قومی زبان

وصل کی تو کبھی فرقت کی غزل لکھتے ہیں

وصل کی تو کبھی فرقت کی غزل لکھتے ہیں ہم تو شاعر ہیں محبت کی غزل لکھتے ہیں پڑھیے ان کو کسی کاغذ پہ نہیں سرحد پر اپنے خوں سے جو شہادت کی غزل لکھتے ہیں رہنما اپنے وطن کے بھی ہیں کتنے شاطر وہ شہادت پہ سیاست کی غزل لکھتے ہیں تم نے مزدور کے چھالے نہیں دیکھے شاید اپنے ہاتھوں پہ وہ محنت ...

مزید پڑھیے

زندگی تھام لیا کرتے ہیں بڑھ کر لمحے

زندگی تھام لیا کرتے ہیں بڑھ کر لمحے وقت آنے پہ بدلتے ہیں مقدر لمحے آ بھی جا تجھ کو بلاتے ہیں یہ کہہ کر لمحے پھر نہ آئیں گے بہاروں کے معطر لمحے ہر گھڑی ایک سا موسم بھی کہاں رہتا ہے ہیں کہیں پھول سے کومل کہیں پتھر لمحے سب میں یاری ہیں یہاں دوستی یاری سکھ دکھ کس نے دیکھے ہیں یہاں ...

مزید پڑھیے

کتنی سچائی کس خبر میں ہے

کتنی سچائی کس خبر میں ہے یہ تو اخبار کی نظر میں ہے گھر میں رہنا تمہیں نہیں آتا ورنہ سارا سکون گھر میں ہے آسماں ایک سا ہے سب کے لئے فرق تیری مری نظر میں ہے زہر اتنا تو سانپ میں بھی نہیں زہر جتنا تمہارے ڈر میں ہے ہر قدم پر بھلے ہوں مے خانہ ایک مسجد بھی رہ گزر میں ہے میں جو چاہوں ...

مزید پڑھیے

ہم لوگ اپنی راہ کی دیوار ہو گئے

ہم لوگ اپنی راہ کی دیوار ہو گئے یعنی کہ مصلحت میں گرفتار ہو گئے اب تو بلند اور ذرا حوصلہ کرو پتھر جو میل کے تھے وہ دیوار ہو گئے طوفاں میں ہم کو چھوڑ کے جانے کا شکریہ اب اپنے ہاتھ پاؤں ہی پتوار ہو گئے گھر کو گرانے والے سیاسی مزاج تھے غم میں شریک ہو کے وہ غم خوار ہو گئے پردے کی ...

مزید پڑھیے

غزل میں درد کے احساس کو جگائے بغیر

غزل میں درد کے احساس کو جگائے بغیر ہنر میں آتا نہیں دل پہ چوٹ کھائے بغیر تلاش کرتا ہوا پھر رہا ہوں برسوں سے کہاں گیا مرا بچپن مجھے بتائے بغیر نہ جانے کون سی دنیا میں لوگ جیتے ہیں خیال و خواب کی دنیا کوئی بسائے بغیر کئی ستارے بڑے بد نصیب ہوتے ہیں وہ ڈوب جاتے ہیں پلکوں پہ ...

مزید پڑھیے

درد لیں گے نہ ہم دوا لیں گے

درد لیں گے نہ ہم دوا لیں گے اپنے حصے کی کچھ سزا لیں گے بات وہ جو کبھی ہوئی ہی نہیں ہم اسی بات کا مزا لیں گے لوگ ویسے بھی آزماتے ہیں لوگ ایسے بھی آزما لیں گے کانچ سا دل کہاں پہ رکھو گے لوگ پتھر اگر اٹھا لیں گے تم بھی سورج کو سامنے رکھنا ہم بھی اپنے دیے جلا لیں گے وہ اگر بن گیا ...

مزید پڑھیے

دے کے وہ سارے اختیار مجھے

دے کے وہ سارے اختیار مجھے اور کرتا ہے شرمسار مجھے زخم ترتیب دے رہا ہوں میں اور کچھ وقت دے ادھار مجھے پارسائی کا زعم ہے ان کو کہہ رہے ہیں گناہ گار مجھے ضد پہ آؤں تو توڑ لوں تارے مت سمجھ راہ کا غبار مجھے فاصلے اب سمٹ نہیں سکتے اب پرایوں میں کر شمار مجھے دل کے گلشن میں تم چلے ...

مزید پڑھیے

زندگی راستے بدل رہی ہے

زندگی راستے بدل رہی ہے موت بھی اپنی چال چل رہی ہے یا الٰہی تعلقات کی خیر دوستی حاشیے پہ چل رہی ہے چاند مصروف ہے خلاؤں میں روشنی ذائقے بدل رہی ہے ہنس کے منظور کر لیا ہے مگر بات اب بھی ذرا سی کھل رہی ہے بے یقینی کی اک ردا اوڑھے زندگی ساتھ ساتھ چل رہی ہے بد گمانی کا احتمال تو ...

مزید پڑھیے

جب ہم دونوں جدا ہوئے تھے

جب ہم دونوں جدا ہوئے تھے اس نے پہنی سرما کی راتوں میں نکلے چاند کی ساڑی میں نے پہنا اپنی بن باسی کا چولا اس نے مانگی دھوپ جو برفوں پر چمکی تھی اور ہنسی کے دریا میں بہتے ہوئے ہم تک پہنچی تھی میں نے مانگی گھاس میں گری ہوئی آواز اس کے ہاتھ میں آٹھ پہر کے خواب کا چھوٹا بچہ تھا میرے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

دن پھیلا ہے

بانسری کی دھن سے چاول کی بالی تک دن پھیلا ہے اور درانتی والے ہاتھ میں اس کا دامن جیسے ملاحوں کے ہاتھ میں جال ہو یا پھر گھوڑ سوار کے ہاتھ میں اس کی راسیں دن پھیلا ہے دہی بلونے کی آواز سے جامن کے پیڑوں تک چوڑیاں پہننے والے ہاتھ میں اس کا دامن کھنچتے کھنچتے اوڑھنی بن جائے گا دن پھیلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4953 سے 6203