قومی زبان

بس اب ترک تعلق کے بہت پہلو نکلتے ہیں

بس اب ترک تعلق کے بہت پہلو نکلتے ہیں سو اب یہ طے ہوا ہے شہر سے سادھو نکلتے ہیں ہم آ نکلے عجب سے ایک صحرائے محبت میں شکاری کے تعاقب میں یہاں آہو نکلتے ہیں یہ اک منظر بہت ہے عمر بھر حیران رہنے کو کہ مٹی کے مساموں سے بھی رنگ و بو نکلتے ہیں ضمیر سنگ تجھ کو تیرا پیکر ساز آ پہنچا ابھی ...

مزید پڑھیے

بس یوں ہی اک وہم سا ہے واقعہ ایسا نہیں

بس یوں ہی اک وہم سا ہے واقعہ ایسا نہیں آئنے کی بات سچی ہے کہ میں تنہا نہیں بیٹھیے پیڑوں کی اترن کا الاؤ تاپئے برگ سوزاں کے سوا درویش کچھ رکھتا نہیں اف چٹخنے کی صدا سے کس قدر ڈرتا ہوں میں کتنی باتیں ہیں کہ دانستہ جنہیں سوچا نہیں اپنی اپنی سب کی آنکھیں اپنی اپنی خواہشیں کس نظر ...

مزید پڑھیے

کیسی کیسی آیتیں مستور ہیں نقطے کے بیچ

کیسی کیسی آیتیں مستور ہیں نقطے کے بیچ کیا گھنے جنگل چھپے بیٹھے ہیں اک دانے کے بیچ رفتہ رفتہ رخنہ رخنہ ہو گئی مٹی کی گیند اب خلیجوں کے سوا کیا رہ گیا نقشے کے بیچ میں تو باہر کے مناظر سے ابھی فارغ نہیں کیا خبر ہے کون سے اسرار ہیں پردے کے بیچ اے دل ناداں کسی کا روٹھنا مت یاد کر آن ...

مزید پڑھیے

کب تلک یوں دھوپ چھاؤں کا تماشا دیکھنا

کب تلک یوں دھوپ چھاؤں کا تماشا دیکھنا دھوپ میں پھرنا گھنے پیڑوں کا سایا دیکھنا ساتھ اس کے کوئی منظر کوئی پس منظر نہ ہو اس طرح میں چاہتا ہوں اس کو تنہا دیکھنا رات اپنے دیدۂ گریاں کا نظارہ کیا کس سے پوچھیں خواب میں کیسا ہے دریا دیکھنا اس گھڑی کچھ سوجھنے دے گی نہ یہ پاگل ہوا اک ...

مزید پڑھیے

درد بڑھتا ہی رہے ایسی دوا دے جاؤ

درد بڑھتا ہی رہے ایسی دوا دے جاؤ کچھ نہ کچھ میری وفاؤں کا صلا دے جاؤ یوں نہ جاؤ کہ میں رو بھی نہ سکوں فرقت میں میری راتوں کو ستاروں کی ضیا دے جاؤ ایک بار آؤ کبھی اتنے اچانک پن سے نا امیدی کو تحیر کی سزا دے جاؤ دشمنی کا کوئی پیرایۂ نادر ڈھونڈو جب بھی آؤ مجھے جینے کی دعا دے ...

مزید پڑھیے

اشارتوں کی وہ شرحیں وہ تجزیہ بھی گیا

اشارتوں کی وہ شرحیں وہ تجزیہ بھی گیا جو گرد متن بنا تھا وہ حاشیہ بھی گیا وہ دل ربا سے جو سپنے تھے لے اڑیں نیندیں دھنک نگر سے وہ دھندلا سا رابطہ بھی گیا عجیب لطف تھا نادانیوں کے عالم میں سمجھ میں آئیں تو باتوں کا وہ مزہ بھی گیا ہمیں بھی بننے سنورنے کا دھیان رہتا تھا وہ ایک شخص کہ ...

مزید پڑھیے

چڑھتے طوفان کو ساحل سے گزرنا تھا میاں

چڑھتے طوفان کو ساحل سے گزرنا تھا میاں ریت کے گھر کو بہرحال بکھرنا تھا میاں کب تلک پاؤں کو توڑے ہوئے بیٹھا رہتا راہ دشوار سے رہرو کو گزرنا تھا میاں اتنے مانوس تھے صیاد سے جاتے نہ کہیں قید میں پر نہ پرندوں کے کترنا تھا میاں جب نہ سمجھے تو پھر اب چھیڑ کے پچھتانا کیا چشم نمناک میں ...

مزید پڑھیے

درد دل کی دوا ہے ماہ نو

درد دل کی دوا ہے ماہ نو آسماں پر کھلا ہے ماہ نو میری ہی طرح تیرا بھی ان سے کیا کوئی واسطہ ہے ماہ نو ان کا چہرہ دکھائی دیتا ہے کیا کوئی آئنہ ہے ماہ نو مسکراتا ہے دیکھ کر ہم کو جیسے سب جانتا ہے ماہ نو دن کو سوتا ہے وہ نہ جانے کہاں رات کو جاگتا ہے ماہ نو رہ کے میری طرح سے چپ ...

مزید پڑھیے

رات کا کیا ذکر ہے شام و سحر آیا نہیں

رات کا کیا ذکر ہے شام و سحر آیا نہیں کون سا الزام ہے جو میرے سر آیا نہیں یوں تو راہ بے خطر میں رہنما ملتے رہے پر خطر راہوں میں کوئی راہبر آیا نہیں کون جانے کس کے ڈر سے آج پھر میرا رفیق چاہتا تھا میرے گھر آنا مگر آیا نہیں اس قدر قربت بڑھی ہر نقش دھندلا ہو گیا وہ تھا میرے سامنے ...

مزید پڑھیے

بے گھر تھا پھر چھوڑ گیا گھر جانے کیوں

بے گھر تھا پھر چھوڑ گیا گھر جانے کیوں پار کیا ہے سات سمندر جانے کیوں آنکھیں حیراں دل ویراں ہیں چہرے زرد چیخ رہا ہے منظر منظر جانے کیوں آنکھوں میں مظلوموں کے بس آنسو ہیں فکر میں ہے ہر ایک ستم گر جانے کیوں تپتی ریت جھلستے سائے تند ہوا گھر سے نکلا موم کا پیکر جانے کیوں پھول سا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5106 سے 6203