قومی زبان

کڑا ہے دن بڑی ہے رات جب سے تم نہیں آئے

کڑا ہے دن بڑی ہے رات جب سے تم نہیں آئے دگرگوں ہیں مرے حالات جب سے تم نہیں آئے لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی گرمی ہو سردی ہو نہیں رکتی کبھی برسات جب سے تم نہیں آئے نہ کی جاتی ہے اوروں سے ملاقات ایک لمحے کو نہ ہو پاتی ہے خود سے بات جب سے تم نہیں آئے پتا چلتا نہیں تھا ساعتوں کا جب تم آتے ...

مزید پڑھیے

اور نہ در بدر پھرا اور نہ آزما مجھے

اور نہ در بدر پھرا اور نہ آزما مجھے بس مرے پردہ دار بس! اب نہیں حوصلہ مجھے سخت نظر فریب ہے آئنہ خانۂ جمال اس کی چمک دمک نہ دیکھ، دیکھ بجھا بجھا مجھے حبس ہجوم خلق سے گھٹ کے الگ ہوا تو میں قطرہ بہ سطح بحر تھا چاٹ گئی ہوا مجھے صبر کرو محاسبو وقت تمہیں بتائے گا دہر کو میں نے کیا دیا ...

مزید پڑھیے

جو سنتا ہوں کہوں گا میں جو کہتا ہوں سنوں گا میں

جو سنتا ہوں کہوں گا میں جو کہتا ہوں سنوں گا میں ہمیشہ مجلس نطق و سماعت میں رہوں گا میں نہیں ہے تلخ گوئی شیوۂ سنجیدگاں لیکن مجھے وہ گالیاں دیں گے تو کیا چپ سادھ لوں گا میں کم از کم گھر تو اپنا ہے اگر ویران بھی ہوگا تو دہلیز و در و دیوار سے باتیں کروں گا میں یہی احساس کافی ہے کہ ...

مزید پڑھیے

انور شعورؔ دن میں کہیں رات میں کہیں

انور شعورؔ دن میں کہیں رات میں کہیں رہتا ہے خوار شہر خرابات میں کہیں آئے ہزار بار بلانے کے بعد اور گم ہو گئے وہ اپنے خیالات میں کہیں ممکن ہے بادہ خانے گئے ہوں جناب شیخ گھر سے نکل گئے ہیں وہ برسات میں کہیں ہم منتظر ہیں اور بھلائے ہوئے ہیں وہ کیا گفتگو ہوئی تھی ملاقات میں ...

مزید پڑھیے

یاد کرو جب رات ہوئی تھی

یاد کرو جب رات ہوئی تھی تم سے کوئی بات ہوئی تھی کہہ سکتا تھا کون کسی سے وہ شکل حالات ہوئی تھی سب سے ناطہ توڑ کے یکجا تیری میری ذات ہوئی تھی انسانوں نے حق مانگا تھا اور فقط خیرات ہوئی تھی اس کی کم آمیزی سے میری تہذیب جذبات ہوئی تھی مرنے والا خود روٹھا تھا یا ناراض حیات ہوئی ...

مزید پڑھیے

کبھی کوئی رونا کبھی کوئی رونا (ردیف .. م)

کبھی کوئی رونا کبھی کوئی رونا کبھی ایک ماتم کبھی ایک ماتم نہ کیوں دل سے باتیں کریں ہم مسلسل یہی ایک مونس یہی ایک ہمدم ہمیں خوف آتا ہے اب دوستی سے مگر آپ ارشاد کر دیں تو سر خم بھلا شیخ صاحب ہمیں کیوں پلائیں بڑی مشکلوں سے ہوئی ہے فراہم اسے غور سے دیکھنا چاہتا ہوں زمانے کی گردش ...

مزید پڑھیے

کچھ دنوں اپنے گھر رہا ہوں میں

کچھ دنوں اپنے گھر رہا ہوں میں اور پھر در بہ در رہا ہوں میں دوسروں کی خبر تو کیا لیتا خود سے بھی بے خبر رہا ہوں میں وقت گو ہم سفر نہ تھا میرا وقت کا ہم سفر رہا ہوں میں زینۂ ذات کا سفر اور رات دھیرے دھیرے اتر رہا ہوں میں یک بہ یک کس طرح بدل جاؤں رفتہ رفتہ سدھر رہا ہوں میں تو بھی ...

مزید پڑھیے

نہیں ملتے شعورؔ آنسو بہاتے

نہیں ملتے شعورؔ آنسو بہاتے نظر آتے ہیں ہنستے مسکراتے وہ گھنٹوں بیٹھتے ہیں دوستوں میں مگر دیکھا اکیلے آتے جاتے نکل جاتے ہیں نا معلوم جانب وہ گرد و پیش سے نظریں بچاتے جسے کہتے ہیں لوگ ام الخبائث رہے ان کے اسی سے رشتے ناطے وہ کیا جنات سے کرتے ہیں باتیں انہیں پایا گیا ہے ...

مزید پڑھیے

جو ہم کلام ہو ہم سے اسی کے ہوتے ہیں

جو ہم کلام ہو ہم سے اسی کے ہوتے ہیں ہم ایک وقت میں ایک آدمی کے ہوتے ہیں کوئی جہاں میں خوشی سے گزارنا چاہے تو بے شمار بہانے خوشی کے ہوتے ہیں جمالیات کے پرچے میں آٹھ نو نمبر فقط شگفتگی و دلکشی کے ہوتے ہیں کسی کے ساتھ بھی بیٹھے ہوئے دکھائی دیں تصورات میں ہم آپ ہی کے ہوتے ہیں شعورؔ ...

مزید پڑھیے

یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں

یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں کرو گے یاد، ایسا آدمی ہوں مرا نام و نسب کیا پوچھتے ہو! ذلیل و خوار و رسوا آدمی ہوں تعارف اور کیا اس کے سوا ہو کہ میں بھی آپ جیسا آدمی ہوں زمانے کے جھمیلوں سے مجھے کیا مری جاں! میں تمہارا آدمی ہوں چلے آیا کرو میری طرف بھی! محبت کرنے والا آدمی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5092 سے 6203