قومی زبان

دل ہے ویران بیاباں کی طرح

دل ہے ویران بیاباں کی طرح گوشۂ شہر خموشاں کی طرح ہائے وہ جسم تہ خاک ہے آج جس نے رکھا تھا ہمیں جاں کی طرح صاحب خانہ سمجھتے تھے جسے چل دیا گھر سے وہ مہماں کی طرح چاند سورج کا گماں تھا جس پر بجھ گیا شمع شبستاں کی طرح سایۂ عاطفت اب سر پہ نہیں سایۂ ابر گریزاں کی طرح ہے اگر اپنا مقدر ...

مزید پڑھیے

ساون آیا چھانے لگے گھور گھن گھور بادل

ساون آیا چھانے لگے گھور گھن گھور بادل کرتے ہیں پھر دل کو پریشان چت چور بادل جنگل جنگل سنکی ہوا بانس بن جھوم اٹھے ناچے کودے گرجے مچانے لگے شور بادل ڈھولک نقارے بانسری جھانجھنیں بج رہی ہیں اس پر یہ ست رنگی دھنک بن گئے مور بادل بجلی کا پہلو گدگدایا بھریں چٹکیاں بھی جھوما جھٹکی ...

مزید پڑھیے

میں بھی کب سے چپ بیٹھا ہوں وہ بھی کب سے چپ بیٹھی ہے

میں بھی کب سے چپ بیٹھا ہوں وہ بھی کب سے چپ بیٹھی ہے یہ ہے وصال کی رسم انوکھی یہ ملنے کی ریت نئی ہے وہ جب مجھ کو دیکھ رہی تھی میں نے اس کو دیکھ لیا تھا بس اتنی سی بات تھی لیکن بڑھتے بڑھتے کتنے بڑھی ہے بے صورت بے جسم آوازیں اندر بھیج رہی ہیں ہوائیں بند ہیں کمرے کے دروازے لیکن کھڑکی ...

مزید پڑھیے

دعا کی شاخ پر

جب سے آئی ہے نظر مجھ کو دعا کی شاخ پر کونپل اثر کی میری پلکوں کو سجایا جا رہا ہے جھیل پتھر کو بنایا جا رہا ہے ریت سے آئینہ ڈھالا جا رہا ہے سنگ ذوق دید سے اک نگینہ سا تراشا جا رہا ہے بے ستوں پر ایک پارے کی لکیر اک مسلسل شب کے بعد صبح نو کی جوئے شیر آیۂ ''یمسک'' کی تفسیر

مزید پڑھیے

بمبئی رات سمندر

سمندر بولتا ہے سمندر اپنی پر اسرار موجوں کی زباں میں بولتا ہے سمندر کی صدائیں چیر دیتی ہیں شب تاریک کی چادر ابل پڑتی ہیں تسلسل اور تواتر کے دوائر میں تھرکتی ہیں سروں کے دانے اک تسبیح بن جاتے ہیں ''لے'' کے نرم ہاتھوں میں جو اس آواز کے جادو کے بس میں ہوتے جاتے ہیں سمندر کا کنارا سلیٹ ...

مزید پڑھیے

کیا کرتے ہیں دل داری دل آزاری نہیں کرتے

کیا کرتے ہیں دل داری دل آزاری نہیں کرتے ہنسانے کے لیے ہم بات بازاری نہیں کرتے مزاح و طنز میں ملحوظ رکھتے ہیں متانت کو کبھی مجروح ہم کرتے نہیں لفظوں کی حرمت کو جو کم شاداب چہرے ہیں انہیں شاداب کرتے ہیں جو کم سن ہیں بہت جھک کر انہیں آداب کرتے ہیں اجالے کو اجالا رات کو ہم رات کہتے ...

مزید پڑھیے

کوئی لے زور کی چٹکی تو ہے انکار پوشیدہ (ردیف .. ن)

کوئی لے زور کی چٹکی تو ہے انکار پوشیدہ کوئی چپکے سے چٹکی لے تو ہے اقرار چٹکی میں اک اپنے واسطے ہے دوسرا جس سے وہ ہاریں گے وہ لے کر گھومتے ہیں آج کل دو ہار چٹکی میں حنا آلود چٹکی دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کسی نے جیسے بھر دی ہو کوئی گلنار چٹکی میں وہ چٹکی لے کے دیتا ہے محبت صرف چٹکی ...

مزید پڑھیے

اک چھوڑو ہو اک اور جو مس مات کرو ہو

اک چھوڑو ہو اک اور جو مس مات کرو ہو ہر سال یہ کیا قبلۂ حاجات کرو ہو سمجھو ہو کہاں اوروں کو تم اپنے برابر بس منہ سے مساوات مساوات کرو ہو کیا حسن کی دولت بھی کبھی بانٹو ہو صاحب سننے میں تو آیا ہے کہ خیرات کرو ہو مل جاؤں تو کرتے ہو نہ ملنے کی شکایت گھر آؤں تو خاطر نہ مدارات کرو ...

مزید پڑھیے

گورکھ دھندا

ہوتے ہیں کام اپنے سارے ہی کچھ عجب سے یہ سلسلہ ہے جاری بالغ ہوئے ہیں جب سے دو بار ان کو چھیڑا ہم نے بس اک سبب سے اک بار اک سبب سے اک بار سبب سے

مزید پڑھیے
صفحہ 5233 سے 6203