کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے
کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے تشریف لائیے گا ملاقات کے لئے دنیا میں کیا کسی سے کسی کو غرض نہیں ہر کوئی جی رہا ہے فقط ذات کے لئے ہم بارگاہ ناز میں اس بے نیاز کی پیدا کئے گئے ہیں شکایات کے لئے ہیں پتھروں کی زد پہ تمہاری گلی میں ہم کیا آئے تھے یہاں اسی برسات کے لئے اپنی طرف سے کچھ ...