لہو میں رنگ لہرانے لگے ہیں
لہو میں رنگ لہرانے لگے ہیں زمانے خود کو دہرانے لگے ہیں پروں میں لے کے بے حاصل اڑانیں پرندے لوٹ کر آنے لگے ہیں کہاں ہے قافلہ باد صبا کا دلوں کے پھول مرجھانے لگے ہیں کھلے جو ہم نشینوں کے گریباں خود اپنے زخم افسانے لگے ہیں کچھ ایسا درد تھا بانگ جرس میں سفر سے قبل پچھتانے لگے ...