قومی زبان

آج کی رات

دیکھنا جذب محبت کا اثر آج کی رات میرے شانے پہ ہے اس شوخ کا سر آج کی رات اور کیا چاہئے اب اے دل مجروح تجھے اس نے دیکھا تو بہ انداز دگر آج کی رات پھول کیا خار بھی ہیں آج گلستاں بہ کنار سنگریزے ہیں نگاہوں میں گہر آج کی رات محو گلگشت ہے یہ کون مرے دوش بدوش کہکشاں بن گئی ہر راہ گزر آج کی ...

مزید پڑھیے

تعارف

خوب پہچان لو اسرار ہوں میں جنس الفت کا طلب گار ہوں میں عشق ہی عشق ہے دنیا میری فتنۂ عقل سے بیزار ہوں میں خواب عشرت میں ہیں ارباب خرد اور اک شاعر بیدار ہوں میں چھیڑتی ہے جسے مضراب الم ساز فطرت کا وہی تار ہوں میں رنگ نظارۂ قدرت مجھ سے جان رنگینئ کہسار ہوں میں نشۂ نرگس خوباں مجھ ...

مزید پڑھیے

طفلی کے خواب

طفلی میں آرزو تھی کسی دل میں ہم بھی ہوں اک روز سوز و ساز کی محفل میں ہم بھی ہوں دل ہو اسیر گیسوئے عنبر سرشت میں الجھے انہیں حسین سلاسل میں ہم بھی ہوں چھیڑا ہے ساز حضرت سعدیؔ نے جس جگہ اس بوستاں کے شوخ عنادل میں ہم بھی ہوں گائیں ترانے دوش ثریا پہ رکھ کے سر تاروں سے چھیڑ ہو مہ کامل ...

مزید پڑھیے

ایک غمگین یاد

مرے پہلو بہ پہلو جب وہ چلتی تھی گلستاں میں فراز آسماں پر کہکشاں حسرت سے تکتی تھی محبت جب چمک اٹھتی تھی اس کی چشم خنداں میں خمستان فلک سے نور کی صہبا چھلکتی تھی مرے بازو پہ جب وہ زلف شب گوں کھول دیتی تھی زمانہ نکہت خلد بریں میں ڈوب جاتا تھا مرے شانے پہ جب سر رکھ کے ٹھنڈی سانس لیتی ...

مزید پڑھیے

ہمارا جھنڈا

شیر ہیں چلتے ہیں دراتے ہوئے بادلوں کی طرح منڈلاتے ہوئے زندگی کی راگنی گاتے ہوئے آج جھنڈا ہے ہمارے ہاتھ میں ہم وہ ہیں جو بے رخی کرتے نہیں ہم وہ ہیں جو موت سے ڈرتے نہیں ہم وہ ہیں جو مر کے بھی مرتے نہیں آج جھنڈا ہے ہمارے ہاتھ میں چین سے محلوں میں ہم رہتے نہیں عیش کی گنگا میں ہم ...

مزید پڑھیے

پردہ اور عصمت

جو ظاہر نہ ہو وہ لطافت نہیں ہے جو پنہاں رہے وہ صداقت نہیں ہے یہ فطرت نہیں ہے مشیت نہیں ہے کوئی اور شے ہے یہ عصمت نہیں ہے صبا اور گلستاں سے دامن کشیدہ نوائے فسوں خیز اور ناشنیدہ تجلیٔ رخسار اور نا دمیدہ کوئی اور شے ہے یہ عصمت نہیں ہے سر رہ گزر چھپ چھپا کر گزرنا خود اپنے ہی جذبات ...

مزید پڑھیے

بول! اری او دھرتی بول!

بول! اری او دھرتی بول! راج سنگھاسن ڈانواڈول بادل بجلی رین اندھیاری دکھ کی ماری پرجا ساری بوڑھے بچے سب دکھیا ہیں دکھیا نر ہیں دکھیا ناری بستی بستی لوٹ مچی ہے سب بنیے ہیں سب بیوپاری بول! اری او دھرتی بول! راج سنگھاسن ڈانواڈول کلجگ میں جگ کے رکھوالے چاندی والے سونے والے دیسی ہوں یا ...

مزید پڑھیے

آہنگ نو

اے جوانان وطن روح جواں ہے تو اٹھو آنکھ اس محشر نو کی نگراں ہے تو اٹھو خوف بے حرمتی و فکر زیاں ہے تو اٹھو پاس ناموس نگاران جہاں ہے تو اٹھو اٹھو نقارۂ افلاک بجا دو اٹھ کر ایک سوئے ہوئے عالم کو جگا دو اٹھ کر ایک اک سمت سے شبخون کی تیاری ہے لطف کا وعدہ ہے اور مشق جفا کاری ہے محفل زیست پہ ...

مزید پڑھیے

بربط شکستہ

اس نے جب کہا مجھ سے گیت اک سنا دو نا سرد ہے فضا دل کی آگ تم لگا دو نا کیا حسین تیور تھے کیا لطیف لہجہ تھا آرزو تھی حسرت تھی حکم تھا تقاضا تھا گنگنا کے مستی میں ساز لے لیا میں نے چھیڑ ہی دیا آخر نغمۂ و فا میں نے یاس کا دھواں اٹھا ہر نوائے خستہ سے آہ کی صدا نکلی بربط شکستہ سے

مزید پڑھیے
صفحہ 4868 سے 6203