قومی زبان

الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آج

الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آج نازل ہوئی بلا مرے سر پر کہاں سے آج تڑپوں گا ہجر یار میں ہے رات چودھویں تن چاندنی میں ہوگا مقابل کتاں سے آج دو چار رشک ماہ بھی ہم راہ چاہئیں وعدہ ہے چاندنی میں کسی مہرباں سے آج ہنگام وصل رد و بدل مجھ سے ہے عبث نکلے گا کچھ نہ کام نہیں اور ہاں سے ...

مزید پڑھیے

بانی جور و جفا ہیں ستم ایجاد ہیں سب

بانی جور و جفا ہیں ستم ایجاد ہیں سب راحت جاں کوئی دلبر نہیں جلاد ہیں سب کبھی طوبیٰ ترے قامت سے نہ ہوگا بالا باتیں کہنے کی یہ اے غیرت شمشاد ہیں سب مژہ و ابرو و چشم و نگہ و غمزہ و ناز حق جو پوچھو تو مری جان کے جلاد ہیں سب سرو کو دیکھ کے کہتا ہے دل بستۂ زلف ہم گرفتار ہیں اس باغ میں ...

مزید پڑھیے

بھولا ہوں میں عالم کو سرشار اسے کہتے ہیں

بھولا ہوں میں عالم کو سرشار اسے کہتے ہیں مستی میں نہیں غافل ہشیار اسے کہتے ہیں گیسو اسے کہتے ہیں رخسار اسے کہتے ہیں سنبل اسے کہتے ہیں گلزار اسے کہتے ہیں اک رشتۂ الفت میں گردن ہے ہزاروں کی تسبیح اسے کہتے ہیں زنار اسے کہتے ہیں محشر کا کیا وعدہ یاں شکل نہ دکھلائی اقرار اسے کہتے ...

مزید پڑھیے

رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرح

رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرح گرہ میں رکھتے ہیں ہم آبرو گہر کی طرح سنی صفت کسی خوش چشم کی جو مردم سے خیال دوڑ گیا آنکھ پر نظر کی طرح چھپی نہ خلق خدا سے حقیقت خط شوق اڑا جہاں میں کبوتر مرا خبر کی طرح سوائے یار نہ دیکھا کچھ اور عالم میں سما گیا وہ مری آنکھ میں نظر کی طرح عدم ...

مزید پڑھیے

بام سے ڈھل چکا ہے آدھا دن

بام سے ڈھل چکا ہے آدھا دن کس سے ملنے چلا ہے آدھا دن تم جو چاہو تو رک بھی سکتا ہے ورنہ کس سے رکا ہے آدھا دن جھانکتی شام کے کنارے پر مجھ سے پھر لڑ پڑا ہے آدھا دن اس نے دیکھا جہاں پلٹ کے مجھے بس وہیں رک گیا ہے آدھا دن آس کی آہٹیں جگائے ہوئے کھڑکیوں میں سجا ہے آدھا دن دھوپ کی ریشمیں ...

مزید پڑھیے

احساس

رات پلیٹ میں دکھ رکھا تھا صبح کے کپ میں بے زاری تھی شام چائے کے ساتھ پڑا تھا دل کی صورت والا برفی کا اک ٹکڑا آج مرے کمرے میں پھر سے ہجر کی ٹیبل پر دل کا پیالہ یوں اشکوں سے بھرا ہوا تھا اندر سے کچھ ٹوٹ گیا تھا اور اک جگ یادوں سے بھرا میری جانب دیکھ رہا تھا ایک گلاس تھکن کا خالی جیسے ...

مزید پڑھیے

ورکنگ لیڈی

میں جب بھی گھر پہ آتی ہوں بہت سی چیزیں لاتی ہوں اور ان چیزوں میں اکثر خود کو رکھ کر بھول جاتی ہوں پتا اس وقت چلتا ہے کہ جب تکیے پہ رکھنے کو مجھے سر ہی نہیں ملتا میسر خواب کیسے ہوں کہ آنکھیں ہی نہیں ہوتیں تھکن سے چور ہاتھوں کی میں جب جب سسکیاں سنتی ہوں اپنی کرچیاں چنتی ہوں پہلو میں ...

مزید پڑھیے

میں تمہارا ہوں

نہ جانے اس دسمبر میں کسے تم شال پہناؤ اور اپنے سرد ہاتھوں سے تم اس کے گال کو چھو کر تم اس کے گال کو چھو کر یقیں اس کا دلاؤ گے کہ تم ہو صرف میری میں تمہارا ہوں

مزید پڑھیے

یہ کون تم سے اب کہے

یہ کون تم سے اب کہے یہ روز روز درد کے جو سلسلے ہیں کم کرو ذرا تو تم کرم کرو جو روز روز آؤ گے جو روز روز جاؤ گے کہاں تلک رلاؤ گے کہاں تلک ستاؤ گے نہ مجھ پہ اب ستم کرو جو ہو سکے کرم کرو ملا گیا ہے راستہ یہ مشکلوں سے جو ہمیں ملیں تو اس طرح ملیں کہ پھول بن کے ہم کھلیں یہ میں جو میں ہوں نہ ...

مزید پڑھیے

دھوپ کے سائے

شام دلہن کی طرح اپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی بیٹھی ہے گوشۂ چشم سے کاجل کی سیاہی ابھی آنسو بن کر بہتے غازے میں نہیں جذب ہوئی ابھی کھوئی نہیں بالوں کی دل افروز پریشانی میں مسکراتی ہوئی سیندور کی مانگ گھلتے رنگوں میں ابھی کاہش جاں باقی ہے گھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانے کب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5250 سے 6203