قومی زبان

اسے تو پاس خلوص وفا ذرا بھی نہیں

اسے تو پاس خلوص وفا ذرا بھی نہیں مگر یہ آس کا رشتہ کہ ٹوٹتا بھی نہیں گھرے ہوئے ہیں خموشی کی برف میں کب سے کسی کے پاس کوئی تیشۂ صدا بھی نہیں مآل غنچہ و گل ہے مری نگاہوں میں مجھے تبسم‌ کاذب کا حوصلہ بھی نہیں طلوع صبح ازل سے میں ڈھونڈھتا تھا جسے ملا تو ہے پہ مری سمت دیکھتا بھی ...

مزید پڑھیے

میں دیکھ بھی نہ سکا میرے گرد کیا گیا تھا

میں دیکھ بھی نہ سکا میرے گرد کیا گیا تھا کہ جس مقام پہ میں تھا وہاں اجالا تھا درست ہے کہ وہ جنگل کی آگ تھی لیکن وہیں قریب ہی دریا بھی اک گزرتا تھا تم آ گئے تو چمکنے لگی ہیں دیواریں ابھی ابھی تو یہاں پر بڑا اندھیرا تھا لبوں پہ خیر تبسم بکھر بکھر ہی گیا یہ اور بات کہ ہنسنے کو دل ...

مزید پڑھیے

کیوں کسی اور کو دکھ درد سناؤں اپنے

کیوں کسی اور کو دکھ درد سناؤں اپنے اپنی آنکھوں سے بھی میں زخم چھپاؤں اپنے میں تو قائم ہوں ترے غم کی بدولت ورنہ یوں بکھر جاؤں کہ خود ہاتھ نہ آؤں اپنے شعر لوگوں کے بہت یاد ہیں اوروں کے لیے تو ملے تو میں تجھے شعر سناؤں اپنے تیرے رستے کا جو کانٹا بھی میسر آئے میں اسے شوق سے کالر پر ...

مزید پڑھیے

بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے ترے

بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے ترے انوکھے انوکھے خسارے ترے اللے تللے ادھارے ترے بھلا کون قرضے اتارے ترے گرانی کی سوغات حاصل مرا محاصل ترے گوشوارے ترے مشیروں کا جمگھٹ سلامت رہے بہت کام جس نے سنوارے ترے مری سادہ لوحی سمجھتی نہیں حسابی کتابی اشارے ترے کئی اصطلاحوں میں گوندھے ...

مزید پڑھیے

جس طرح کی ہیں یہ دیواریں یہ در جیسا بھی ہے

جس طرح کی ہیں یہ دیواریں یہ در جیسا بھی ہے سر چھپانے کو میسر تو ہے گھر جیسا بھی ہے اس کو مجھ سے مجھ کو اس سے نسبتیں ہیں بے شمار میری چاہت کا ہے محور یہ نگر جیسا بھی ہے چل پڑا ہوں شوق بے پروا کو مرشد مان کر راستہ پر پیچ ہے یا پر خطر جیسا بھی ہے سب گوارا ہے تھکن ساری دکھن ساری ...

مزید پڑھیے

سوچنا روح میں کانٹے سے بچھائے رکھنا

سوچنا روح میں کانٹے سے بچھائے رکھنا یہ بھی کیا سانس کی تلوار بنائے رکھنا اب تو یہ رسم ہے خوشبو کے قصیدے پڑھنا پھول گلدان میں کاغذ کے سجائے رکھنا تیرگی ٹوٹ پڑے بھی تو برا مت کہیو ہو سکے گر تو چراغوں کو جلائے رکھنا راہ میں بھیڑ بھی پڑتی ہے ابھی سے سن لو ہاتھ سے ہاتھ ملا ہے تو ...

مزید پڑھیے

اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے

اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے دل میں اک تیری تمنا جو بسا رکھی ہے سر بکف میں بھی ہوں شمشیر بکف ہے تو بھی تو نے کس دن پہ یہ تقریب اٹھا رکھی ہے دل سلگتا ہے ترے سرد رویے سے مرا دیکھ اس برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے آئنہ دیکھ ذرا کیا میں غلط کہتا ہوں تو نے خود سے بھی کوئی بات چھپا رکھی ...

مزید پڑھیے

میں جرم خموشی کی صفائی نہیں دیتا

میں جرم خموشی کی صفائی نہیں دیتا ظالم اسے کہیے جو دہائی نہیں دیتا کہتا ہے کہ آواز یہیں چھوڑ کے جاؤ میں ورنہ تمہیں اذن رہائی نہیں دیتا چرکے بھی لگے جاتے ہیں دیوار بدن پر اور دست ستم گر بھی دکھائی نہیں دیتا آنکھیں بھی ہیں رستا بھی چراغوں کی ضیا بھی سب کچھ ہے مگر کچھ بھی سجھائی ...

مزید پڑھیے

پڑھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ مٹ بھی گئی تھی

پڑھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ مٹ بھی گئی تھی بجلی نے گھٹاؤں پہ جو تحریر لکھی تھی چپ سادھ کے بیٹھے تھے سبھی لوگ وہاں پر پردے پہ جو تصویر تھی کچھ بول رہی تھی لہراتے ہوئے آئے تھے وہ امن کا پرچم پرچم کو اٹھائے ہوئے نیزے کی انی تھی ڈوبے ہوئے تاروں پہ میں کیا اشک بہاتا چڑھتے ہوئے سورج ...

مزید پڑھیے

اگلے دن کچھ ایسے ہوں گے

اگلے دن کچھ ایسے ہوں گے چھلکے پھلوں سے مہنگے ہوں گے ننھی ننھی چیونٹیوں کے بھی ہاتھی جیسے سائے ہوں گے بھیڑ تو ہوگی لیکن پھر بھی سونے سونے رستے ہوں گے پھول کھلیں گے تنہا تنہا جھرمٹ جھرمٹ کانٹے ہوں گے لوگ اسے بھگوان کہیں گے جس کی جیب میں پیسے ہوں گے ریت جلے گی دھوپ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5105 سے 6203