قومی زبان

میں ایک سنگ میل ہوں

میں ایک سنگ میل ہوں ہر مسافر میری جانب دیکھتا ہے لا شعوری طور پر اور اپنے ذہن میں رکھے ہوئے ہر قدم تسخیر منزل کا خیال بڑھتا جاتا ہے وہ اپنی راہ پر بے بسی کا میری عالم دیکھیے جامد و ساکت ہوں میں اپنی جگہ کیوں کہ میں ایک سنگ میل ہوں جانے کتنے لوگ گزرے اور گزریں گے اسی اک راہ سے ہر کسی ...

مزید پڑھیے

علم

علم سے بڑھ کے کچھ بھی جہاں میں نہیں پھول ایسا کوئی گلستاں میں نہیں علم اللہ نے فرض ہم پر کیا علم سے ہم پہ راز حقیقت کھلا علم سے ہی ملی ہم کو راہ وفا علم ہے ابتدا علم ہے انتہا علم سے بڑھ کے کچھ بھی جہاں میں نہیں پھول ایسا کوئی گلستاں میں نہیں علم سے ہم کو راہ حقیقت ملی علم پر ہے ...

مزید پڑھیے

اینٹ دیوار سے جب کوئی کھسک جاتی ہے

اینٹ دیوار سے جب کوئی کھسک جاتی ہے دھوپ کچھ اور میرے سر پہ چمک جاتی ہے کتنے دروازے مجھے بند نظر آتے ہیں آنکھ جب اٹھ کے سر بام فلک جاتی ہے مجھ سے اس بات پہ ناراض ہیں ارباب خرد بات آئی ہوئی ہونٹوں پہ اٹک جاتی ہے مطمئن ہو کے کبھی سانس نہ لیں اہل چمن آگ سینوں میں ہوا پا کے بھڑک جاتی ...

مزید پڑھیے

سمندروں کو اٹھائے پھری گھٹا برسوں

سمندروں کو اٹھائے پھری گھٹا برسوں مگر میں پیاس نہ اپنی بچھا سکا برسوں بس اتنا یاد ہے تجھ سے ملا تھا رستے میں پھر اپنے آپ سے رہنا پڑا جدا برسوں میں ایک عمر بھٹکتا رہا ہوں صحرا میں کہ میری خاک اڑاتی رہی ہوا برسوں ہمی نے دامن شب کو نہ ہاتھ سے چھوڑا سحر کے گیت سناتی رہی صبا ...

مزید پڑھیے

محبت

تم اپنے کمرے میں گہری تنہائیوں میں گم تھے گھڑی کی ٹک ٹک جو سوئی کو ٹیکتے گزرتی تمہیں یہ محسوس ہونے لگتا کہ جیسے سر پر کئی ہتھوڑے برس رہے ہیں تمہاری کرسی کی چرچراہٹ تمہاری تنہائیوں پہ لگتا کہ بین کرتی کوئی ردالی ادھر میں اپنے جہان‌ رنگیں میں جی رہی تھی کہ میرے اطراف زندگی ...

مزید پڑھیے

قسمت

اک پیڑ گھنا ہے میرے گھر کے آنگن میں جس کی چھاؤں میں سستانے کی خواہش ہے لیکن یہ میری قسمت پیڑ کی ساری شاخیں تو میرے گھر کی دیواروں سے باہر ہیں اور آنگن میں دھوپ برستی رہتی ہے

مزید پڑھیے

سوال

ہم اپنے خواب خوش فہمی سے اٹھے بہت شاداں و فرحاں چلے دنیا کی جانب مول کرنے کو ہماری جیب میں مہر و وفا اخلاص اور سچائی ہے لیکن یہاں بازار میں سب لوگ کہتے ہیں بدل کر رہ گئی ہے اب کرنسی اس زمانہ کی تمہارے پاس تو جو کچھ بھی ہے بے کار ردی ہے کہ اب وقعت نہیں ہے کوئی جس کی یہاں تو اب فقط مکر ...

مزید پڑھیے

کہانی جو ادھوری تھی

یہ کس نے آگ ہوتے روز و شب میں مجھ کو ماں کہہ کر پکارا ہے کہ جس کی پیار میں ڈوبی ہوئی آواز نے ہر آگ کو شبنم بنایا ہے کہ اب رتبہ مجھے ماں کا دلایا ہے مرے بچے میں تیری منتظر شاید ازل سے تھی ترے ہی واسطے شاید میں جنت چھوڑ کر دنیا میں آئی تھی کہ اب جو تجھ کو پایا ہے مرے جلتے بدن میں مامتا ...

مزید پڑھیے

پھول جیسی ہے کبھی یہ خار کی مانند ہے

پھول جیسی ہے کبھی یہ خار کی مانند ہے زندگی صحرا کبھی گلزار کی مانند ہے تم قلم کی دھار کو کم مت سمجھنا دوستو یہ قلم تو ہے مگر تلوار کی مانند ہے چار دن کے واسطے سب کو ملی ہے دہر میں زندگی بھی ریت کی دیوار کی مانند ہے پاس پیسہ ہے نہیں پھر بھی جہاں میں مست ہوں زندگی اپنی کسی فن کار ...

مزید پڑھیے

غم الفت میں ڈوبے تھے ابھرنا بھی ضروری تھا

غم الفت میں ڈوبے تھے ابھرنا بھی ضروری تھا ہمیں راہ محبت سے گزرنا بھی ضروری تھا حقیقت سامنے آئی بہت حیرت ہوئی مجھ کو ترے چہرے سے پردے کا اترنا بھی ضروری تھا ہمیں منزل کو پانا تھا تبھی تو راہ ہستی میں ہمیں پتھریلے رستوں سے گزرنا بھی ضروری تھا لٹاتے ہی رہے جو کچھ بھی اپنے پاس تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5252 سے 6203