قومی زبان

سائیڈ ایفیکٹس

سر درد میں گولی یہ بڑی زود اثر ہے پر تھوڑا سا نقصان بھی ہو سکتا ہے اس سے ہو سکتی ہے پیدا کوئی تبخیر کی صورت دل تنگ و پریشان بھی ہو سکتا ہے اس سے ہو سکتی ہے کچھ ثقل سماعت کی شکایت بیکار کوئی کان بھی ہو سکتا ہے اس سے ممکن ہے خرابی کوئی ہو جائے جگر میں ہاں آپ کو یرقان بھی ہو سکتا ہے ...

مزید پڑھیے

سر درد میں گولی یہ بڑی زود اثر ہے

سر درد میں گولی یہ بڑی زود اثر ہے پر تھوڑا سا نقصان بھی ہو سکتا ہے اس سے ہو سکتی ہے پیدا کوئی تبخیر کی صورت دل تنگ و پریشان بھی ہو سکتا ہے اس سے ہو سکتی ہے کچھ ثقل سماعت کی شکایت بیکار کوئی کان بھی ہو سکتا ہے اس سے ممکن ہے خرابی کوئی ہو جائے جگر میں ہاں آپ کو یرقان بھی ہو سکتا ہے ...

مزید پڑھیے

مرد ہونی چاہیے خاتون ہونا چاہیے

مرد ہونی چاہیے خاتون ہونا چاہیے اب گرامر کا یہی قانون ہونا چاہیے رات کو بچے پڑھائی کی اذیت سے بچے ان کو ٹی وی کا بہت ممنون ہونا چاہیے دوستو انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے فیل ہونے کو بھی اک مضمون ہونا چاہیے نرسری کا داخلہ بھی سرسری مت جانئے آپ کے بچے کو افلاطون ہونا چاہیے صرف ...

مزید پڑھیے

داخل دفتر

کلرکوں کی سبھی میزوں پہ انورؔ ہر اک فائل مزے سے سو رہی ہے اگرچہ کام سارے رک گئے ہیں مگر میٹنگ برابر ہو رہی ہے

مزید پڑھیے

جوہر و جواہر

اگر ہیں تیغ میں جوہر جواہر میں خمیرے میں ادھر زور آزمائی ہے ادھر طاقت کے نسخے ہیں مطب میں اور میدان دغا میں فرق اتنا ہے وہاں کشتوں کے پشتے ہیں یہاں پشتوں کے کشتے ہیں

مزید پڑھیے

تم بھول گئے شاید

وہ جو دودھ شہد کی کھیر تھی وہ جو نرم مثل حریر تھی وہ جو آملے کا اچار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو جو ہرن کے سیخ کباب تھے وہ جواب اپنا جواب تھے وہ جو کوئٹہ کا انار تھا وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جو سیب زینت باغ تھے وہ جو شاخ شاخ چراغ تھے وہ جو آلوؤں کو ...

مزید پڑھیے

ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ

ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ بلی تو یوں ہی مفت میں بدنام ہوئی ہے تھیلے میں تو کچھ اور تھا سامان وغیرہ بے حرص و غرض قرض ادا کیجیے اپنا جس طرح پولس کرتی ہے چالان وغیرہ اب ہوش نہیں کوئی کہ بادام کہاں ہے اب اپنی ہتھیلی پہ ہیں دندان وغیرہ کس ناز ...

مزید پڑھیے

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا ترا ہر مرض الجھتا مری جان ناتواں سے جو تجھے زکام ہوتا تو مجھے بخار ہوتا جو میں تجھ کو یاد کرتا تجھے چھینکنا بھی پڑتا مرے ساتھ بھی یقیناً یہی بار بار ہوتا کسی چوک میں لگاتے کوئی چوڑیوں کا ...

مزید پڑھیے

اس ابتدا کی سلیقے سے انتہا کرتے

اس ابتدا کی سلیقے سے انتہا کرتے وہ ایک بار ملے تھے تو پھر ملا کرتے کواڑ گرچہ مقفل تھے اس حویلی کے مگر فقیر گزرتے رہے صدا کرتے ہمیں قرینۂ رنجش کہاں میسر ہے ہم اپنے بس میں جو ہوتے ترا گلا کرتے تری جفا کا فلک سے نہ تذکرہ چھیڑا ہنر کی بات کسی کم ہنر سے کیا کرتے تجھے نہیں ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

جو بارشوں میں جلے تند آندھیوں میں جلے

جو بارشوں میں جلے تند آندھیوں میں جلے چراغ وہ جو بگولوں کی چمنیوں میں جلے وہ لوگ تھے جو فریب نظر کے متوالے تمام عمر سرابوں کے پانیوں میں جلے کچھ اس طرح سے لگی آگ بادبانوں کو کہ ڈوبنے کو بھی ترسے جو کشتیوں میں جلے یہی ہے فیصلہ تیرا کہ جو تجھے چاہے وہ درد‌ و کرب و الم کی کٹھالیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5104 سے 6203