ہیں جتنے بھی روپ زندگی کے کسی پہ نہ اعتبار آیا
ہیں جتنے بھی روپ زندگی کے کسی پہ نہ اعتبار آیا وہاں سے دامن بچا کے گزرے جہاں پہ کوئی فرار آیا ہوئی جو تقسیم راحتوں کی عنایتوں کی یا چاہتوں کی کسی کے حصے میں نارسائی کسی کے بس انتظار آیا وہ جس سے دل کے ہیں دیپ جلتے بس ایک چہرہ ہے شہر بھر میں اس ایک چہرے پہ جانے کیسے ہمارا دل بار ...