اعجاز عجز
کس مخمصے میں ڈال دیا انکسار نے اپنے کہے پہ آپ ہی میں شرمسار ہوں لے آیا میرے واسطے وہ ایک بیلچہ اک دن یہ کہہ دیا تھا کہ میں خاکسار ہوں
کس مخمصے میں ڈال دیا انکسار نے اپنے کہے پہ آپ ہی میں شرمسار ہوں لے آیا میرے واسطے وہ ایک بیلچہ اک دن یہ کہہ دیا تھا کہ میں خاکسار ہوں
درمیاں گر نہ ترا وعدۂ فردا ہوتا کس کو منظور یہ زہر غم دنیا ہوتا کیا قیامت ہے کہ اب میں بھی نہیں وہ بھی نہیں دیکھنا تھا تو اسے دور سے دیکھا ہوتا کاسۂ زخم طلب لے کے چلا ہوں خالی سنگ ریزہ ہی کوئی آپ نے پھینکا ہوتا فلسفہ سر بہ گریباں ہے بڑی مدت سے کچھ نہ ہوتا تو خدا جانے کہ پھر کیا ...
میری قسمت کہ وہ اب ہیں مرے غم خواروں میں کل جو شامل تھے ترے حاشیہ برداروں میں زہر ایجاد کرو اور یہ پیہم سوچو زندگی ہے کہ نہیں دوسرے سیاروں میں کتنے آنسو ہیں کہ پلکوں پہ نہیں آ سکتے کتنی خبریں ہیں جو چھپتی نہیں اخباروں میں اب تو دریا کی طبیعت بھی ہے گرداب پسند اور وہ پہلی سی ...
مجھے خود سے بھی کھٹکا سا لگا تھا مرے اندر بھی اک پہرا لگا تھا ابھی آثار سے باقی ہیں دل میں کبھی اس شہر میں میلہ لگا تھا جدا ہوگی کسک دل سے نہ اس کی جدا ہوتے ہوئے اچھا لگا تھا اکٹھے ہو گئے تھے پھول کتنے وہ چہرہ ایک باغیچہ لگا تھا پئے جاتا تھا انورؔ آنسوؤں کو عجب اس شخص کو چسکا ...
رات آئی ہے بلاؤں سے رہائی دے گی اب نہ دیوار نہ زنجیر دکھائی دے گی وقت گزرا ہے پہ موسم نہیں بدلا یارو ایسی گردش ہے زمیں خود بھی دہائی دے گی یہ دھندلکا سا جو ہے اس کو غنیمت جانو دیکھنا پھر کوئی صورت نہ سجھائی دے گی دل جو ٹوٹے گا تو اک طرفہ چراغاں ہوگا کتنے آئینوں میں وہ شکل دکھائی ...
دنیا بھی عجب قافلۂ تشنہ لباں ہے ہر شخص سرابوں کے تعاقب میں رواں ہے تنہا تری محفل میں نہیں ہوں کہ مرے ساتھ اک لذت پابندیٔ اظہار و بیاں ہے حق بات پہ ہے زہر بھرے جام کی تعزیر اے غیرت ایماں لب سقراط کہاں ہے کھیتوں میں سماتی نہیں پھولی ہوئی سرسوں باغوں میں ابھی تک وہی ہنگام خزاں ...
شکوۂ گردش حالات لیے پھرتا ہے جس کو دیکھو وہ یہی بات لیے پھرتا ہے اس نے پیکر میں نہ ڈھلنے کی قسم کھائی ہے اور مجھے شوق ملاقات لیے پھرتا ہے شاخچہ ٹوٹ چکا کب کا شجر سے لیکن اب بھی کچھ سوکھے ہوئے پات لیے پھرتا ہے سوچئے جسم ہے اب روح سے کیسے روٹھے اپنے سائے کو بھی جو سات لیے پھرتا ...
اس حسیں کے خیال میں رہنا عالم بے مثال میں رہنا کب تلک روح کے پرندے کا ایک مٹی کے جال میں رہنا اب یہی نغمگی کی ندرت ہے سر میں رہنا نہ تال میں رہنا بے اثر کر گیا ہے واعظ کو ہر گھڑی قیل و قال میں رہنا انورؔ اس نے نہ میں نے چھوڑا ہے اپنے اپنے خیال میں رہنا
کیا بچے سلجھے ہوتے ہیں جب گیند سے الجھے ہوتے ہیں وہ اس لیے مجھ کو بھاتے ہیں دن بیتے یاد دلاتے ہیں وہ کتنے حسین بسیرے تھے جب دور غموں سے ڈیرے تھے جو کھیل میں حائل ہوتا تھا نفرین کے قابل ہوتا تھا ہر اک سے الجھ کر رہ جانا رک رک کے بہت کچھ کہہ جانا ہنس دینا باتوں باتوں پر برسات کی کالی ...
چھپے ہیں اشک دروازوں کے پیچھے چھتوں نے سسکیاں ڈھانپی ہوئی ہیں دکھوں کے گرد دیواریں چنی ہیں بظاہر مختلف شکلیں ہیں سب کی مگر اندر کے منظر ایک سے ہیں بنی آدم کے سب گھر ایک سے ہیں