قومی زبان

ہیں جتنے بھی روپ زندگی کے کسی پہ نہ اعتبار آیا

ہیں جتنے بھی روپ زندگی کے کسی پہ نہ اعتبار آیا وہاں سے دامن بچا کے گزرے جہاں پہ کوئی فرار آیا ہوئی جو تقسیم راحتوں کی عنایتوں کی یا چاہتوں کی کسی کے حصے میں نارسائی کسی کے بس انتظار آیا وہ جس سے دل کے ہیں دیپ جلتے بس ایک چہرہ ہے شہر بھر میں اس ایک چہرے پہ جانے کیسے ہمارا دل بار ...

مزید پڑھیے

اداسی کے جزیرے پر غموں کے سائے گہرے ہیں

اداسی کے جزیرے پر غموں کے سائے گہرے ہیں نگاہوں کے سمندر میں لہو رنگ اشک ٹھہرے ہیں کہیں تنہائیوں نے وحشتوں سے دوستی کر لی کہیں دل پر گزشتہ موسموں کے اب بھی پہرے ہیں کہیں برکھا کی رت نے دل کی دنیا خوں میں نہلا دی کہیں ویران راہوں پر قدم صدیوں سے ٹھہرے ہیں سجایا ہے کہیں آنکھوں نے ...

مزید پڑھیے

محبتوں کا حسیں مگر مختصر سا ہے یہ فسانہ چھوڑو

محبتوں کا حسیں مگر مختصر سا ہے یہ فسانہ چھوڑو بچھڑ کے تم سے ہیں جی رہے ہم گزر گیا اک زمانہ چھوڑو تمہارا ہر اک ستم سہا ہے بڑی اذیت ہے تم سے پائی مرے ستم گر ہوئے ہیں گھائل ہمیں اب ایسے ستانا چھوڑو وہ جس جگہ سے گزر ہمارا رہا تھا اک بس تمہاری خاطر ہمارا دل یہ کہے ہے ہم سے اب اس کی ...

مزید پڑھیے

اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ

اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ کہہ تو سکتا ہوں مگر مجبور کر سکتا نہیں اختیار اپنی جگہ ہے بے بسی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ سچائی ہوتی ہے نہاں ہر بات میں کہنے والے ٹھیک کہتے ہیں سبھی اپنی جگہ صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں خود بنا لیتی ہے ...

مزید پڑھیے

اگرچہ آئنۂ دل میں ہے قیام اس کا

اگرچہ آئنۂ دل میں ہے قیام اس کا نہ کوئی شکل ہے اس کی نہ کوئی نام اس کا وہی خدا کبھی ملوائے گا ہمیں اس سے جو انتظار کراتا ہے صبح و شام اس کا ہمارے ساتھ نہیں جا سکا تھا وہ لیکن رہا خیال سیاحت میں گام گام اس کا خدا کو پیار ہے اپنے ہر ایک بندے سے سفید فام ہے اس کا سیاہ فام اس کا کما ...

مزید پڑھیے

مشتاق بدستور زمانہ ہے تمہارا

مشتاق بدستور زمانہ ہے تمہارا آنے سے فسوں خیز نہ آنا ہے تمہارا لیلیٰ کی حکایت بھی حکایت ہے تمہاری شیریں کا فسانہ بھی فسانہ ہے تمہارا اس دل کی خبر تم سے زیادہ کسے ہوگی انداز مگر بے خبرانہ ہے تمہارا تم حسن مجسم ہو بلا شرکت غیرے ناقابل تقسیم خزانہ ہے تمہارا دل میں کوئی آ جائے تو ...

مزید پڑھیے

اس میں کیا شک ہے کہ آوارہ ہوں میں

اس میں کیا شک ہے کہ آوارہ ہوں میں کوچے کوچے میں پھرا کرتا ہوں میں مجھ سے سرزد ہوتے رہتے ہیں گناہ آدمی ہوں کیوں کہوں اچھا ہوں میں صاف و شفاف آسماں کو دیکھ کر گندی گندی گالیاں بکتا ہوں میں قہوہ خانوں میں بسر کرتا ہوں دن قحبہ خانوں میں سحر کرتا ہوں میں دن گزرتا ہے مرا احباب ...

مزید پڑھیے

ہو گئے دن جنہیں بھلائے ہوئے

ہو گئے دن جنہیں بھلائے ہوئے آج کل ہیں وہ یاد آئے ہوئے میں نے راتیں بہت گزاری ہیں صرف دل کا دیا جلائے ہوئے ایک اسی شخص کا نہیں مذکور ہم زمانے کے ہیں ستائے ہوئے سونے آتے ہیں لوگ بستی میں سارے دن کے تھکے تھکائے ہوئے مسکرائے بغیر بھی وہ ہونٹ نظر آتے ہیں مسکرائے ہوئے گو فلک پہ ...

مزید پڑھیے

ان کی صورت ہمیں آئی تھی پسند آنکھوں سے

ان کی صورت ہمیں آئی تھی پسند آنکھوں سے اور پھر ہو گئی بالا و بلند آنکھوں سے کوئی زنجیر نہیں تار نظر سے مضبوط ہم نے اس چاند پہ ڈالی ہے کمند آنکھوں سے ٹھہر سکتی ہے کہاں اس رخ تاباں پہ نظر دیکھ سکتا ہے اسے آدمی بند آنکھوں سے ہم اٹھاتے ہیں مزہ تلخی و شیرینی کا مے پیالے سے پلاتا ہے ...

مزید پڑھیے

فرشتوں سے بھی اچھا میں برا ہونے سے پہلے تھا

فرشتوں سے بھی اچھا میں برا ہونے سے پہلے تھا وہ مجھ سے انتہائی خوش خفا ہونے سے پہلے تھا کیا کرتے تھے باتیں زندگی بھر ساتھ دینے کی مگر یہ حوصلہ ہم میں جدا ہونے سے پہلے تھا حقیقت سے خیال اچھا ہے بیداری سے خواب اچھا تصور میں وہ کیسا سامنا ہونے سے پہلے تھا اگر معدوم کو موجود کہنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5095 سے 6203