قومی زبان

ان کا جشن سال گرہ

اک مجمع رنگیں میں وہ گھبرائی ہوئی سی بیٹھی ہے عجب ناز سے شرمائی ہوئی سی آنکھوں میں حیا لب پہ ہنسی آئی ہوئی سی ہونٹوں پہ فدا روح بہار و گل و نسریں آنکھوں کی چمک رو کش بزم مہ و پرویں پیراہن زر تار میں اک پیکر سیمیں لہریں سی وہ لیتا ہوا اک پھول کا سہرا سہرے میں جھمکتا ہوا اک چاند سا ...

مزید پڑھیے

عشرت تنہائی

میں کہ مے خانۂ الفت کا پرانا مے خوار محفل حسن کا اک مطرب شیریں گفتار ماہ پاروں کا ہدف زہرہ جبینوں کا شکار نغمہ پیرا و نواسنج و غزل خواں ہوں میں کتنے دلکش مرے بت خانۂ ایماں کے صنم وہ کلیساؤں کے آہو وہ غزالان حرم میں ہمہ شوق و محبت وہ ہمہ لطف و کرم مرکز مرحمت محفل خوباں ہوں ...

مزید پڑھیے

نوجوان سے

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر ترے خرام میں ہے زلزلوں کا راز نہاں ہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کر صدائے تیشۂ مزدور ہے ترا نغمہ تو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا کر بہت لطیف ہے اے دوست تیغ کا بوسہ یہی ہے جان جہاں اس میں آب پیدا کر ترے قدم پہ نظر آئے محفل ...

مزید پڑھیے

نذر دل

اپنے دل کو دونوں عالم سے اٹھا سکتا ہوں میں کیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میں کون تم سے چھین سکتا ہے مجھے کیا وہم ہے خود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میں دل میں تم پیدا کرو پہلے مری سی جرأتیں اور پھر دیکھو کہ تم کو کیا بنا سکتا ہوں میں دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے ...

مزید پڑھیے

اعتراف

اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو میں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو چمن دہر میں روح چمن آرائی ہو طلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو بنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے خاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نے شعلہ زاروں ...

مزید پڑھیے

مہمان

آج کی رات اور باقی ہے کل تو جانا ہی ہے سفر پہ مجھے زندگی منتظر ہے منہ پھاڑے زندگی خاک و خون میں لتھڑی آنکھ میں شعلہ ہائے تند لیے دو گھڑی خود کو شادماں کر لیں آج کی رات اور باقی ہے چلنے ہی کو ہے اک سموم ابھی رقص فرما ہے روح بربادی بربریت کے کاروانوں سے زلزلے میں ہے سینۂ گیتی ذوق ...

مزید پڑھیے

مجبوریاں

میں آہیں بھر نہیں سکتا کہ نغمے گا نہیں سکتا سکوں لیکن مرے دل کو میسر آ نہیں سکتا کوئی نغمے تو کیا اب مجھ سے میرا ساز بھی لے لے جو گانا چاہتا ہوں آہ وہ میں گا نہیں سکتا متاع سوز و ساز زندگی پیمانہ و بربط میں خود کو ان کھلونوں سے بھی اب بہلا نہیں سکتا وہ بادل سر پہ چھائے ہیں کہ سر سے ...

مزید پڑھیے

نوجوان خاتون سے

حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا خود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھا تری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہے تو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا تری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میں اسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھا یہ تیرا زرد رخ یہ خشک لب یہ وہم یہ وحشت تو ...

مزید پڑھیے

ساقی

مری مستی میں بھی اب ہوش ہی کا طور ہے ساقی ترے ساغر میں یہ صہبا نہیں کچھ اور ہے ساقی بھڑکتی جا رہی ہے دم بدم اک آگ سی دل میں یہ کیسے جام ہیں ساقی یہ کیسا دور ہے ساقی وہ شے دے جس سے نیند آ جائے عقل فتنہ پرور کو کہ دل آزردۂ تمییز لطف‌‌ و جور ہے ساقی کہیں اک رند اور واماندۂ افکار ...

مزید پڑھیے

خانہ بدوش

بستی سے تھوڑی دور چٹانوں کے درمیاں ٹھہرا ہوا ہے خانہ بدوشوں کا کارواں ان کی کہیں زمین نہ ان کا کہیں مکاں پھرتے ہیں یوں ہی شام و سحر زیر آسماں دھوپ اور ابر و بار کے مارے ہوئے غریب یہ لوگ وہ ہیں جن کو غلامی نہیں نصیب اس کارواں میں طفل بھی ہیں نوجواں بھی ہیں بوڑھے بھی ہیں مریض بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4869 سے 6203