قومی زبان

سمندر آسمان اور میں

کھلیں جو آنکھیں تو سر پہ نیلا فلک تنا تھا چہار جانب سیاہ پانی کی تند موجوں کا غلغلہ تھا ہوائیں چیخوں کو اور کراہوں کو لے کے چلتی تھیں اور مٹی کی زرد خوشبو میں موت موسم کا ذائقہ تھا نظر مناظر میں ڈوب کر بھی مثال شیشہ تہی تھی یعنی گل تماشا نہیں کھلا تھا ہراس جذبوں کی رہ گزر میں دل ...

مزید پڑھیے

چشم بے خواب کو سامان بہت

چشم بے خواب کو سامان بہت! رات بھر شہر کی گلیوں میں ہوا ہاتھ میں سنگ لیے خوف سے زرد مکانوں کے دھڑکتے دل پر دستکیں دیتی چلی جاتی ہے روشنی بند کواڑوں سے نکلتے ہوئے گھبراتی ہے ہر طرف چیخ سی چکراتی ہے ہیں مرے دل کے لیے درد کے عنوان بہت درد کا نام سماعت کے لیے راحت جاں دست بے مایہ کو ...

مزید پڑھیے

جب بھی آنکھوں میں ترے وصل کا لمحہ چمکا

جب بھی آنکھوں میں ترے وصل کا لمحہ چمکا چشم بے آب کی دہلیز پہ دریا چمکا فصل گل آئی کھلے باغ میں خوشبو کے علم دل کے ساحل پہ ترے نام کا تارا چمکا عکس بے نقش ہوئے آئنے دھندلانے لگے درد کا چاند سر بام تمنا چمکا رنگ آزاد ہوئے گل کی گرہ کھلتے ہی ایک لمحے میں عجب باغ کا چہرا چمکا پیرہن ...

مزید پڑھیے

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی بام و در پہ نقش تحریر ہوا رہ جائے گی آنسوؤں کا رزق ہوں گی بے نتیجہ چاہتیں خشک ہونٹوں پر لرزتی اک دعا رہ جائے گی رو بہ رو منظر نہ ہوں تو آئینے کس کام کے ہم نہیں ہوں گے تو دنیا گرد پا رہ جائے گی خواب کے نشے میں جھکتی جائے گی چشم قمر رات کی ...

مزید پڑھیے

یاد کے صحرا میں کچھ تو زندگی آئے نظر

یاد کے صحرا میں کچھ تو زندگی آئے نظر سوچتا ہوں اب بنا لوں ریت سے ہی کوئی گھر کس قدر یادیں ابھر آئی ہیں تیرے نام سے ایک پتھر پھینکنے سے پڑ گئے کتنے بھنور وقت کے اندھے کنوئیں میں پل رہی ہے زندگی اے مرے حسن تخیل بام سے نیچے اتر تو اسیر آبروئے شیوۂ پندار حسن میں گرفتار نگاہ زندگیٔ ...

مزید پڑھیے

یہ گرد باد تمنا میں گھومتے ہوئے دن

یہ گرد باد تمنا میں گھومتے ہوئے دن کہاں پہ جا کے رکیں گے یہ بھاگتے ہوئے دن غروب ہوتے گئے رات کے اندھیروں میں نوید امن کے سورج کو ڈھونڈتے ہوئے دن نہ جانے کون خلا کے یہ استعارے ہیں تمہارے ہجر کی گلیوں میں گونجتے ہوئے دن نہ آپ چلتے نہ دیتے ہیں راستہ ہم کو تھکی تھکی سی یہ شامیں یہ ...

مزید پڑھیے

پردے میں لاکھ پھر بھی نمودار کون ہے

پردے میں لاکھ پھر بھی نمودار کون ہے ہے جس کے دم سے گرمئ بازار کون ہے وہ سامنے ہے پھر بھی دکھائی نہ دے سکے میرے اور اس کے بیچ یہ دیوار کون ہے باغ وفا میں ہو نہیں سکتا یہ فیصلہ صیاد یاں پہ کون گرفتار کون ہے مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند ہے دیکھنا کہ دھند کے اس پار کون ہے کچھ ...

مزید پڑھیے

تارا تارا اتر رہی ہے رات سمندر میں

تارا تارا اتر رہی ہے رات سمندر میں جیسے ڈوبنے والوں کے ہوں ہاتھ سمندر میں ساحل پر تو سب کے ہوں گے اپنے اپنے لوگ رہ جائے گی کشتی کی ہر بات سمندر میں ایک نظر دیکھا تھا اس نے آگے یاد نہیں کھل جاتی ہے دریا کی اوقات سمندر میں میں ساحل سے لوٹ آیا تھا کشتی چلنے پر پگھل چکی تھی لیکن ...

مزید پڑھیے

سائے ڈھلنے چراغ جلنے لگے

سائے ڈھلنے چراغ جلنے لگے لوگ اپنے گھروں کو چلنے لگے اتنی پر پیچ ہے بھنور کی گرہ جیسے نفرت دلوں میں پلنے لگے دور ہونے لگی جرس کی صدا کارواں راستے بدلنے لگے اس کے لہجے میں برف تھی لیکن چھو کے دیکھا تو ہاتھ جلنے لگے اس کے بند قبا کے جادو سے سانپ سے انگلیوں میں چلنے لگے راہ گم ...

مزید پڑھیے

رات میں اس کشمکش میں ایک پل سویا نہیں

رات میں اس کشمکش میں ایک پل سویا نہیں کل میں جب جانے لگا تو اس نے کیوں روکا نہیں یوں اگر سوچوں تو اک اک نقش ہے سینے پہ نقش ہائے وہ چہرہ کہ پھر بھی آنکھ میں بنتا نہیں کیوں اڑاتی پھر رہی ہے در بدر مجھ کو ہوا میں اگر اک شاخ سے ٹوٹا ہوا پتا نہیں آج تنہا ہوں تو کتنا اجنبی ماحول ہے ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5180 سے 6203