اے ہجر زدہ شب
اے ہجر زدہ شب آ تو ہی مرے سینے سے لگ جا کہ بٹے غم احساس کو تنہائی کی منزل سے ملے رہ آواز کی گمنام زمینوں کو ملے نم آ کچھ تو گھٹے غم اس ساعت مہجور کی فریاد ہو مدھم کیوں نوحہ بہ لب پھرتی ہے محروم مخاطب اے ہجر زدہ شب دیکھ آج تمناؤں کی بے سمت ہوائیں دل شرمندہ نظر کو پھر لے کے چلی ہیں وہی ...