جو یہاں حاضر ہے وہ مثل گماں موجود ہے
جو یہاں حاضر ہے وہ مثل گماں موجود ہے اور جو غائب ہے اس کی داستاں موجود ہے اے غبار خواہش یک عمر اپنی راہ لے اس گلی میں تجھ سے پہلے اک جہاں موجود ہے اب کسی انبوہ گم گشتہ کی جانب ہو سفر اور کوئی چپکے سے کہہ دے تو کہاں موجود ہے شاید آ پہنچا ہے عہد انتظار گفتگو چار جانب خلقت لب بستگاں ...