تھرو پراپر چینل
سنا ہے اس کی منظوری بہر صورت ضروری ہے اسی کے حکم سے اس آرزو کے پھول کھلتے ہیں ہمیں اگلی صدی میں داخلہ درکار ہے انورؔ سنا ہے داخلے کے فارم امریکہ میں ملتے ہیں
سنا ہے اس کی منظوری بہر صورت ضروری ہے اسی کے حکم سے اس آرزو کے پھول کھلتے ہیں ہمیں اگلی صدی میں داخلہ درکار ہے انورؔ سنا ہے داخلے کے فارم امریکہ میں ملتے ہیں
میری آنکھوں کو یہ آشوب نہ دکھلا مولا اتنی مضبوط نہیں تاب تماشا میری میرے ٹی وی پہ نظر آئے نہ ڈسکو یارب لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
لطف نظارہ ہے اے دوست اسی کے دم سے یہ نہ ہو پاس تو پھر رونق دنیا کیا ہے تیری آنکھیں بھی کہاں مجھ کو دکھائی دیتیں میری عینک کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
ان کے بغیر فصل بہاراں بھی برگ ریز وہ ساتھ بیٹھ جائیں تو رکشا بھی مرسڈیز یہ باہمی کشش کا کرشمہ ہے دوستو رشوت ہمیں عزیز ہے رشوت کو ہم عزیز
بخیہ تو اس سے ایک بھی سیدھا نہیں لگا آڑا لگا دیا کوئی ترچھا لگا دیا ٹیلر کی بد حواسیاں مجھ سے نہ پوچھیے اس نے مری قمیص میں نیفا لگا دیا
یہی تو دوستو لے دے کے میرا بزنس ہے تمہیں کہو کہ میں کیوں اس سے توڑ لوں ناطہ کروں گا کیا جو کرپشن بھی چھوڑ دی میں نے مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
آپ کرائیں ہم سے بیمہ چھوڑیں سب اندیشوں کو اس خدمت میں سب سے بڑھ کر روشن نام ہمارا ہے خاصی دولت مل جائے گی آپ کے بیوی بچوں کو آپ تسلی سے مر جائیں باقی کام ہمارا ہے
موٹے شیشوں کی ناک پہ عینک کان میں آلۂ سماعت ہے منہ میں مصنوعی ایک بتیسی چوتھے مصرعے کی کیا ضرورت ہے
اجڑا سا وہ نگر کہ ہڑپہ ہے جس کا نام اس قریۂ شکستہ و شہر خراب سے عبرت کی اک چھٹانک بر آمد نہ ہو سکی کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے
جنت سے نکالا ہمیں گندم کی مہک نے گوندھی ہوئی گیہوں میں کہانی ہے ہماری روٹی سے ہمیں رغبت دیرینہ ہے انورؔ یہ نان کمٹمنٹ پرانی ہے ہماری