قومی زبان

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے تشریف لائیے گا ملاقات کے لئے دنیا میں کیا کسی سے کسی کو غرض نہیں ہر کوئی جی رہا ہے فقط ذات کے لئے ہم بارگاہ ناز میں اس بے نیاز کی پیدا کئے گئے ہیں شکایات کے لئے ہیں پتھروں کی زد پہ تمہاری گلی میں ہم کیا آئے تھے یہاں اسی برسات کے لئے اپنی طرف سے کچھ ...

مزید پڑھیے

چمن میں آپ کی طرح گلاب ایک بھی نہیں

چمن میں آپ کی طرح گلاب ایک بھی نہیں حضور ایک بھی نہیں جناب ایک بھی نہیں مباحثوں کا ماحصل فقط خلش فقط خلل سوال ہی سوال ہیں جواب ایک بھی نہیں ادھر کسی سے کچھ لیا ادھر کسی کو دے دیا چنانچہ واجب الادا حساب ایک بھی نہیں کتب کے ڈھیر میں نہ ہو صحیفہ ذکر یار کا تو قابل مطالعہ کتاب ایک ...

مزید پڑھیے

آوارہ ہوں رین بسیرا کوئی نہیں میرا

آوارہ ہوں رین بسیرا کوئی نہیں میرا گلی گلی کرتا ہوں پھیرا کوئی نہیں میرا تیری آس پہ جیتا تھا میں وہ بھی ختم ہوئی اب دنیا میں کون ہے میرا کوئی نہیں میرا تیرے بجائے کون تھا میرا پہلے بھی پھر بھی جب سے ساتھ چھٹا ہے تیرا کوئی نہیں میرا جب بھی چاند سے چہرے دیکھے بھیگ گئیں ...

مزید پڑھیے

زہر کی چٹکی ہی مل جائے برائے درد دل

زہر کی چٹکی ہی مل جائے برائے درد دل کچھ نہ کچھ تو چاہئے بابا دوائے درد دل رات کو آرام سے ہوں میں نہ دن کو چین سے ہائے ہائے وحشت دل ہائے ہائے درد دل درد دل نے تو ہمیں بے حال کر کے رکھ دیا کاش کوئی اور غم ہوتا بجائے درد دل اس نے ہم سے خیریت پوچھی تو ہم چپ ہو گئے کوئی لفظوں میں بھلا ...

مزید پڑھیے

دیا جلائے گی تو اور میں بجھاؤں گا

دیا جلائے گی تو اور میں بجھاؤں گا مجھے نہ چاہ میں نفرت سے پیش آؤں گا میں سخت دل ہی رہوں گا یہی رعایت ہے میں بار بار ترا دل نہیں دکھاؤں گا مجھے پتا نہیں کیا ہو گیا ہے کچھ دن سے پتا چلا بھی تو تجھ کو نہیں بتاؤں گا میں چاہتا ہوں مری بات کا اثر کم ہو زیادہ دیر مگر جھوٹ کہہ نہ پاؤں ...

مزید پڑھیے

تمہیں پیار ہے، تو یقین دو،

تمہیں پیار ہے، تو یقین دو، مجھے نہ کہو، تمہیں پیار ہے، مجھے دیکھنے کی نہ ضد کرو، تمہیں فکر ہو، مرے حال کی، کوئی گفتگو ہو ملال کی، جو خیال ہو، نہ کیا کرو، نہ کہا کرو مری فکر ہے میں عزیز تر ہوں جہان سے یا ایمان سے، نہ کہا کرو، نہ لکھا کرو مجھے ورق پر، کسی فرش پر، نہ اداس ہو، نہ ہی خوش ...

مزید پڑھیے

یہ عشق ہوتا ہے بن سکھائے کہ اس کا کوئی نصاب کیسا

یہ عشق ہوتا ہے بن سکھائے کہ اس کا کوئی نصاب کیسا ہر اک ہے اس راہ کا مسافر فقیر کیسا نواب کیسا اصول ہے یہ دیار دل کا کہ آنے والا گیا نہ واپس ہر اک ستم مسکرا کے سہنا سوال کیسا جواب کیسا سکون دل کا مقام پوچھو وفا کی منزل کے راہیوں سے کٹھن ہے ہر دن مسافتوں کا یہ رتجگوں کا عذاب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5094 سے 6203