نہ آسماں سے نہ دشمن کے زور و زر سے ہوا
نہ آسماں سے نہ دشمن کے زور و زر سے ہوا یہ معجزہ تو مرے دست بے ہنر سے ہوا قدم اٹھا ہے تو پاؤں تلے زمیں ہی نہیں سفر کا رنج ہمیں خواہش سفر سے ہوا میں بھیگ بھیگ گیا آرزو کی بارش میں وہ عکس عکس میں تقسیم چشم تر سے ہوا سیاہی شب کی نہ چہروں پہ آ گئی ہو کہیں سحر کا خوف ہمیں آئینوں کے ڈر سے ...