قومی زبان

بند تھا دروازہ بھی اور اگر میں بھی تنہا تھا میں

بند تھا دروازہ بھی اور اگر میں بھی تنہا تھا میں وہم تھا جانے مرا یا آپ ہی بولا تھا میں یاد ہے اب تک مجھے وہ بد حواسی کا سماں تیرے پہلے خط کو گھنٹوں چومتا رہتا تھا میں راستوں پر تیرگی کی یہ فراوانی نہ تھی اس سے پہلے بھی تمہارے شہر میں آیا تھا میں میری انگلی پر ہیں اب تک میرے ...

مزید پڑھیے

ہوائیں لاکھ چلیں لو سنبھلتی رہتی ہے

ہوائیں لاکھ چلیں لو سنبھلتی رہتی ہے دیے کی روح میں کیا چیز جلتی رہتی ہے کسے خبر کہ یہ اک دن کدھر کو لے جائے لہو کی موج جو سر میں اچھلتی رہتی ہے اگر کہوں تو تمہیں بھی نہ اعتبار آئے جو آرزو مرے دل میں مچلتی رہتی ہے مدار سے نہیں ہٹتا کوئی ستارا کیوں یہ کس حصار میں ہر چیز چلتی رہتی ...

مزید پڑھیے

تشہیر اپنے درد کی ہر سو کرائیے

تشہیر اپنے درد کی ہر سو کرائیے جی چاہتا ہے منت طفلاں اٹھائیے خوشبو کا ہاتھ تھام کے کیجے تلاش رنگ پاؤں کے نقش دیکھ کے رستہ بنائیے پھر آج پتھروں سے ملاقات کیجیے پھر آج سطح آب پہ چہرے بنائیے ہر انکشاف درد کے پردے میں آئے گا گر ہو سکے تو خود سے بھی خود کو چھپائے پھولوں کا راستہ ...

مزید پڑھیے

قائد اعظم

آدم کی تاریخ کے سینے میں ڈوبے ہیں کتنے سورج کتنے چاند کیسے کیسے رنگ تھے مٹی سے پھوٹے موج ہوا کے بنتے اور بگڑتے رستوں میں ٹھہرے اور خاک ہوئے نیلے اور اتھاہ سمندر کے ہونٹوں کی پیاس بنے آنے والے دن کی آنکھوں میں لہراتی آس بنے کیسے کیسے رنگ تھے جو مٹی سے چمکے اور چمک کر پڑ گئے ...

مزید پڑھیے

سیلف میڈ لوگوں کا المیہ

سیلف میڈ لوگوں کا المیہ روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہے زندگی کے رستے میں بچھنے والے کانٹوں کو راہ سے ہٹانے میں ایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میں خوشبوئیں پکڑنے میں گلستاں سجانے میں عمر کاٹ دیتے ہیں عمر کاٹ دیتے ہیں اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیں کیسی کیسی خواہش کو قتل کرتے ...

مزید پڑھیے

آتے جاتے دن

آتے جاتے دن کیا کہتے ہیں سن علم کے چاند چراغ سے ساتھی جیون کے اس باغ سے ساتھی ساری کلیاں چن آتے جاتے دن کیا کہتے ہیں سن آدھا ہے ایمان صفائی جس نے عادت یہ اپنائی اس کا روشن نام ہے ساتھی سب سے بھلا یہ کام ہے ساتھی سب سے اچھا گن اچھی آنکھیں اچھے خواب ساز ہے دنیا دل مضراب چاروں جانب ...

مزید پڑھیے

اک بار جو کھو جائے وہ وقت نہیں ملتا

اک بار جو کھو جائے وہ وقت نہیں ملتا جو پھول بکھر جائے وہ مرجھا کے نہیں کھلتا جو وقت ملا ہم کو اللہ کی امانت ہے اک خواب کا چہرا ہے تعبیر کی صورت ہے گر حکم نہ ہو اس کا پتا بھی نہیں ہلتا اک بار جو کھو جائے وہ وقت نہیں ملتا موقعے کا بس اک ٹانکا تو ٹانکے بچاتا ہے ادھڑے ہوئے دامن کو پھٹنے ...

مزید پڑھیے

سوال اندر سوال

سورج ڈوبا کہاں گیا وہ سارا دن یہ چاند کہاں تھا نیند میں ڈوبے بند آنکھوں میں خواب کدھر سے آتے ہیں باغوں میں یہ رنگوں کے سیلاب کدھر سے آتے ہیں بلبل ایسے پیارے نغمے کس سے سیکھ کے آتی ہے سبزہ کیسے جی اٹھتا ہے تتلی کیوں مر جاتی ہے لاکھوں ٹن یہ لوہا کیسے آسمان میں اڑتا ہے بجلی کیسے جل ...

مزید پڑھیے

خواب سراب

اب جو سوچیں بھی تو خوف آتا ہے کس قدر خواب تھے جو خواب رہے کس قدر نقش تھے جو نقش سر آب رہے کس قدر لوگ تھے جو دل کی دہلیز پہ دستک کی طرح رہتے تھے اور نایاب رہے کس قدر رنگ تھے جو بند گلیوں کے خم و پیچ میں چکراتے رہے اپنے ہونے کی تب و تاب میں لہراتے رہے پر کبھی آپ سے باہر نہ ہوئے پھول کے ...

مزید پڑھیے

سرمایۂ جاں

یہ سب نے دیکھا کہ ساز گل سے نکل کے خوشبو کا ایک جھونکا ہزار نغمے سنا گیا ہے مگر کسی کو نظر نہ آیا کہ اس کے پردے میں گل نے اپنا تمام جوہر لٹا دیا ہے یہ میری سوچوں کی سبز خوشبو یہ میری نظمیں یہ میرا جوہر یہ میرے لفظوں کے شاہزادے یہ میری آواز کے مسافر نکل کے ہونٹوں کی وادیوں سے خموشیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5181 سے 6203