قومی زبان

یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں

یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں اگر اس پہ بھی نہ نبھی تو پھر مرے کردگار میں کیا کروں ہے محبت ایسی بندھی گرہ جو نہ ایک ہاتھ سے کھل سکے کوئی عہد توڑے کرے دغا مرا فرض ہے کہ وفا کروں میں ہزار باتوں میں ایک بھی کبھی ان سے کھل کے نہ کہہ سکا اگر ایک طرح کی بات ہو تو ہزار طرح ...

مزید پڑھیے

دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے

دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے تھے وہی بت وہی خدا ٹھہرے ٹھہرے اس در پہ یوں تو کیا ٹھہرے بن کے زنجیر بے صدا ٹھہرے سانس ٹھہرے تو دم ذرا ٹھہرے تیز آندھی میں شمع کیا ٹھہرے زندگانی ہے اک نفس کا شمار بے ہوا یہ چراغ کیا ٹھہرے جس کو تم لا دوا بتاتے تھے تمہیں اس درد کی دوا ٹھہرے عشق ...

مزید پڑھیے

کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے

کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے جہاں نہ سمجھو اسی جگہ ہے جہاں سمجھ لو وہیں نہیں ہے تمہارا وعدہ ہے کیسا وعدہ کہ جس کا دل کو یقیں نہیں ہے نگین بے نقش تو ہزاروں یہ نقش ہے اور نگیں نہیں ہے تصوروں کے فریب اٹھا کر مشاہدہ وہم بن رہا ہے نظر نے کھائے ہیں اتنے دھوکے کہ ...

مزید پڑھیے

نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا

نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا جو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگا حیات لذت آزار کا ہے دوسرا نام نمک چھڑک تو چھڑک زخم پر دوا نہ لگا مرے خیال کی دنیا میں اس جہاں سے دور یہ بیٹھے بیٹھے ہوا گم کہ پھر پتا نہ لگا خوشی یہ دل کی ہے اس میں نہیں ہے عقل کو دخل برا وہ کہتے رہے اور کچھ برا ...

مزید پڑھیے

کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے

کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے مجھے سوء ظن نہیں ہے کہ دعا کروں خدا سے دل مطمئن کی وسعت کوئی کم ہے ماسوا سے مجھے کاہے کی کمی ہے جو طلب کروں خدا سے ہوئی ختم غم کی آندھی وہی دل کی لو ہے اب بھی یہی شعلہ تھا وہ شعلہ کہ لڑا کیا ہوا سے کہے کون اسے پتنگا جو ہے شعلے پر دھواں سا تجھے ...

مزید پڑھیے

مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی

مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی کبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانی ہے خوشی کا سودا خلش نہانی ہے جگر کا چھالا ثمر جوانی جو خوشی ہے فانی تو ہے غم بھی فانی نہ یہ جاودانی نہ وہ جاودانی ازلی محبت ابدی کہانی کہ پس فنا ہے نئی زندگانی ستم و رضا میں یہ ہے عہد محکم جو تری کہانی وہ مری کہانی وہ ...

مزید پڑھیے

قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں

قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں میں دور ہٹ رہا ہوں وہ پاس آ رہے ہیں اعجاز پاک بازی حیرت میں لا رہے ہیں دل مل گیا ہے دل سے پہلو جدا رہے ہیں وہ دل سے غم بھلا کر دل کو لبھا رہے ہیں گزرے ہوئے زمانے پھر پھر کے آ رہے ہیں سینے میں ضبط غم سے چھالا ابھر رہا ہے شعلے کو بند کر کے پانی بنا ...

مزید پڑھیے

آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں

آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں سب دوست ہیں اپنے مطلب کے دنیا میں کسی کا کوئی نہیں گلگشت میں دامن منہ پہ نہ لو نرگس سے حیا کیا ہے تم کو اس آنکھ سے پردہ کرتے ہو جس آنکھ میں پردا کوئی نہیں جو باغ تھا کل پھولوں سے بھرا اٹکھیلیوں سے چلتی تھی صبا اب سنبل و گل کا ذکر تو ...

مزید پڑھیے

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں مہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو روح نکل کر باغ جہاں سے باغ جناں میں جا پہنچے چہرے پہ اپنے میری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو خندۂ گل ...

مزید پڑھیے

خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں

خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں وہ تو ہیں راجہ ہم بنیں پرجا اور جھک جھک کے سلام کریں کھل پڑنے میں ناکامی ہے گم ہو کر کچھ کام کریں دیس پرانا بھیس بنا ہو نام بدل کر نام کریں دونوں جہاں میں خدمت تیری خادم کو مخدوم بنائے پریاں جس کے پاؤں دبائیں حوریں جس کا کام کریں ہجر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4994 سے 6203