وصل کی تو کبھی فرقت کی غزل لکھتے ہیں
وصل کی تو کبھی فرقت کی غزل لکھتے ہیں ہم تو شاعر ہیں محبت کی غزل لکھتے ہیں پڑھیے ان کو کسی کاغذ پہ نہیں سرحد پر اپنے خوں سے جو شہادت کی غزل لکھتے ہیں رہنما اپنے وطن کے بھی ہیں کتنے شاطر وہ شہادت پہ سیاست کی غزل لکھتے ہیں تم نے مزدور کے چھالے نہیں دیکھے شاید اپنے ہاتھوں پہ وہ محنت ...