قومی زبان

یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والے

یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والے یہاں گمراہ کہلاتے ہیں منزل دیکھنے والے خط ساغر میں راز حق و باطل دیکھنے والے ابھی کچھ لوگ ہیں ساقی کی محفل دیکھنے والے مزے آ آ گئے ہیں عشوہ ہائے حسن رنگیں کے تڑپتے ہیں ابھی تک رقص بسمل دیکھنے والے یہاں تو عمر گزری ہے اسی موج و تلاطم میں وہ ...

مزید پڑھیے

اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے

اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے قطرہ ہے بے قرار سمندر لیے ہوئے آشوب دہر و فتنۂ محشر لیے ہوئے پہلو میں یعنی ہو دل مضطر لیے ہوئے موج نسیم صبح کے قربان جائیے آئی ہے بوئے زلف معنبر لیے ہوئے کیا مستیاں چمن میں ہیں جوش بہار سے ہر شاخ گل ہے ہاتھ میں ساغر لیے ہوئے قاتل نگاہ یاس کی زد سے ...

مزید پڑھیے

نہ کھلے عقد ہائے ناز و نیاز

نہ کھلے عقد ہائے ناز و نیاز حسن بھی راز اور عشق بھی راز راز کی جستجو میں مرتا ہوں اور میں خود ہوں ایک پردۂ راز بال و پر میں مگر کہاں پائیں بوئے گل یعنی ہمت پرواز ساز دل کیا ہوا وہ ٹوٹا سا ساری ہستی ہے گوش بر آواز لذت سجدۂ ہائے شوق نہ پوچھ ہائے وہ اتصال ناز و نیاز دیکھ رعنائی ...

مزید پڑھیے

پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئے

پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئے میں بھی ہوں اک حباب میں دریا لئے ہوئے رگ رگ میں اور کچھ نہ رہا جز خیال دوست اس شوخ کو ہوں آج سراپا لئے ہوئے سرمایۂ حیات ہے حرمان عاشقی ہے ساتھ ایک صورت زیبا لئے ہوئے جوش جنوں میں چھوٹ گیا آستان یار روتے ہیں منہ میں دامن صحرا لئے ہوئے اصغرؔ ہجوم ...

مزید پڑھیے

جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے

جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے جنت ہے ایک خون تمنا کہیں جسے اس جلوہ گاہ حسن میں چھایا ہے ہر طرف ایسا حجاب چشم تماشا کہیں جسے یہ اصل زندگی ہے یہ جان حیات ہے حسن مذاق شورش سودا کہیں جسے میرے وداع ہوش کو اتنا بھی ہے بہت یہ آب و رنگ حسن کا پردا کہیں جسے اکثر رہا ہے حسن حقیقت بھی ...

مزید پڑھیے

یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہے

یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہے قطرہ میں سمندر ہے ذرہ میں بیاباں ہے ہے عشق کہ محشر میں یوں مست و خراماں ہے دوزخ بگریباں ہے فردوس بہ داماں ہے ہے عشق کی شورش سے رعنائی و زیبائی جو خون اچھلتا ہے وہ رنگ گلستاں ہے پھر گرم نوازش ہے ضو مہر درخشاں کی پھر قطرۂ شبنم میں ہنگامۂ طوفاں ...

مزید پڑھیے

موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں

موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں یا خون اچھل رہا ہے رگ ماہتاب میں وہ موت کہ کہتے ہیں جس کو سکون سب وہ عین زندگی ہے جو ہے اضطراب میں دوزخ بھی ایک جلوۂ فردوس حسن ہے جو اس سے بے خبر ہے وہی ہے عذاب میں اس دن بھی میری روح تھی محو نشاط دید موسیٰ الجھ گئے تھے سوال و جواب میں میں اضطراب ...

مزید پڑھیے

عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیں

عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیں تیری صورت میں ہے کیا جو میری صورت میں نہیں دونوں عالم تری نیرنگ ادائی کے نثار اب کوئی چیز یہاں جیب محبت میں نہیں دولت قرب کو خاصان محبت جانیں چند اشکوں کے سوا کچھ میری قسمت میں نہیں لوگ مرتے بھی ہیں، جیتے بھی ہیں، بیتاب بھی ہیں کون سا سحر تری ...

مزید پڑھیے

گم کر دیا ہے دید نے یوں سر بہ سر مجھے

گم کر دیا ہے دید نے یوں سر بہ سر مجھے ملتی ہے اب انہیں سے کچھ اپنی خبر مجھے نالوں سے میں نے آگ لگا دی جہان میں صیاد جانتا تھا فقط مشت پر مجھے اللہ رے ان کے جلوے کی حیرت فزائیاں یہ حال ہے کہ کچھ نہیں آتا نظر مجھے مانا حریم ناز کا پایہ بلند ہے لے جائے گا اچھال کے درد جگر مجھے ایسا ...

مزید پڑھیے

ذوق سرمستی کو محو روئے جاناں کر دیا

ذوق سرمستی کو محو روئے جاناں کر دیا کفر کو اس طرح چمکایا کہ ایماں کر دیا تو نے یہ اعجاز کیا اے سوز پنہاں کر دیا اس طرح پھونکا کہ آخر جسم کو جاں کر دیا جس پہ میری جستجو نے ڈال رکھے تھے حجاب بے خودی نے اب اسے محسوس و عریاں کر دیا کچھ نہ ہم سے ہو سکا اس اضطراب شوق میں ان کے دامن کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4981 سے 6203