قومی زبان

آئینہ دیکھ کر نہ تو شیشے کو دیکھ کر

آئینہ دیکھ کر نہ تو شیشے کو دیکھ کر حیران دل ہے آپ کے چہرے کو دیکھ کر یہ واقعہ بھی خوب سر رہ گزر ہوا پتھر نے منہ چھپا لیے شیشے کو دیکھ کر بازار سے گزرتے ہوئے لگ رہا ہے ڈر بچہ مچل نہ جائے کھلونے کو دیکھ کر جگنو کی کوششوں سے سحر کیسے ہو گئی حیران ہیں اندھیرے اجالے کو دیکھ کر سچ ...

مزید پڑھیے

گر پڑے دانت ہوئے موئے سر اے یار سفید

گر پڑے دانت ہوئے موئے سر اے یار سفید کیوں نہ ہو خوف اجل سے یہ سیہ کار سفید دو قدم فرط نزاکت سے نہیں چل سکتا رنگ ہو جاتا ہے اس کا دم رفتار سفید اس مسیحا کی جو آنکھیں ہوئیں گلزار میں سرخ ہو گئی خوف سے بس نرگس بیمار سفید گل نسریں کو نہیں جوش چمن میں بلبل ہے نزاکت کے سبب چہرۂ گلزار ...

مزید پڑھیے

زمزمہ کس کی زباں پر بہ دل شاد آیا

زمزمہ کس کی زباں پر بہ دل شاد آیا منہ نہ کھولا تھا کہ پر باندھنے صیاد آیا قد جو بوٹا سا ترا سرو رواں یاد آیا غش پہ غش مجھ کو چمن میں تہ شمشاد آیا لے اڑی دل کو سوئے دشت ہوائے وحشت پھر یہ جھونکا مجھے کر دینے کو برباد آیا کس قدر دل سے فراموش کیا عاشق کو نہ کبھی آپ کو بھولے سے بھی میں ...

مزید پڑھیے

لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیں

لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیں مے نہیں یار نہیں شیشہ نہیں جام نہیں کب مجھے یاد رخ و زلف سیہ فام نہیں کوئی شغل اس کے سوا صبح سے تا شام نہیں ہر سخن پر مجھے دیتا ہے وہ بد خو دشنام کون سی بات مری قابل انعام نہیں نیک نامی میں دلا فرقۂ عشاق ہیں عشق ہے وہ بدنام محبت میں جو بدنام ...

مزید پڑھیے

روح کو راہ عدم میں مرا تن یاد آیا

روح کو راہ عدم میں مرا تن یاد آیا دشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیا چٹکیاں دل میں مرے لینے لگا ناخن عشق گلبدن دیکھ کے اس گل کا بدن یاد آیا وہم ہی وہم میں اپنی ہوئی اوقات بسر کمر یار کو بھولے تو دہن یاد آیا برگ گل دیکھ کے آنکھوں میں ترے پھر گئے لب غنچہ چٹکا تو مجھے لطف سخن یاد ...

مزید پڑھیے

آغوش میں جو جلوہ گر اک نازنیں ہوا

آغوش میں جو جلوہ گر اک نازنیں ہوا انگشتری بنا مرا تن وہ نگیں ہوا رونق فزا لحد پہ جو وہ مہ جبیں ہوا گنبد ہماری قبر کا چرخ بریں ہوا کندہ جہاں میں کوئی نہ ایسا نگیں ہوا جیسا کہ تیرا نام مرے دل نشیں ہوا روشن ہوا یہ مجھ پہ کہ فانوس میں ہے شمع ہاتھ اس کا جلوہ گر جو تہ آستیں ہوا رکھتا ...

مزید پڑھیے

خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سدا

خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سدا گھر عبث ہو پوچھتے مجھ خانماں برباد کا عشق قد یار میں کیا ناتوانی کا ہے زور غش مجھے آیا جو سایہ پڑ گیا شمشاد کا خود فراموشی تمہاری غیر کے کام آ گئی یاد رکھیے گا ذرا بھولے سے کہنا یاد کا خط لکھا کرتے ہیں اب وہ یک قلم مجھ کو شکست پیچ سے دل توڑتے ہیں ...

مزید پڑھیے

صبح وصال زیست کا نقشہ بدل گیا

صبح وصال زیست کا نقشہ بدل گیا مرغ سحر کے بولتے ہی دم نکل گیا دامن پہ لوٹنے لگے گر گر کے طفل اشک روئے فراق میں تو دل اپنا بہل گیا دشمن بھی گر مرے تو خوشی کا نہیں محل کوئی جہاں سے آج گیا کوئی کل گیا صورت رہی نہ شکل نہ غمزہ نہ وہ ادا کیا دیکھیں اب تجھے کہ وہ نقشا بدل گیا قاصد کو اس ...

مزید پڑھیے

ہیں جلوۂ تن سے در و دیوار بسنتی

ہیں جلوۂ تن سے در و دیوار بسنتی پوشاک جو پہنے ہے مرا یار بسنتی کیا فصل بہاری نے شگوفے ہیں کھلائے معشوق ہیں پھرتے سر بازار بسنتی گیندا ہے کھلا باغ میں میدان میں سرسوں صحرا وہ بسنتی ہے یہ گل زار بسنتی اس رشک مسیحا کا جو ہو جائے اشارہ آنکھوں سے بنے نرگس بیمار بسنتی گیندوں کے ...

مزید پڑھیے

دکھلائے خدا اس ستم ایجاد کی صورت

دکھلائے خدا اس ستم ایجاد کی صورت استادہ ہیں ہم باغ میں شمشاد کی صورت یاد آتی ہے بلبل پہ جو بیداد کی صورت رو دیتا ہوں میں دیکھ کے صیاد کی صورت آزاد ترے اے گل تر باغ جہاں میں بے جاہ و حشم شاد ہیں شمشاد کی صورت جو گیسوئے جاناں میں پھنسا پھر نہ چھٹا وہ ہیں قید میں پھر خوب ہے میعاد کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5249 سے 6203