قومی زبان

رہی رات ان سے ملاقات کم

رہی رات ان سے ملاقات کم مدارات خاصی ہوئی بات کم تری یاد اتنا بڑا کام ہے کہ معلوم ہوتے ہیں دن رات کم کہیں دل بہلتا نہیں شہر میں نہ بازار کم ہیں نہ باغات کم محبت میں ہوتی ہیں انسان کو شکستیں زیادہ فتوحات کم سنبھالے ہوئے ہے یہ شعبہ بھی دل اب آنکھوں سے ہوتی ہے برسات کم دماغوں کی ...

مزید پڑھیے

میں بزم تصور میں اسے لائے ہوئے تھا

میں بزم تصور میں اسے لائے ہوئے تھا جو ساتھ نہ آنے کی قسم کھائے ہوئے تھا دل جرم محبت سے کبھی رہ نہ سکا باز حالانکہ بہت بار سزا پائے ہوئے تھا ہم چاہتے تھے کوئی سنے بات ہماری یہ شوق ہمیں گھر سے نکلوائے ہوئے تھا ہونے نہ دیا خود پہ مسلط اسے میں نے جس شخص کو جی جان سے اپنائے ہوئے ...

مزید پڑھیے

مجھے یہ جستجو کیوں ہو کہ کیا ہوں اور کیا تھا میں

مجھے یہ جستجو کیوں ہو کہ کیا ہوں اور کیا تھا میں کوئی اپنے سوا ہوں میں کوئی اپنے سوا تھا میں نہ جانے کون سا آتش فشاں تھا میرے سینے میں کہ خالی تھا بہت پھر بھی دھمک کر پھٹ پڑا تھا میں تو کیا میں نے نشے میں واقعی یہ گفتگو کی تھی مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا جو سوچتا تھا میں خود اپنے ...

مزید پڑھیے

میں اپنے آپ سے پیچھا چھڑا کے

میں اپنے آپ سے پیچھا چھڑا کے نکل جاؤں کہیں رسی تڑا کے قدم آخر اٹھانا ہی پڑے گا نہیں تو گر پڑوں گا ڈگمگا کے کہاں ہے اب وہ مشق آوارگی کی سنبھل جاؤں گا لیکن لڑکھڑا کے کسی کے در پہ جانے کا نتیجہ میں دیکھ آیا ہوں اس کے در پہ جا کے بسر کی اس طرح دنیا میں گویا گزاری جیل میں چکی چلا ...

مزید پڑھیے

ہوس بلا کی محبت ہمیں بلا کی ہے

ہوس بلا کی محبت ہمیں بلا کی ہے کبھی بتوں کی خوشامد کبھی خدا کی ہے کسی کو چاہنے والے یہی تو کرتے ہیں بڑا کمال کیا ہے اگر وفا کی ہے گزر بسر ہے ہماری فقط قناعت پر نصیب نے یہی دولت ہمیں عطا کی ہے تمام رات پڑی تھی گزارنے کے لیے چنانچہ ختم صراحی ذرا ذرا کی ہے شراب سے کوئی رغبت نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

اس بزم میں کیا کوئی سنے رائے ہماری

اس بزم میں کیا کوئی سنے رائے ہماری یہ بات یہ اوقات کہاں ہائے ہماری ہم چاہتے کیا ہیں نہیں معلوم کسی کو کس طرح طبیعت کوئی بہلائے ہماری گزری ہے جوانی بڑی بے راہروی میں اے کاش ضعیفی بھی گزر جائے ہماری اس شہر میں رہنا ہے بیابان میں رہنا صورت نہیں پہچانتے ہم سایے ہماری یہ گھر یہ ...

مزید پڑھیے

شعورؔ وقت پہ دل کی دوا ہوئی ہوتی

شعورؔ وقت پہ دل کی دوا ہوئی ہوتی تو آج فکر نہ ہوتی شفا ہوئی ہوتی مروتاً بھی اگر آپ آ گئے ہوتے طمانیت ہمیں بے انتہا ہوئی ہوتی نہ جانے کتنے برس ہو گئے فغاں کرتے کبھی تو دادرسی اے خدا ہوئی ہوتی نہ تھا نصیب میں دل کی مراد بر آنا تو کاش صبر کی عادت عطا ہوئی ہوتی ہمارا حال تمہاری ...

مزید پڑھیے

نہ سہہ سکوں گا غم ذات گو اکیلا میں

نہ سہہ سکوں گا غم ذات گو اکیلا میں کہاں تک اور کسی پر کروں بھروسا میں ہنر وہ ہے کہ جیوں چاند بن کر آنکھوں میں رہوں دلوں میں قیامت کی طرح برپا میں وہ رنگ رنگ کے چھینٹے پڑے کہ اس کے بعد کبھی نہ پھر نئے کپڑے پہن کے نکلا میں نہ صرف یہ کہ زمانہ ہی مجھ پہ ہنستا ہے بنا ہوا ہوں خود اپنے ...

مزید پڑھیے

بشارت ہو کہ اب مجھ سا کوئی پاگل نہ آئے گا

بشارت ہو کہ اب مجھ سا کوئی پاگل نہ آئے گا یہ دور آخر دیوانگی ہے بیت جائے گا کسی کی زندگی ضائع نہ ہوگی اب محبت میں کوئی دھوکا نہ دے گا اب کوئی دھوکا نہ کھائے گا نہ اب اترے گا قدسی کوئی انسانوں کی بستی پر نہ اب جنگل میں چرواہا کوئی بھیڑیں چرائے گا گروہ ابن آدم لاکھ بھٹکے لاکھ سر ...

مزید پڑھیے

شک نہیں ہے ہمیں اس بت کے خدا ہونے میں

شک نہیں ہے ہمیں اس بت کے خدا ہونے میں چین ہی چین ہے راضی بہ رضا ہونے میں کون چھپ چھپ کے محبت نہیں کرتا آخر کیا برائی ہے یہی کھیل کھلا ہونے میں بات بے بات انہیں عادت ہے خفا ہونے کی کوئی ثانی نہیں رکھتے وہ خفا ہونے میں زندہ رہنے سے بڑا جرم بھلا کیا ہوگا تاہم اک عمر گزاری ہے سزا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5091 سے 6203