قومی زبان

ایک کہانی

میرے کمرے میں پھیلی ہے ایک کہانی ابھی ذرا سی دیر ہوئی ہے میں نے اک میلے کاغذ پر حرفوں کے ٹکڑے جوڑے تھے اور کہانی کو تھوڑی سی جگہ ملی تھی پھر لفظوں کے تانے بانے بکھر گئے تھے جن لفظوں سے آنکھ مچولی کھیلتے کھیلتے بیت گیا ہے اتنا وقت کہ اب تو یاد بھی کب آتا ہے اپنے جسم کی قید میں ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

دسترس

ابھرتی ہے مرے ماتھے کی سلوٹ میں شکن دھاگے کے کھنچنے کی ادھیڑے جا رہی ہوں میں بھی دن بھر سے مجھے جب یاد آتا ہے کہ میں کتنا الجھتی تھی مری نانی ہر اک کپڑے کو چاہے وہ نیا ہی کیوں نہ ہو اک بار کم سے کم نہ جب تک اپنے ہاتھوں سے ادھیڑیں اور سی لیں تب تلک ان کو سکوں آتا نہ تھا میں اکثر سوچتی ...

مزید پڑھیے

کھڑکی

میری جیسی نظمیں لکھنے والی لڑکی جس کھڑکی کی اوٹ سے مجھ کو دیکھ رہی ہے اس کے دھندلے شیشوں پر سب عکس ہیں میری آنکھوں سے بہتے پانی کے اور نقش ہیں اس کی چوکھٹ پر ان ہاتھوں کے اس کھڑکی کی آنکھوں سے دیکھا ہے میں نے اچھا اور برا لمحہ اور اندر اور باہر کے سب موسم وہیں سے گزرے ہیں اس کھڑکی ...

مزید پڑھیے

قرۃ العین حیدر

میں نے دیکھی ہیں کسی چہرے میں ایسی آنکھیں جن میں میرے کئی ان جانے سوالوں کے جواب ایسی آسانی سے سچائی کے در کھولتے ہیں آسمانوں میں زمینوں کے صنم بولتے ہیں میں نے جانا ہے کہ لفظوں کے طلسمی دھاگے کیسے تاریخ کو عنوان نئے دیتے ہیں کیسے آ ملتے ہیں صدیوں کی جدائی کے اسیر کس طرح خواب ...

مزید پڑھیے

جنگل

ایک عجیب سا جنگل ہے اس شہر کے بیچ اگ آیا گھنا مہیب اور گہرا جس کی خوب گھنیری چھایا یوں لگتا ہے جیسے میرے بھیتر کا اک سایا اک دن پہلے کہیں نہیں تھا ایسا سبز اندھیرا اونچی شاخوں کی پرتوں کا گنبد جیسا گھیرا دیکھوں پھر حیران رہوں اس شہر میں ایسا ڈیرا کانٹوں والے زہر بھرے بل کھاتے ...

مزید پڑھیے

صبا کی بات سنیں پھول سے کلام کریں

صبا کی بات سنیں پھول سے کلام کریں بہار آئے تو ہم بھی جنوں میں نام کریں نہ کوئی ریت کا ٹیلہ نہ سایہ دار درخت رہ وفا میں مسافر کہاں قیام کریں قدم قدم پہ ملے بولتے ہوئے پتھر تمہی بتاؤ کہ اب کس سے ہم کلام کریں مہک اڑاتی ہوئی آئی ہے نسیم بہار کہو اب اہل چمن سے کہ فکر دام کریں ہماری ...

مزید پڑھیے

لاکھ تیری ہی طرح کیوں نہ پرایا ہوتا

لاکھ تیری ہی طرح کیوں نہ پرایا ہوتا تجھ سا کوئی تو مرے دھیان میں آیا ہوتا وقت کے ساتھ تو چلتا ہے زمانہ سارا وقت کے ساتھ مری طرح نبھایا ہوتا میں ترے شہر میں تنہا ہوں نہ جانے کب سے تو نہ ہوتا تری دیوار کا سایا ہوتا کھلکھلاتے ہوئے لمحوں سے لپٹنے والو روٹھنے والی رتوں کو بھی منایا ...

مزید پڑھیے

کہیں سانحے ملیں گے کہیں حادثہ ملے گا

کہیں سانحے ملیں گے کہیں حادثہ ملے گا ترے شہر کی فضا سے مجھے اور کیا ملے گا کوئی سنگ توڑنے ہے سر راہ زندگانی میں ہر اک سے پوچھتا ہوں کہیں آئنا ملے گا تری جان بخش دینا مری مصلحت کا جز ہے مرے قاتلوں سے اک دن ترا سلسلہ ملے گا مرے قتل کی حقیقت نہ چھپا سکے گا کوئی مرے قاتلوں کے گھر میں ...

مزید پڑھیے

حیراں میں پہلی بار ہوا زندگی میں کل

حیراں میں پہلی بار ہوا زندگی میں کل اپنی جھلک دکھائی پڑی تھی کسی میں کل ماحول میں سجا کے اندھیروں کا اک فریب جگنو کو میں نے دیکھ لیا روشنی میں کل اچھے نہیں کہ حال پہ ماضی کا ہو اثر نہ پوچھ آج جو بھی ہوا بے کلی میں کل کوثر کی موج شکر کے سجدے میں گر پڑے کیا جانے میں نے کیا کہا تشنہ ...

مزید پڑھیے

میرا خط لکھ کے بلانا اسے اچھا نہ لگا

میرا خط لکھ کے بلانا اسے اچھا نہ لگا اس طرح پیار جتانا اسے اچھا نہ لگا کہہ کے ٹھوکر وہ تو راہوں میں گرا تھا لیکن میرا یوں ہاتھ بڑھانا اسے اچھا نہ لگا رہنے والی تھی وہ محلوں کی اسی کی خاطر میرا چھوٹا سا ٹھکانا اسے اچھا نہ لگا سن لیا پہلے تو ہنس ہنس کے فسانہ عنبرؔ پھر یہ بولی یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5248 سے 6203