سمندر آسمان اور میں
کھلیں جو آنکھیں تو سر پہ نیلا فلک تنا تھا چہار جانب سیاہ پانی کی تند موجوں کا غلغلہ تھا ہوائیں چیخوں کو اور کراہوں کو لے کے چلتی تھیں اور مٹی کی زرد خوشبو میں موت موسم کا ذائقہ تھا نظر مناظر میں ڈوب کر بھی مثال شیشہ تہی تھی یعنی گل تماشا نہیں کھلا تھا ہراس جذبوں کی رہ گزر میں دل ...