قومی زبان

یہی جو تیرے مرے دل کی راجدھانی تھی

یہی جو تیرے مرے دل کی راجدھانی تھی یہیں کہیں پہ تری اور مری کہانی تھی یہیں کہیں پہ عدو نے پڑاؤ ڈالا تھا یہیں کہیں پہ محبت نے ہار مانی تھی عجیب ساعت بے رنگ میں تو بچھڑا تھا کہ دل لہو تھا مرا اور نہ آنکھ پانی تھی مکاں بدلتے ہوئے ریزہ ریزہ کر ڈالے پرانے خواب تھے تصویر بھی پرانی ...

مزید پڑھیے

اگر یقین نہ رکھتے گمان تو رکھتے

اگر یقین نہ رکھتے گمان تو رکھتے ہم اپنے ہونے کا کوئی نشان تو رکھتے تمام دن جو کڑی دھوپ میں سلگتے ہیں یہ پیڑ سر پہ کوئی سائبان تو رکھتے ہماری بات سمجھ میں تو ان کی آ جاتی ہم اپنے ساتھ کوئی ترجمان تو رکھتے ہمیں سفر کا خسارہ پسند تھا ورنہ مسافرت کی تھکن سر پہ تان تو رکھتے مشاہدات ...

مزید پڑھیے

گونگوں کو زبان کس نے دی ہے

گونگوں کو زبان کس نے دی ہے آخر یہ اذان کس نے دی ہے رکھا ہے روا یہ ظلم کس نے ظالم کو امان کس نے دی ہے پھولوں کو اسیر کس نے رکھا خوشیوں کو اڑان کس نے دی ہے منشور ہوا لکھا ہے کس نے مٹی کو اٹھان کس نے دی ہے اس دشت میں جیت کس کی ٹھہری اس جنگ میں جان کس نے دی ہے مقروض ہوئی ہیں میری ...

مزید پڑھیے

سفر بھی جبر ہے ناچار کرنا پڑتا ہے

سفر بھی جبر ہے ناچار کرنا پڑتا ہے عدو کو قافلہ سالار کرنا پڑتا ہے گلے میں ڈالنی پڑتی ہیں دھجیاں اپنی اور اپنی دھول کو دستار کرنا پڑتا ہے بنانا پڑتا ہے سوچوں میں اک محل اور پھر خود اپنے ہاتھ سے مسمار کرنا پڑتا ہے نجانے کون سی مجبوریاں ہیں جن کے لیے خود اپنی ذات سے انکار کرنا ...

مزید پڑھیے

خود کو کسی کی راہگزر کس لیے کریں

خود کو کسی کی راہگزر کس لیے کریں تو ہم سفر نہیں تو سفر کس لیے کریں جب تو نے ہی نگاہ میں رکھا نہیں ہمیں اب اور کسی کے ذہن میں گھر کس لیے کریں کیوں تجھ کو یاد کر کے گنوائیں حسین شام پلکوں کو تیرے نام پہ تر کس لیے کریں منسوب جاں ہو اور کوئی پیکر خیال کر سکتے ہیں یہ کام مگر کس لیے ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھار بھی کب سائباں کسی نے دیا

کبھی کبھار بھی کب سائباں کسی نے دیا نہ ہاتھ سر پہ بجز آسماں کسی نے دیا نثار میں تری یادوں کی چھتریوں پہ نثار نہ اس طرح کا کبھی سائباں کسی نے دیا ہمارے پاؤں بھی اپنے نہیں ہیں اور سر بھی زمیں کہیں سے ملی آسماں کسی نے دیا بکا تھا کل بھی تو اک ذہن چند سکوں میں سند کسی کو ملی امتحاں ...

مزید پڑھیے

نقادوں پر لعنت!

’’میں متواتر کئی سالوں سے شعر کہہ رہا ہوں اور اردو شاعری میں کامیاب تجربے کرچکا ہوں ۔ میرے متعدد منظوم شاہکار اردو ادب میں ایک تاریخی اضافے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود جب یہ نقاد حضرات اردو شاعروں کا جائزہ لیتے ہیں تو مجھے نظر انداز کردیتے ہیں ۔‘‘ سلام مچھلی شہری ...

مزید پڑھیے

مجلس وعظ میں مجاز

مجاز اپنی نیم دیوانگی کی حالت میں ایک بار کسی مجلس وعظ میں پہنچ گئے ۔ ان کے کسی جاننے والے نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا: ’’حضرت مجاز! آپ اور یہاں؟‘‘ ’’جی ہاں...‘‘مجاز نے بہت سنجیدگی سے جواب دیا ۔ ’’آدمی کو بگڑتے کیا دیر لگتی ہے بھائی ۔‘‘

مزید پڑھیے

ساغر کا انگوٹھا

ایک مشاعرے کے اختتام پر جب ساغر نظامی کو اصل طے شدہ معاوضہ سے کم رقم دی گئی اور اس کی رسید ان کے سامنے رکھی گئی تو وہ اسے دیکھتے ہی ایک دم پھٹ پڑے۔’’میں اس پر دستخط نہیں کرسکتا۔‘‘ اتنے میں مجاز وہاں آئے ۔ انہوں نے یہ جملہ سنا تو نہایت معصومیت سے منتظم کو مشورہ دینے ...

مزید پڑھیے

گھڑی ساز محبوبہ

مجاز ایک مشاعرہ میں نظم سنانے کے لئے کھڑے ہوئے ۔بمبئی کے ایک سیٹھ جو ان کے پرستار تھے ، ان کے ذہن میں مجازکی نظم’’نرس‘‘ کا یہ مصرعہ تھا مگر نظم کا عنوان یاد نہ تھا ۔ ’کبھی سوز تھی وہ کبھی ساز تھی وہ‘ چنانچہ سیٹھ صاحب نے فرمائش کرتے ہوئے کہا: ’’مجازصاحب ! اپنی وہ نظم سنائیے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4862 سے 6203