بند تھا دروازہ بھی اور اگر میں بھی تنہا تھا میں
بند تھا دروازہ بھی اور اگر میں بھی تنہا تھا میں وہم تھا جانے مرا یا آپ ہی بولا تھا میں یاد ہے اب تک مجھے وہ بد حواسی کا سماں تیرے پہلے خط کو گھنٹوں چومتا رہتا تھا میں راستوں پر تیرگی کی یہ فراوانی نہ تھی اس سے پہلے بھی تمہارے شہر میں آیا تھا میں میری انگلی پر ہیں اب تک میرے ...