھیے

زخم دل کا خوں چکاں ایسا نہ تھا

زخم دل کا خوں چکاں ایسا نہ تھا اب سے پہلے جاں ستاں ایسا نہ تھا لرزہ بر اندام ہے قصر یقیں آدمی صید گماں ایسا نہ تھا پھلجھڑی سی چھوٹتی تھی رات دن شہر جاں تیرہ نشاں ایسا نہ تھا پھول جو تھے آرزو کے جل گئے شعلہ شعلہ گلستاں ایسا نہ تھا زیست کی رہ میں بلائیں تھیں مگر میرے سر پر آسماں ...

مزید پڑھیے

زندگی سے مری اس طرح ملاقات ہوئی

زندگی سے مری اس طرح ملاقات ہوئی لب ہلے آنکھ ملی اور نہ کوئی بات ہوئی درد کی دھوپ نہیں یاد کا سایہ بھی نہیں اب تو قسمت میری بے رنگئ حالات ہوئی صرف کل ہی نہیں اس دور میں بھی دیدہ وری نذر اوہام ہوئی صید روایات ہوئی کل تو محور تھے مری ذات کے یہ کون و مکاں کائنات آج جو سمٹی تو مری ذات ...

مزید پڑھیے

وہ مصاف زیست میں ہر موڑ پر تنہا رہا

وہ مصاف زیست میں ہر موڑ پر تنہا رہا پھر بھی ہونٹوں پر نہ اس کے کوئی بھی شکوہ رہا جو سدا تشنہ لبوں کے واسطے دریا رہا عمر بھر وہ خود بہ نام دوستاں پیاسا رہا عقل حیراں ہے جنوں بھی دم بخود ہے سوچ کر وہ ہجوم کشتگاں میں کس طرح زندہ رہا پھولنے پھلنے کا موقع تو کہاں ان کو ملا نیم جاں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو اوروں سے کوئی شکوا نہیں

مجھ کو اوروں سے کوئی شکوا نہیں میں نے بھی تو خود کو پہچانا نہیں سر پہ آ پہنچا ہے سورج کرب کا ساتھ اپنے سایہ بھی اپنا نہیں شوق منزل ہی ہے میرا خضر راہ نقش پا ہر موڑ پر ملتا نہیں ہو گیا خون‌ حیات اب یوں سفید جیسے میرا اس سے کچھ رشتہ نہیں ہے خیال خام وہ میں نے جسے پیرہن الفاظ کا ...

مزید پڑھیے

کیوں ملامت کا ہدف گردش پیمانہ بنے

کیوں ملامت کا ہدف گردش پیمانہ بنے لغزش پا سے مری کعبہ و بت خانہ بنے عقل کے بس کی نہیں بخیہ‌ گری پھولوں کی درد جس کو ہو گلستاں کا وہ دیوانہ بنے لب حکمت سے شب و روز اجالے ٹپکے تیرہ ذہنی کا مگر یہ بھی مداوا نہ بنے بے سبب شوق نہیں مائل افسانہ گری ہر حقیقت کی یہ خواہش ہے کہ افسانہ ...

مزید پڑھیے

شمع کی طرح پگھلتے رہئے

شمع کی طرح پگھلتے رہئے اپنی ہی آگ میں جلتے رہئے آج انساں کا مقدر ہے یہی ہر نئے سانچے میں ڈھلتے رہئے زندہ رہنے کی تمنا ہے اگر اپنا چہرہ بھی بدلتے رہئے چھاؤں کی طرح بڑھا بھی کیجے دھوپ کی طرح نہ ڈھلتے رہئے زندگی کی ہے علامت لغزش کیوں بہر گام سنبھلتے رہئے کام لیجے نہ زباں سے ...

مزید پڑھیے

نظر جو آتا ہے باہر میں کب وہ اندر ہوں

نظر جو آتا ہے باہر میں کب وہ اندر ہوں میں آدمی ہوں کہاں آدمی کا پیکر ہوں رہا جو بھیڑ میں بھی مشفقوں کی سرافراز خدا گواہ میں ویسا ہی ایک مصدر ہوں سفینہ کوئی سلامت نہ رہ سکے گا اب قسم خدا کی میں بپھرا ہوا سمندر ہوں یہ اور بات کہ تم کو میں یاد آ نہ سکا وگرنہ آج بھی محفل میں ہر زباں ...

مزید پڑھیے

دل کے دروازے پہ دستک کی صدا کوئی نہیں

دل کے دروازے پہ دستک کی صدا کوئی نہیں کون سی منزل ہے یہ آواز پا کوئی نہیں مجلس آلام سے کس طرح نکلے زندگی یہ وہ زنداں ہے کہ جس کا راستہ کوئی نہیں کربلا تو آج بھی ملتا ہے ہر ہر گام پر شہر میں لیکن حسین با وفا کوئی نہیں کچھ سمجھ کر ہی کیا ہے میں نے اس کا انتخاب کیا ہوا اس راہ میں گر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5301 سے 6203