ایک کہانی
میرے کمرے میں پھیلی ہے ایک کہانی ابھی ذرا سی دیر ہوئی ہے میں نے اک میلے کاغذ پر حرفوں کے ٹکڑے جوڑے تھے اور کہانی کو تھوڑی سی جگہ ملی تھی پھر لفظوں کے تانے بانے بکھر گئے تھے جن لفظوں سے آنکھ مچولی کھیلتے کھیلتے بیت گیا ہے اتنا وقت کہ اب تو یاد بھی کب آتا ہے اپنے جسم کی قید میں ہیں ہم ...