ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں
ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں سرور و کیف میں دیوانے تھوڑی ہوتے ہیں تباہ سوچ سمجھ کر نہیں ہوا جاتا جو دل لگاتے ہے فرزانے تھوڑی ہوتے ہیں براہ راست اثر ڈالتے ہیں سچے بول کسی دلیل سے منوانے تھوڑی ہوتے ہیں جو لوگ آتے ہیں ملنے ترے حوالے سے نئے تو ہوتے ہیں انجانے تھوڑی ہوتے ...