اسے تو پاس خلوص وفا ذرا بھی نہیں
اسے تو پاس خلوص وفا ذرا بھی نہیں مگر یہ آس کا رشتہ کہ ٹوٹتا بھی نہیں گھرے ہوئے ہیں خموشی کی برف میں کب سے کسی کے پاس کوئی تیشۂ صدا بھی نہیں مآل غنچہ و گل ہے مری نگاہوں میں مجھے تبسم کاذب کا حوصلہ بھی نہیں طلوع صبح ازل سے میں ڈھونڈھتا تھا جسے ملا تو ہے پہ مری سمت دیکھتا بھی ...