زہراب حسن
حسن اک کیف جاودانی ہے اور جو چیز ہے وہ فانی ہے حسن کے دن بھی کیف پرور ہیں حسن کی رات بھی سہانی ہے حسن کی صبح اک شکست جمیل حسن کی شام کامرانی ہے یہ کچھ افسانۂ تخیل ہے کچھ حقیقت کی ترجمانی ہے کچھ ترے حسن کا کرشمہ ہے کچھ مری طبع کی روانی ہے
حسن اک کیف جاودانی ہے اور جو چیز ہے وہ فانی ہے حسن کے دن بھی کیف پرور ہیں حسن کی رات بھی سہانی ہے حسن کی صبح اک شکست جمیل حسن کی شام کامرانی ہے یہ کچھ افسانۂ تخیل ہے کچھ حقیقت کی ترجمانی ہے کچھ ترے حسن کا کرشمہ ہے کچھ مری طبع کی روانی ہے
شاعر ہوں اور امیں ہوں عروس سخن کا میں کرنل نہیں ہوں خان بہادر نہیں ہوں میں کرنل سہی میں خان بہادر سہی مجازؔ اب دوستوں کی ضد ہے تو شاعر نہیں ہوں میں
میکدہ چھوڑ کے میں تیری طرف آیا ہوں سرفروشوں سے میں باندھے ہوئے صف آیا ہوں لاکھ ہوں مے کش آوارہ و آشفتہ مزاج کم سے کم آج تو شمشیر بکف آیا ہوں
زندگی ساز دے رہی ہے مجھے سحر و اعجاز دے رہی ہے مجھے اور بہت دور آسمانوں سے موت آواز دے رہی ہے مجھے
پھر خبر گرم ہے وہ جان وطن آتا ہے پھر وہ زندانیٔ زندان وطن آتا ہے وہ خراب گل و ریحان وطن آتا ہے مصر سے یوسف کنعان وطن آتا ہے ''کوئی معشوق بصد شوکت و ناز آتا ہے سرخ بیرق ہے سمندر میں جہاز آتا ہے'' رند بے کیف کو تھی بادہ و ساغر کی تلاش ناظر منظر فطرت کو تھی منظر کی تلاش ایک بھونرے کو خزاں ...
سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوں یہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوں ہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہے کلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہے جو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہے اس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ...
وہ نوخیز نورا وہ اک بنت مریم وہ مخمور آنکھیں وہ گیسوئے پر خم وہ ارض کلیسا کی اک ماہ پارہ وہ دیر و حرم کے لیے اک شرارہ وہ فردوس مریم کا اک غنچۂ تر وہ تثلیث کی دختر نیک اختر وہ اک نرس تھی چارہ گر جس کو کہیے مداوائے درد جگر جس کو کہیے جوانی سے طفلی گلے مل رہی تھی ہوا چل رہی تھی کلی کھل ...
اک ننھی منی سی پجارن پتلی بانہیں پتلی گردن بھور بھئے مندر آئی ہے آئی نہیں ہے ماں لائی ہے وقت سے پہلے جاگ اٹھی ہے نیند ابھی آنکھوں میں بھری ہے ٹھوڑی تک لٹ آئی ہوئی ہے یوں ہی سی لہرائی ہوئی ہے آنکھوں میں تاروں کی چمک ہے مکھڑے پہ چاندی کی جھلک ہے کیسی سندر ہے کیا کہیے ننھی سی اک سیتا ...
مجھے شکوہ نہیں دنیا کی ان زہرہ جبینوں سے ہوئی جن سے نہ میرے شوق رسوا کی پذیرائی مجھے شکوہ نہیں ان پاک باطن نکتہ چینوں سے لب معجزنما نے جن کے مجھ پر آگ برسائی مجھے شکوہ نہیں تہذیب کے ان پاسبانوں سے نہ لینے دی جنہوں نے فطرت شاعر کو انگڑائی مجھے شکوہ نہیں دیر و حرم کے آستانوں ...
نہیں ہر چند کسی گمشدہ جنت کی تلاش اک نہ اک خلد طرب ناک کا ارماں ہے ضرور بزم دو شنبہ کی حسرت تو نہیں ہے مجھ کو میری نظروں میں کوئی اور شبستاں ہے ضرور مٹ کے برباد جہاں ہو کے سبھی کچھ کھو کے بات کیا ہے کہ زیاں کا کوئی احساس نہیں کار فرما ہے کوئی تازہ جنون تعمیر دل مضطر ابھی اماجگۂ یاس ...