یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں
یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں اگر اس پہ بھی نہ نبھی تو پھر مرے کردگار میں کیا کروں ہے محبت ایسی بندھی گرہ جو نہ ایک ہاتھ سے کھل سکے کوئی عہد توڑے کرے دغا مرا فرض ہے کہ وفا کروں میں ہزار باتوں میں ایک بھی کبھی ان سے کھل کے نہ کہہ سکا اگر ایک طرح کی بات ہو تو ہزار طرح ...