قومی زبان

لذت غم

گو گلستان جہاں پر میری نظریں کم پڑیں اور پڑیں بھی تو خدا شاہد بہ چشم نم پڑیں کر رہی تھی فصل گل جب راز قدرت آشکار جب اگلتی تھی زمیں گنجینہ ہائے پر بہار خون کے آنسو بھرے تھے دیدۂ نمناک میں مختلف شکلیں تھیں غم کی چہرۂ غم ناک میں فطرتاً دل میں نہ تھا میرے کبھی ارمان عیش بند کر لیتا ...

مزید پڑھیے

آتش خاموش

سر چشمۂ اخلاق وفا کیش و وفا کوش اے مشرق اشراق صفا ابر خطا پوش یوں تیرے دل صاف میں اشراق محبت جس طرح کہ لو صبح کو دے در نیا گوش میں کون ہوں اک دل ہوں جسے ضبط نے مارا کر دے گی فنا مجھ کو مری کوشش خاموش وہ دل ہوں عبارت جو ہے نظم ابدی سے اک خون کا نقطہ ہوں میں پر معنی و پرجوش جبریل مرے ...

مزید پڑھیے

میرؔ

شاہد بزم سخن ناظورۂ معنی طراز اے خدائے ریختہ پیغمبر سوز و گداز یوسف ملک معانی پیر کنعان سخن ہے تری ہر بیت اہل درد کو بیت الحزن اے شہید جلوۂ معنی فقیر بے نیاز اس طرح کس نے کہی ہے داستان سوز و ساز ہے ادب اردو کا نازاں جس پہ وہ ہے تیری ذات سر زمین شعر پر اے چشمۂ آب حیات تفتہ دل آشفتہ ...

مزید پڑھیے

بچپنے کی یاد

اے بچپنے کی دنیا تو یاد آ رہی ہے دل سے مری صدائے فریاد آ رہی ہے راحت سنا رہی تھی افسانہ سلطنت کا تھی ماں کی گود مجھ کو کاشانہ سلطنت کا وہ گھر کہ دور جس سے تھی گردش زمانہ آزادیوں کا میری آباد آشیانہ پھرتی ہے اب نظر میں تصویر اس مکاں کی عرش بریں سے بہتر تھی سرزمیں جہاں کی نازک مزاج بن ...

مزید پڑھیے

مآل دوستی کہیے حدیث مہوشاں کہیے

مآل دوستی کہیے حدیث مہوشاں کہیے ملے دل سے ذرا فرصت تو دل کی داستاں کہیے مگر اس خامشی سے اہل دل کا کچھ بھرم تو ہے جو کچھ کہیے تو ساری عمر کی محرومیاں کہیے غم دل اولیں دور تمنا کی امانت ہے نوید عیش اگر سنیے نصیب دشمناں کہیے جو رکھ لے خستگی کی شرم ایسی برق رحمت ہے گرے جو آشیاں سے ...

مزید پڑھیے

ہلاکت دل ناشاد رائیگاں بھی نہیں

ہلاکت دل ناشاد رائیگاں بھی نہیں نگاہ دوست میں اب کوئی امتحاں بھی نہیں تلاش دیر و حرم کا مآل کیا کہیے سکوں یہاں بھی نہیں ہے سکوں وہاں بھی نہیں تری نگاہ نے کھولا معاملہ دل کا نظر زباں نہیں رکھتی پہ بے زباں بھی نہیں اسی کو سارے زمانے سے ہم چھپائے رہے وہ ایک بات زمانے سے جو نہاں ...

مزید پڑھیے

سر پر مرے عمر بھر رہی دھوپ

سر پر مرے عمر بھر رہی دھوپ جس سمت چلا ادھر چلی دھوپ کم ایسی وطن میں بھی نہ تھی دھوپ غربت میں بلائے جاں بنی دھوپ ماں ہے نہ یہاں شجر ہے کوئی تا حد نگاہ دھوپ ہی دھوپ برسوں سے لٹک رہی ہے سر پر خنجر کی طرح کھنچی ہوئی دھوپ یادوں کے نہاں کدے میں چمکی تتلی کے پروں پہ ناچتی دھوپ اک روپ ...

مزید پڑھیے

بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوں

بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوں سکون کی صبح چاہتا تھا سو شام وحشت میں آ بسا ہوں میں اپنی انگشت کاٹتا تھا کہ بیچ میں نیند آ نہ جائے اگرچہ سب خواب کا سفر تھا مگر حقیقت میں آ بسا ہوں وصال فردا کی جستجو میں نشاط امروز گھٹ رہا ہے یہ کس طلب میں گھرا ہوا ہوں یہ کس اذیت میں ...

مزید پڑھیے

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں ایک نگاہ کا سناٹا ہے اک آواز کا بنجر پن میں کتنا تنہا بیٹھا ہوں قربت کے ویرانے میں آج اس پھول کی خوشبو مجھ میں پیہم شور مچاتی ہے جس نے بے حد عجلت برتی کھلنے اور مرجھانے میں ایک ملال کی گرد ...

مزید پڑھیے

وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا

وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا میں نے اک وصل کو اک ہجر کی حالت لکھا میں نے لکھا کہ صف دل کبھی خالی نہ ہوئی اور خالی جو ہوئی بھی تو ملامت لکھا یہ سفر پاؤں ہلانے کا نہیں آنکھ کا ہے میں نے اس باب میں رکنے کو مسافت لکھا لکھنے والوں نے تو ہونے کا سبب لکھا ہے میں نے ہونے کو نہ ہونے کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4790 سے 6203