ان کا جشن سال گرہ
اک مجمع رنگیں میں وہ گھبرائی ہوئی سی بیٹھی ہے عجب ناز سے شرمائی ہوئی سی آنکھوں میں حیا لب پہ ہنسی آئی ہوئی سی ہونٹوں پہ فدا روح بہار و گل و نسریں آنکھوں کی چمک رو کش بزم مہ و پرویں پیراہن زر تار میں اک پیکر سیمیں لہریں سی وہ لیتا ہوا اک پھول کا سہرا سہرے میں جھمکتا ہوا اک چاند سا ...