شام ڈھلے جب بستی والے لوٹ کے گھر کو آتے ہیں
شام ڈھلے جب بستی والے لوٹ کے گھر کو آتے ہیں آہٹ آہٹ دستک دستک کیا کیا ہم گھبراتے ہیں اہل جنوں تو دل کی صدا پر جان سے اپنی جا بھی چکے اہل خرد اب جانے ہم کو کیا سمجھانے آتے ہیں جیسے ریل کی ہر کھڑکی کی اپنی اپنی دنیا ہے کچھ منظر تو بن نہیں پاتے کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں جس کی ہر اک اینٹ ...