قومی زبان

میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا

میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا رزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا ایک خوش فہم کو روتے ہوئے دیکھا میں نے ایک بے رحم کو اندر سے پگھلتے دیکھا روز پلکوں پہ گئی رات کو روشن رکھا روز آنکھوں میں گئے ...

مزید پڑھیے

شام آئی تو کوئی خوش بدنی یاد آئی

شام آئی تو کوئی خوش بدنی یاد آئی مجھے اک شخص کی وعدہ شکنی یاد آئی مجھے یاد آیا کہ اک دور تھا سرگوشی کا آج اسی دور کی اک کم سخنی یاد آئی مسند نغمہ سے اک رنگ تبسم ابھرا کھلکھلاتی ہوئی غنچہ دہنی یاد آئی لب جو یاد آئے تو بوسوں کی خلش جاگ اٹھی پھول مہکے تو مجھے بے چمنی یاد آئی پھر ...

مزید پڑھیے

خرابی

خرابی کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا یہ بتانا ہے مشکل کہاں زخم کھائے کہاں سے ہوئے وار یہ بھی دکھانا ہے مشکل کہاں ضبط کی دھوپ میں ہم بکھرتے گئے اور کہاں تک کوئی صبر ہم نے سمیٹا سنانا ہے مشکل خرابی بہت سخت جاں ہے ہمیں لگ رہا تھا یہ ہم سے الجھ کر کہیں مر چکی ہے مگر اب جو دیکھا تو یہ شہر ...

مزید پڑھیے

اپنے دکھ درد کا افسانہ بنا لایا ہوں

اپنے دکھ درد کا افسانہ بنا لایا ہوں ایک اک زخم کو چہرے پہ سجا لایا ہوں دیکھ چہرے کی عبارت کو کھرچنے کے لیے اپنے ناخن ذرا کچھ اور بڑھا لایا ہوں بے وفا لوٹ کے آ دیکھ مرا جذبۂ عشق آنسوؤں سے تری تصویر بنا لایا ہوں میں نے اک شہر ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن اس شہر کو آنکھوں میں بسا ...

مزید پڑھیے

سکوت اس کا ہے صبر جمیل کی صورت

سکوت اس کا ہے صبر جمیل کی صورت میں جس کے لب پہ تھا سحر طویل کی صورت کسی کو میری ضرورت نہیں سو بے مصرف گڑا ہوا ہوں کسی گھر میں کیل کی صورت میں رہتا خیمۂ جاں اب کہاں یہ نسب کروں چٹخ رہا ہے بدن خشک جھیل کی صورت اتر گیا ہے پیمبر کوئی مرے اندر ٹھہر گیا ہوں میں دریائے نیل کی صورت

مزید پڑھیے

خاک اڑاتے ہوئے یہ معرکہ سر کرنا ہے

خاک اڑاتے ہوئے یہ معرکہ سر کرنا ہے اک نہ اک دن ہمیں اس دشت کو گھر کرنا ہے یہ جو دیوار اندھیروں نے اٹھا رکھی ہے میرا مقصد اسی دیوار میں در کرنا ہے اس لیے سینچتا رہتا ہوں میں اشکوں سے اسے غم کے پودے کو کسی روز شجر کرنا ہے تیری یادوں کا سہارا بھی نہیں ہے منظور عمر بھر ہم کو اکیلے ہی ...

مزید پڑھیے

زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے

زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے جیسے کوئی جنگ ہاری جا رہی ہے جس جگہ پہلے کے زخموں کے نشاں میں پھر وہیں پر چوٹ ماری جا رہی ہے وقت رخصت آب دیدہ آپ کیوں ہیں جسم سے تو جاں ہماری جا رہی ہے بول کر تعریف میں کچھ لفظ اس کی شخصیت اپنی نکھاری جا رہی ہے دھوپ کے دستانے ہاتھوں میں پہن کر برف ...

مزید پڑھیے

دل میں حسرت کوئی بچی ہی نہیں

دل میں حسرت کوئی بچی ہی نہیں آگ ایسی لگی بجھی ہی نہیں اس نے جب خود کو بے نقاب کیا پھر کسی کی نظر اٹھی ہی نہیں جیسا اس بار کھل کے روئے ہم ایسی بارش کبھی ہوئی ہی نہیں زندگی کو گلے لگاتے کیا زندگی عمر بھر ملی ہی نہیں منتظر کب سے چاند چھت پر ہے کوئی کھڑکی ابھی کھلی ہی نہیں میں جسے ...

مزید پڑھیے

دل کشتۂ نظر ہے محروم گفتگو ہوں

دل کشتۂ نظر ہے محروم گفتگو ہوں سمجھو مرے اشارے میں سرمہ در گلو ہوں مدت سے کھو گیا ہوں سرگرم جستجو ہوں اپنا ہی مدعا ہوں اپنی ہی آرزو ہوں صورت سوال ہوں میں پوچھو نہ میرا مطلب میں اپنے مدعا کی تصویر ہو بہ ہو ہوں ہے دل میں جوش حسرت رکتے نہیں ہیں آنسو رستی ہوئی صراحی ٹوٹا ہوا سبو ...

مزید پڑھیے

عشق جو معراج کا اک زینہ ہے

عشق جو معراج کا اک زینہ ہے یہ ہمارا مذہب پارینہ ہے اب تو خود بینی عبادت ہو گئی رات دن پیش نظر آئینہ ہے واعظ اب بھی جرم ہے کیا مے کشی چاندنی ہے اور شب آدینہ ہے جب سے زلفوں کا پڑا ہے اس میں عکس دل مرا ٹوٹا ہوا آئینہ ہے سر بہ مہر داغ کرتے ہیں عزیزؔ دل ہمارا عشق کا گنجینہ ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4789 سے 6203