قومی زبان

بھٹکا کروں گا کب تک راہوں میں تیری آ کر

بھٹکا کروں گا کب تک راہوں میں تیری آ کر تجھ کو بھلا سکوں میں میرے لیے دعا کر کب تک یہ تیری حسرت کب تک یہ میری وحشت ان ساری بندشوں سے مجھ کو کبھی رہا کر ایک عمر سے تجھے میں بے عذر پی رہا ہوں تو بھی تو پیاس میری اے جام پی لیا کر کل رات زندگی یہ مجھ سے تڑپ کے بولی کچھ دیر کو تو ہو کر ...

مزید پڑھیے

یہاں ہو رہیں ہیں وہاں ہو رہیں ہیں

یہاں ہو رہیں ہیں وہاں ہو رہیں ہیں نہاں تھیں جو باتیں عیاں ہو رہیں ہیں ارادے ہمارے دعائیں تمہاری ہوائیں ہی خود بادباں ہو رہیں ہیں لٹائی کسی نے جوانی وطن پہ دشائیں بھی شہنائیاں ہو رہیں ہیں کئی آسماں آ گرے ہیں زمیں پر زمینیں کئی آسماں ہو رہیں ہیں رقیبوں تلک کیسے پہنچی وہ ...

مزید پڑھیے

فیصلہ ممکن ہے یوں منصف اگر عادل نہ ہو

فیصلہ ممکن ہے یوں منصف اگر عادل نہ ہو قتل تو ہوتے رہیں ثابت کوئی قاتل نہ ہو مشکلیں آساں نہ ہوں میری تو مجھ کو غم نہیں پر جو ہے آساں کم از کم وہ تو اب مشکل نہ ہو دفن ہیں دفتر کی فائل میں ہزاروں مسئلے ایسا لگتا ہے کہ جیسے قبر ہو فائل نہ ہو ختم ہونے کو سفر ہے ساتھ چھوٹا جائے ہے چاہتا ...

مزید پڑھیے

بہاروں کے نئے موسم بلاتے رہ گئے

بہاروں کے نئے موسم بلاتے رہ گئے نظر میں تو رہا ہم جاتے جاتے رہ گئے دیوانہ ایک دل کی بات کہہ کر چل دیا مہذب لوگ سارے کسمساتے رہ گئے کسی نے حال پوچھا تھا بس اتنی بات تھی مری آنکھوں میں آنسو آتے آتے رہ گئے بہت چرچے تھے جس در کی سخاوت کے یہاں وہ اوروں پر کھلا ہم سر جھکاتے رہ گئے وہ ...

مزید پڑھیے

مرا رام ہے تو رحیم ہے

مرا رام ہے تو رحیم ہے تو ازل سے دل میں مقیم ہے مجھے کیا غرض ہے جہاں سے اب مرا شیام ہے تو ندیم ہے ترے ہاتھ میں مری نبض ہے تو ہی دے دوا تو حکیم ہے تری رحمتوں کا حساب کیا تو ہی شیو ہے میرا کریم ہے تو یہاں بھی ہے تو وہاں بھی ہے تو اننت ہے تو اسیم ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5298 سے 6203