قومی زبان

فلک نژاد سہی سرنگوں زمیں پہ تھا میں

فلک نژاد سہی سرنگوں زمیں پہ تھا میں جبین خاک پہ تھی اور مری جبیں پہ تھا میں گندھی پڑی تھی مری خاک خال و خد کے بغیر ابھی ہمکتا ہوا چاک اولیں پہ تھا میں یہ تب کی بات ہے جب کن نہیں کہا گیا تھا کہیں کہیں پہ خدا تھا کہیں کہیں پہ تھا میں نیا نیا میں نکالا ہوا تھا جنت سے زمیں بنائی گئی ...

مزید پڑھیے

اور کچھ یاد نہیں اب سے نہ تب سے پوچھو

اور کچھ یاد نہیں اب سے نہ تب سے پوچھو میری آنکھوں سے لہو بہتا ہے کب سے پوچھو لمحہ لمحہ میں ہوا جاتا ہوں ریزہ ریزہ وجہ کچھ مجھ سے نہ پوچھو مرے رب سے پوچھو وہ تو سورج ہے ہر اک بات کا شعلہ ہے جواب روبرو آ کے کہو یا کہ عقب سے پوچھو یاد ہے قصۂ غم کا مجھے ہر لفظ ابھی حال جس درد کا جس رنج ...

مزید پڑھیے

بڑی فرض آشنا ہے صبا کرے خوب کام حساب کا

بڑی فرض آشنا ہے صبا کرے خوب کام حساب کا پھر اڑا کے لے گئی اک ورق مری زندگی کی کتاب کا کہوں کیا کہ دشت حیات میں رہا سلسلہ وہ سراب کا کبھی حوصلہ ہی نہ کر سکی مری آنکھ دریا کے خواب کا نہ عطائے دختر رز ہے یہ نہ ہے فیض ساقیٔ مے نفس جو چڑھے تو پھر نہ اتر سکے یہ نشہ ہے فن کی شراب کا سر راہ ...

مزید پڑھیے

ہوا کے ہاتھ میں یادوں کی جب پچکاریاں ہوں گی

ہوا کے ہاتھ میں یادوں کی جب پچکاریاں ہوں گی بھڑک اٹھیں گی جو بھی راکھ میں چنگاریاں ہوں گی در و دیوار کو ہی گھر نہیں کہتے ہیں کیا جاؤں لچکتی شاخ گل ہوگی نہ ہنستی کیاریاں ہوں گی مرے آنگن میں برگ خشک دالانوں میں سناٹے کشادہ کمروں میں دیمک زدہ الماریاں ہوں گی ادھر سچ بولنے گھر سے ...

مزید پڑھیے

خودکشی کا المیہ

موٹر کے پہیے بجلی کے کھمبے پہ چند چھینٹے کچھ چکنی سڑک پہ دور تک اک سرخ سی لکیر فٹ پاتھ پہ کچھ جا بجا دھبے سیاہ و سرخ نالی کے گدلے پانی کے سینے پہ چند داغ باؤنڈری وال پر بھی کچھ اسپاٹ کھردرے چہروں پہ راہگیروں کے ناخوش گوار نقش ماحول میں اک لمحہ کو بے نام سا تناؤ آنکھیں مری ابل پڑیں ...

مزید پڑھیے

اک دوجے کو دیر سے سمجھا دیر سے یاری کی

اک دوجے کو دیر سے سمجھا دیر سے یاری کی ہم دونوں نے ایک محبت باری باری کی خود پر ہنسنے والوں میں ہم خود بھی شامل تھے ہم نے بھی جی بھر کر اپنی دل آزاری کی اک آنسو نے دھو ڈالی ہے دل کی ساری میل ایک دیے نے کاٹ کے رکھ دی گہری تاریکی دل نے خود اصرار کیا اک ممکنہ ہجرت پر ہم نے اس مجبوری ...

مزید پڑھیے

بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئے

بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئے کچھ دیر کے لیے مجھے تنہائی چاہیئے کچھ غم کشید کرنے ہیں اپنے وجود سے جا غم کے ساتھیے مجھے تنہائی چاہیئے اکتا گیا ہوں خود سے اگر میں تو کیا ہوا یہ بھی تو دیکھیے مجھے تنہائی چاہیئے اک روز خود سے ملنا ہے اپنے خمار میں اک شام بن پئے مجھے تنہائی ...

مزید پڑھیے

ہوا کا تخت بچھاتا ہوں رقص کرتا ہوں

ہوا کا تخت بچھاتا ہوں رقص کرتا ہوں بدن چراغ بناتا ہوں رقص کرتا ہوں میں بیٹھ جاتا ہوں تکیہ لگا کے باطن میں خود اپنی بزم سجاتا ہوں رقص کرتا ہوں زمین ہانپنے لگتی ہے اک جگہ رک کر میں اس کا ہاتھ بٹاتا ہوں رقص کرتا ہوں مرا سرور مجھے کھینچتا ہے اپنی طرف میں اپنے آپ میں آتا ہوں رقص ...

مزید پڑھیے

ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں

ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں ابھی میں اپنے حجابات میں پڑا ہوا ہوں مجھے یقیں ہی نہیں آ رہا کہ یہ میں ہوں عجب توہم و شبہات میں پڑا ہوا ہوں گزر رہی ہے مجھے روندتی ہوئی دنیا قدیم و کہنہ روایات میں پڑا ہوا ہوں بچاؤ کا کوئی رستہ نہیں بچا مجھ میں میں اپنے خانۂ شہ مات میں پڑا ہوا ...

مزید پڑھیے

خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے

خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے میں نے اک شخص سے اجرت پہ محبت کی ہے خود کو دھتکار دیا میں نے تو اس دنیا نے میری اوقات سے بڑھ کر مری عزت کی ہے جی میں آتا ہے مری مجھ سے ملاقات نہ ہو بات ملنے کی نہیں بات طبیعت کی ہے اب بھی تھوڑی سی مرے دل میں پڑی ہے شاید زرد سی دھوپ جو دیوار سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5171 سے 6203