قومی زبان

یوں ابتلائے بار دگر کا پتہ چلا

یوں ابتلائے بار دگر کا پتہ چلا منزل پہ جا کے اگلے سفر کا پتہ چلا ہم محفل حیات میں شب بھر جلا کئے جب شمع گل ہوئی تو سحر کا پتہ چلا ہر سانس اس کے قدموں کی آہٹ سے نغمہ ریز ہر آن اس کی راہ گزر کا پتہ چلا مقتل میں بھی سبھوں سے الگ اپنی آن تھی دستار سے ہی لوگوں کو سر کا پتہ چلا صحرائے ...

مزید پڑھیے

بادلوں کے بیچ تھا میں بے سر و ساماں نہ تھا

بادلوں کے بیچ تھا میں بے سر و ساماں نہ تھا تشنگی کا زہر پی لینا کوئی آساں نہ تھا کیا قیامت خیز تھا دریا میں موجوں کا ہجوم ساحلوں تک آتے آتے پھر کہیں طوفاں نہ تھا جانے کتنی دور اس کی لہر مجھ کو لے گئی میں سمجھتا تھا کہ وہ دریائے بے پایاں نہ تھا ہر طرف پت جھڑ کی آوازوں کی چادر تن ...

مزید پڑھیے

سفر ہے ذہن کا تو کوئی رہنما لے جا

سفر ہے ذہن کا تو کوئی رہنما لے جا مرا سکوت نہ ہو تو مری صدا لے جا ہر ایک سمت ہے دشت سکوت کی وسعت بچا کے یہ روش عرض مدعا لے جا میں زیر سنگ اسی تیرگی میں جی لوں گا تو اپنی نرم شعاعوں کا قافلہ لے جا کچھ اور چاٹ لے صحرائے گمرہی کا نمک جو آ گیا ہے تو راہوں کا ذائقہ لے جا بکھر کے چھوٹ نہ ...

مزید پڑھیے

جدا کیا تو بہت ہی ہنسی خوشی اس نے

جدا کیا تو بہت ہی ہنسی خوشی اس نے بدل دیا ہے اب انداز بے رخی اس نے وہ رنگ رنگ اڑا خوشبوؤں میں پھیل گیا جھٹک دیا ہے مرا دامن تہی اس نے جسے سنا کے مجھے خوف سر زنش سا رہا اسی کلام پہ بڑھ چڑھ کے داد دی اس نے وہ میرے ساتھ شروع سفر چلا تھا مگر ہجوم شہر میں لی راہ اور ہی اس نے ہوا ہوں ...

مزید پڑھیے

صداؤں کے جنگل میں وہ خامشی ہے

صداؤں کے جنگل میں وہ خامشی ہے کہ میں نے ہر آواز تیری سنی ہے اداسی کے آنگن میں تیری طلب کی عجب خوشنما اک کلی کھل رہی ہے نیا رنگ تھا اس کا کل وقت رخصت کہ جیسے کسی بات پر برہمی ہے اسے دے کے سب کچھ میں یہ سوچتا ہوں اسے اور کیا دوں ابھی کچھ کمی ہے وہی لمحہ لمحہ لہکنا ابھی تک ابھی تک ...

مزید پڑھیے

نا شناسی کا ہمیشہ غم رہا

نا شناسی کا ہمیشہ غم رہا آئنہ بھی اپنا نامحرم رہا آگ ہے اس پر ہے یہ بے شعلگی اپنے جلنے کا عجب عالم رہا سارے اونچے گھر ہوا کی زد میں تھے میرا ملبہ تھا جو مستحکم رہا میں بھی سیل آرزو میں بہہ گیا وہ بھی غرق گرمیٔ شبنم رہا ہم گرے بھی تو انا کے غار میں ٹوٹتے پر بھی وہی دم خم رہا اب ...

مزید پڑھیے

بچ بچا کر جسم سے بھاگا کوئی

بچ بچا کر جسم سے بھاگا کوئی گرتی دیواروں کی زد میں تھا کوئی اس قدر دست رسائی سے گریز ہم نہ ساحل ہیں نہ تم دریا کوئی لوٹ آتے دشت تنہائی سے ہم شہر میں آواز تو دیتا کوئی سارے دن سگریٹ کے مرغولوں میں بند رات بھر خوابوں کا قیدی تھا کوئی میرے دریا تو شناور کو نہ بھول دیکھ تو تہہ میں ...

مزید پڑھیے

نارسائی

یہ سمندر کئی بار اچھلا ہے ہر بار موجوں نے دور ان بلند اور بالا چٹانوں کے اس پار جانے کی خواہش میں جستیں لگائی ہیں اس طرح اچھلی ہیں جیسے ادھر کی فضا جو ابھی تک رسائی سے باہر تھی اب دام نظارہ میں آ چکی ہے مگر ان چٹانوں سے اس پار کی وسعتیں اب بھی نادیدہ ہیں آج بھی وہ جو دیوار کی دوسری ...

مزید پڑھیے

پوری ہوئی جو ہجر کی میعاد آوے گا

پوری ہوئی جو ہجر کی میعاد آوے گا قید انا سے ہو کے وہ آزاد آوے گا اس بت سے جی لگا نہ لگا کیا مجھے ولے پھر کیا کرے گا جب وہ تجھے یاد آوے گا میں تو کروں ہوں عمر بھر اک دشت کا سفر کیا ہوگا جب وہ قریۂ آباد آوے گا آوے گا اک سے ایک سخنور یہاں مگر کوئی بھی میرؔ جیسا نہ استاد آوے گا میں اس کو ...

مزید پڑھیے

زندگی کی کتاب دیکھتا ہوں

زندگی کی کتاب دیکھتا ہوں کیا ہوا انتساب دیکھتا ہوں تم بھی ہوتے ہو میرے پاس مگر میں تمہارے ہی خواب دیکھتا ہوں ایک چہرہ ہے میری آنکھوں میں کیا گناہ و ثواب دیکھتا ہوں اس کی تعبیر ہے مرا ہونا موت کو محو خواب دیکھتا ہوں چشم و لب گنگ ہیں علی یاسرؔ سامنے اس کا باب دیکھتا ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 5300 سے 6203