قومی زبان

کر دیا قیس نے لیلیٰ سے تقاضا ھٰذا

کر دیا قیس نے لیلیٰ سے تقاضا ھٰذا نام اب کر دو مرے خود ہی پلازا ھٰذا خواب میں آ کے چڑیلیں اسے سمجھاتی ہیں مت ملو اتنا بھی رخسار پہ غازہ ھٰذا اس نے پوچھا کہ مجھے گفٹ میں کیا دو گے تم تھام کر دل کو میں کہنے لگا ھٰذا ھٰذا صاحب خانہ سے کہنے لگا با ذوق ڈکیت قبل از ڈاکہ غزل دیکھیے تازہ ...

مزید پڑھیے

وہ حسب شہر کر لیتا ہے مسلک میں بھی تبدیلی

وہ حسب شہر کر لیتا ہے مسلک میں بھی تبدیلی کراچی میں جو سنی ہے وہ پنڈی میں وہابی ہے پیاز اپنی وہ لے جائیں سخن کی ورکشاپوں میں وہ جن کی شاعری کے رنگ پسٹن میں خرابی ہے اکٹھا کر نہ دیں جاناں ہمیں حالات ہی اک دن تمہارے پاس تالا ہے ہمارے پاس چابی ہے

مزید پڑھیے

ملتے جلتے ہیں یہاں لوگ ضرورت کے لئے

ملتے جلتے ہیں یہاں لوگ ضرورت کے لئے ہم ترے شہر میں آئے ہیں محبت کے لئے وہ بھی آخر تری تعریف میں ہی خرچ ہوا میں نے جو وقت نکالا تھا شکایت کے لئے میں ستارہ ہوں مگر تیز نہیں چمکوں گا دیکھنے والے کی آنکھوں کی سہولت کے لئے تم کو بتلاؤں کہ دن بھر وہ مرے ساتھ رہا ہاں وہی شخص جو مشہور ہے ...

مزید پڑھیے

پڑھیے سبق یہی ہے وفا کی کتاب کا

پڑھیے سبق یہی ہے وفا کی کتاب کا کانٹے کرا رہے ہیں تعارف گلاب کا کیسا یہ انتشار دیوں کی صفوں میں ہے کچھ تو اثر ہوا ہے ہوا کے خطاب کا یہ طے کیا جو میں نے جنوں تک میں جاؤں گا یہ مرحلہ اہم ہے مرے اضطراب کا مانا بہت حسین تھا وہ عمر کا پڑاؤ قصہ مگر نہ چھیڑئیے عہد شباب کا اظہرؔ کہیں سے ...

مزید پڑھیے

نیند پلکوں پہ یوں رکھی سی ہے

نیند پلکوں پہ یوں رکھی سی ہے آنکھ جیسے ابھی لگی سی ہے اپنے لوگوں کا ایک میلہ ہے اپنے پن کی یہاں کمی سی ہے خوب صورت ہے صرف باہر سے یہ عمارت بھی آدمی سی ہے میں ہوں خاموش اور مرے آگے تیری تصویر بولتی سی ہے چارہ سازو مرا علاج کرو آج کچھ درد میں کمی سی ہے

مزید پڑھیے

داغ چہرے کا یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے

داغ چہرے کا یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے آئنہ ضد میں مگر توڑ دیا جاتا ہے تیری شہرت کے پس پردہ مرا نام بھی ہے تیری لغزش سے مجھے جوڑ دیا جاتا ہے کوئی کردار ادا کرتا ہے قیمت اس کی جب کہانی کو نیا موڑ دیا جاتا ہے اک توازن جو بگڑتا ہے کبھی روح کے ساتھ شیشۂ جسم وہیں پھوڑ دیا جاتا ہے

مزید پڑھیے

زیست عنوان تیرے ہونے کا

زیست عنوان تیرے ہونے کا دل کو ایمان تیرے ہونے کا مجھ کو ہر سمت لے کے جاتا ہے ایک امکان تیرے ہونے کا آ گیا وقت میرے بعد آخر اب پریشان تیرے ہونے کا آنکھ منظر بناتی رہتی ہے یعنی سامان تیرے ہونے کا میرا ہونا بھی ایک پہلو ہے ہاں مری جان تیرے ہونے کا

مزید پڑھیے

سلسلہ یوں بھی روا رکھا شناسائی کا

سلسلہ یوں بھی روا رکھا شناسائی کا کوئی رشتہ تو رہے آنکھ سے بینائی کا تبصرہ خوب یہاں تیر کی رفتار پہ ہے تذکرہ کون کرے زخم کی گہرائی کا محترم کہہ کے مجھے اس نے پشیمان کیا کوئی پہلو نہ ملا جب مری رسوائی کا تنگ آ کر تری یادوں کو پرے جھٹکا ہے مرثیہ کون پڑھے روز کی تنہائی کا اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4770 سے 6203