قومی زبان

ردائے وقت میں بس ماہ و سال بنتے ہوئے

ردائے وقت میں بس ماہ و سال بنتے ہوئے اک عمر کاٹ دی تیرا خیال بنتے ہوئے یہ رنگ اس کا پسندیدہ رنگ تھا ماہی میں آج رونے لگا ایک شال بنتے ہوئے اسی زمین کو ترتیب سے بنانا ہے ندی کے دھاگوں سے شہروں کی کھال بنتے ہوئے مجھے تڑپتی اڑانوں کی یاد آتی ہے تمہیں بھی یاد کچھ آتا ہے جال بنتے ...

مزید پڑھیے

زندگی میں خوشی نہیں آئی

زندگی میں خوشی نہیں آئی یہ صبا اس گلی نہیں آئی آپ کو نظم کر نہیں پایا ہاں مجھے شاعری نہیں آئی بات کہنے کا ڈھنگ سوچ لیا بات کہنی کبھی نہیں آئی بس کو روکے ہوئے تھے دوست مرے اور وہ باوری نہیں آئی لوگ صدیوں کے درد کاٹ گئے پر شب آخری نہیں آئی ہوش میں گھومتے ہو سڑکوں پر تم کو آوارگی ...

مزید پڑھیے

جہاں جہاں پر قدم رکھو گے تمہیں ملے گی وہیں اداسی

جہاں جہاں پر قدم رکھو گے تمہیں ملے گی وہیں اداسی یہ راز کچھ اس طرح سمجھ لو مکاں مرا ہے مکیں اداسی سمے کی آنکھوں سے دیکھیے تو ہر ایک کھنڈر میں چھپے ملیں گے کہیں پہ بچپن کہیں جوانی کہیں بڑھاپا کہیں اداسی مرے شبستاں کے پاس کوئی بری طرح کل سسک رہا تھا میں اس کے سینے سے لگ کے بولا ...

مزید پڑھیے

دل ہمارا ہو گیا ویران صحرا کی طرح

دل ہمارا ہو گیا ویران صحرا کی طرح مر گیا پیاسا یہاں ہر خواب چڑیا کی طرح اس کا اپنی ہی روانی پر نہیں ہے اختیار زندگی شیو کی جٹاؤں میں ہے گنگا کی طرح ہر مقدمہ دے رہا ہے جسم پر کوڑے ہزار میں عدالت میں رکھا ہوں پاک گیتا کی طرح یا تو کوئی چاہنے والا یہاں میرا نہ ہو اور کوئی ہو تو ہو ...

مزید پڑھیے

سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام

سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام ہر سر میں ہے رنگ دھنک کا تیرے نام جنگل جنگل اڑنے والے سب موسم اور ہوا ہے سبز دوپٹہ تیرے نام ہجر کی شام اکیلی رات کے خالی در صبح فراق کا زرد اجالا تیرے نام تیرے بنا جو عمر بتائی بیت گئی اب اس عمر کا باقی حصہ تیرے نام ان شاعر آنکھوں نے جتنے رنگ ...

مزید پڑھیے

طلسم اسم محبت ہے درپئے در دل

طلسم اسم محبت ہے درپئے در دل کوئی بتائے اب اس کا کرے تو کیا کرے دل فسون جنبش مژگاں نہ پوچھیے سر راہ پکارتے ہی رہے ہم ارے ارے ارے دل پھر اس کے بعد ہمیں یہ بھی تو نہیں رہا یاد نظر گری ہے کہاں کھو گیا کہاں زر دل قدم قدم پہ ترا غم ہے خیمہ زن مری جاں ہمک بھرے بھی تو آخر بتا کہاں بھرے ...

مزید پڑھیے

آنکھ کی دہلیز سے اترا تو صحرا ہو گیا

آنکھ کی دہلیز سے اترا تو صحرا ہو گیا قطرۂ خوں پانیوں کے ساتھ رسوا ہو گیا خاک کی چادر میں جسم و جاں سمٹتے ہی نہیں اور زمیں کا رنگ بھی اب دھوپ جیسا ہو گیا ایک اک کر کے مرے سب لفظ مٹی ہو گئے اور اس مٹی میں دھنس کر میں زمیں کا ہو گیا تجھ سے کیا بچھڑے کہ آنکھیں ریزہ ریزہ ہو گئیں آئنہ ...

مزید پڑھیے

آئنہ توڑ دے رہا کر دے

آئنہ توڑ دے رہا کر دے بے وفا اک یہی وفا کر دے رشتۂ درد توڑ دے دل سے رنگ کو پھول سے جدا کر دے زندگی بھر تجھی کو چاہا ہے قرض کچھ تو مرا ادا کر دے دے رہا ہے زکات حسن اگر مرے حق سے ذرا بڑھا کر دے مدتیں ہو گئیں تجھے دیکھے اب تو ملنے کا سلسلہ کر دے پھر کوئی گل کھلے سر مژگاں پھر در خواب ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی دن نہ کوئی رات انتظار کی ہے

نہ کوئی دن نہ کوئی رات انتظار کی ہے کہ یہ جدائی بھروسے کی اعتبار کی ہے جو خاک اڑی ہے مرے دکھ سمیٹ لیں گے اسے جو بچھ گئی سر منظر وہ رہ گزار کی ہے وہ وصل ہو کہ کھلے آئنے پہ عکس جمال یہ آرزو ہے مگر بات اختیار کی ہے اسی کا نام ہے وحشت سرائے جاں میں چراغ اسی کے لمس میں دھڑکن دل فگار کی ...

مزید پڑھیے

سوچوں میں لہو اچھالتے ہیں

سوچوں میں لہو اچھالتے ہیں ہم اپنی تہوں میں جھانکتے ہیں دنیا کی ہزار نعمتوں میں ہم ایک تجھی کو جانتے ہیں آنکھوں سے دکھوں کے رنگ آخر سارس کی اڑان اڑ گئے ہیں ساون کی طرح ہمیں بھگو کر بادل کی طرح گزر گئے ہیں یوں بھی ہے کہ پیار کے نشے میں کچھ سوچ کے لوگ رو پڑے ہیں وہ دکھ تو خوشی کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4810 سے 6203