کڑا ہے دن بڑی ہے رات جب سے تم نہیں آئے
کڑا ہے دن بڑی ہے رات جب سے تم نہیں آئے دگرگوں ہیں مرے حالات جب سے تم نہیں آئے لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی گرمی ہو سردی ہو نہیں رکتی کبھی برسات جب سے تم نہیں آئے نہ کی جاتی ہے اوروں سے ملاقات ایک لمحے کو نہ ہو پاتی ہے خود سے بات جب سے تم نہیں آئے پتا چلتا نہیں تھا ساعتوں کا جب تم آتے ...