الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آج
الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آج نازل ہوئی بلا مرے سر پر کہاں سے آج تڑپوں گا ہجر یار میں ہے رات چودھویں تن چاندنی میں ہوگا مقابل کتاں سے آج دو چار رشک ماہ بھی ہم راہ چاہئیں وعدہ ہے چاندنی میں کسی مہرباں سے آج ہنگام وصل رد و بدل مجھ سے ہے عبث نکلے گا کچھ نہ کام نہیں اور ہاں سے ...